لندن میں بیٹھا ہوا ہے یہ اداکار اور ڈرامے باز شخص ….اس کو اپنے مہاجر کارکنان کی آہ وبکا کبھی سنائی نہیں دی اس کو پھانسی گھاٹ پہ بیٹھا ہوا صولت مرزا اور اس کی روتی ہوئی بیوی دکھائی نہیں دی اس کو ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ کینسر کی مریض دکھائی نہیں دی اس کو عمران خان دکھائی دے رہا ہے اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے عمران خان کے فالوورز کو 'چ' بنانا
@MRZ005@srfrosh1@ZKhan090
صوبہ، صوبہ کرتے کرتے ہم تھک گئے ہیں، کوئی ہمیں سنجیدگی سے کیوں نہیں لیتا؟ منفرد اور جعفری کی رانبھیں مار مار کر چیخیں نکل رہی ہیں۔ 😜 @AliFahimp@Adljaferi
ایک ایک پہلو پر غور کرو فکر کرو سوچو
سندھ دھرتی کے پاسں کیا کیا خزانے ہیں
تو پھر وہ کون ھے جو مہاجروں اور سندھیوں کا دشمن ھے
وہ کون ھے جو تمھارا حق کھا رھا ھے
اور چاھتا سندھ کے مستقل باشندے آپس میں لڑتے رھیں
@srfrosh1@Sufiya0204@TariqAz87844470@TheRebel_99
@AliFahimp پھر پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا گیا 😀 آصف زرداری پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کروائی گئی۔
رحمان ملک بغل بچہ بنا 😀
سودے ہوئے شہیدوں کے اسیروں کے اور مکافات عمل سامنے ہیں۔
آج ٹک ٹاک پر یوتھئیوں سے خطاب کرتے ہیں بس۔ 😀
@srfrosh1@TheRebel_99@HussianSyed1
بریکنگ نیوز ‼️‼️‼️
لندن کے حاضر سروس ذمہ دار کے مطابق پی ٹی آئی اور اس کے کارکنان کو روحانی باپ کا درجہ دے دیا گیا
الطاف نذیر نے اس فیصلے کی توثیق کر��ی
اوورسیز کے ذمہ داران اور سوشل میڈیا ٹیم کو ھدایت جاری
@TOKCityOfLights
@ZarayeNews
@SafinaKhann
۔
صوبہ وائرس کے شکار ان ٹٹ پونچیوں کی حالت بھی قابلِ رحم ہے ڈی جی، کبھی محسن نقوی اور کبھی عمران نیازی سے امیدیں باندھ کر ایسے بھنگڑے ڈالنا شروع کر دیتے ہیں جیسے بس اب صوبہ دروازے پر دستک دینے والا ہے
میرا کہنا ہے کہ کوئی نہ کوئی بڑی مہارت سے ان کی #پھرکی_لے_رہا_ہے@TOKCityOfLights
@srfrosh1@TOKCityOfLights@ZarayeNews@SafinaKhann عنقریب انکل الطاف پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کرنے والے ہیں۔
کیوں کہ اپنی قوم کے لئیے تو کچھ کر نہیں سکے اور نہ ہی قوم اب گھاس ڈالتی ہے۔
بس ٹک ٹاک لائف زندہ باد چلے گا، وجہ پی ٹی آئی کے زیادہ سپورٹر ٹک ٹاک پر ہیں۔
تو پیسہ ہی پیسہ ہوگا 😀
کیا آپکے علم میں الطاف نذیر نے اپنے سوتلے بھائی اور اور بھتیجے کی قاتل جماعت پیپلز پارٹی سے اتحاد کیا وزارتیں پکڑی اپنی طلاق سیٹلمنٹ کروائی مگر کبھی اپنے بھائی ، بھتجے کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ نہیں کیا کسی عدالت میں نہیں گیا
جبکہ یہ اچھی طرح قاتلوں کو انکے ناموں کو جانتا
محترم الطاف حسین بھائی،
میں آپ سے متفق ہوں، ا��ر مزید برآں اس حوالے سے ایک تاریخی پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔
اسٹینلی وولپرٹ اپنی معروف کتاب Jinnah of Pakistan میں تحریکِ پاکستان کے عروج کا ذکر کرتے ہوئے مسلم اقلیتی صوبوں کے کردار کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔ خود محمد علی جناح نے بھی ان مسلمانوں کے کردار کو ان الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا تھا:
“Don’t forget the Minority Provinces. It is they who have spread the light when there was darkness in the majority Provinces.”
یعنی: ’’اقلیتی صوبوں کو مت بھولیے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے اُس وقت روشنی پھیلائی جب اکثریتی صوبوں میں اندھیرا تھا۔‘‘
یہیں ایک عجیب تاریخی سوال جنم لیتا ہے۔
اگر روشنی انہی علاقوں سے پھوٹی تھی، اگر یوپی، بہار، سی پی، بمبئی اور ہندوستان کے دوسرے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے تحریکِ پاکستان کو آواز، قوت اور سیاسی توانائی دی، تو پھر پاکستان بنا تو وہی لوگ پاکستان سے باہر کیوں رہ گئے؟
جغرافیہ کو ایک لمحے کے لیے ایک طرف رکھ دیجیے۔ میرا سوال جغرافیے کا نہیں، تاریخ، سیاست اور اس تحریک کے داخلی تضاد کا ہے۔
محمد علی جناح سے بھی تاریخ کی عدالت میں یہ سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ اگر آپ کے اپنے الفاظ میں روشنی انہی اقلیتی صوبوں سے پھوٹی تھی، تو پھر آپ اس روشنی کو وہیں چھوڑ کر کیوں آگئے؟ جس تحریک کو ان لوگوں نے اپنی آواز، سیاسی جدوجہد اور قربانیوں سے طاقت دی، اس کے نتیجے میں بننے والی ریاست کے احاطے میں وہ خود کیوں نہ آسکے؟
م��کن ہے اس کے بہت سے سیاسی اور عملی جوابات ہوں، مگر سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔
کیسا عجیب تاریخی المیہ ہے کہ جن لوگوں نے چراغ جلایا، چراغ ان کے گھروں میں نہ جلا؛ جن علاقوں سے روشنی پھوٹی، پاکستان کا نقشہ انہی علاقوں سے باہر بن گیا۔
شاید برصغیر کی تقسیم کی پوری داستان میں اس سے زیادہ تلخ اور غور طلب سوال بہت کم ہوں گے:
روشنی جہاں سے اٹھی، پاکستان وہاں کیوں نہ بنا؟
اورنگی ٹاؤن میں راہ چلتی خاتون سے نازیبا حرکت کرنے والے ملزم کو پاکستان بازار پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔ ایس ایس پی ویسٹ طارق الہی مستوئی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ملزم کو راہگیر خاتون سے نازیبا حرکات کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، پولیس نے ویڈیو کی مدد سے ملزم کی شناخت کے بعد اویس ولد جمیل کو آئس سمیت گرفتار کیا۔ طارق الہی مستوئی نے بتایا کہ گرفتار ملزم نے اعتراف کیا کہ مذکورہ واقعہ 21 اگست 2026 کو اورنگی سیکٹر 15 اےکے قریب پیش آیا تھا جبکہ گرفتار م��زم کے خلاف ضابطے کے مطابق مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
#TOKAlert #Karachi
بلوچستان میں ج��نا ظلم ہو راہا ہے۔ شاید اب اس وقت دنیا کے کسی خطے میں نہیں ہو راہا. کل FC والے اور پولیس پاؤں پر گولیاں چلاتی رہی ہے۔ لیکن میڈیا یہ سب رپورٹ کیوں نہیں کرتا۔۔؟؟؟
اس لیے ہمیں پاکستانی ہونے کا کوئی حق نہیں ہے. ہمیں ہمارے حقوق دیے جائیں۔
لندن میں بیٹھا ہوا یہ اداکار اور ڈرامے باز شخص اس کو اپنے مہاجر کارکنان کی اہیں بقا کبھی سنائی نہیں دی اس کو پھانسی گھاٹ پہ بیٹھا ہوا سہولت مرزا اور اس کی روتی ہوئی بیوی دکھائی نہیں دی گئی اس کو ڈاکٹر عمران فاروق کی بیوہ کینسر کی مریض دکھائی نہیں دی گئی اس کو عمران خان دکھائی دے رہا ہے اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے عمران خان کے فالوورز کو 'چ' بنانا
اس شخص کو اچھی طرح دیکھ لیں اس دو نمبری الطاف نے 45 سال اقتدار کے مزے لوٹے
خوب نوٹ کمایا
لاکھوں لوگ مروا ڈالے
اب یہ سستی شہرت اور ٹک ٹوک کی آمدنی کی خاطر ڈرامہ کررہا ھے