پشاور کے ایک نواحی گاؤں میں جنازے کی رسم تبدیل
ایک غریب شخص کا جنازہ جب جنازہ گاہ پہنچا اور صفیں درست ہوئیں، تو امام صاحب نے شرکاء سے مخاطب ہو کر ایک دل سوز اعلان کیا انہوں نے کہاکہ یہ میت جس کا ہم جنازہ پڑھنے لگے ہیں، اپنے گھر کا واحد کفیل اور سہارا تھا۔ سوگواران میں صرف ایک بیوہ اور تین چھوٹے بچے ہیں۔ عدت کے ایام میں ان کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ لہذا، جنازہ گاہ کے مرکزی دروازے پر ایک چادر بچھا دی گئی ہے۔ جو بھی صاحبِ توفیق بغیر کسی دکھلاوے کے، اللہ کی رضا کے لیے ایک روپے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق جتنی رقم دے سکتا ہے، وہ وہاں ڈال دے۔ جنازہ کے بعد جب چادر سے رقم جمع کی گئی تو وہ ایک لاکھ روپے سے زائد کی تھی۔ کسی کے 10 روپے تھے تو کسی کے 100، لیکن اس مشترکہ ہمدردی نے یتیم بچوں کے لیے کئی مہینوں کا معاشی سکون فراہم کر دیا۔ تعزیت صرف ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کا نام نہیں، بلکہ دکھ کی گھڑی میں عملی سہارا بننے کا نام ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر کوئی پودا لگائے اور اس سے کسی انسان، پرندے یا جانور کو فائدہ پہنچے، تو لگانے والے کو اس کا بھی ثواب ملتا رہتا ہے۔ جنت کا آسان راستہ خلقِ خدا کی خدمت میں چھپا ھوا ہے۔
کاپی
🔴 سینیٹر گراہم:
اگر مغرب ایران کو فنڈ فراہم کرتا ہے، تو یہ ایسے ہوگا جیسے نازیوں کے اقتدار میں رہتے ہوئے مارشل پلان نافذ کیا جائے۔
اگر سنی عرب ایسا کرتے ہیں، تو اس کا مطلب ہوگا کہ ایران بدل گیا ہے۔
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات ایران میں سرمایہ کاری کریں گے جبکہ وہ ایک تھیوکریسی ہے جو سنی اسلام کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے؟
پولینڈ میں دو تین جگہوں پہ کل ایسے ہوا ہے کہ چھٹیوں کی وجہ سے گھر کے باہر بچوں نے لیموں کے پانی کا سٹال لگایا تھا اور وہ لیموں پانی بیچ رہے تھے۔
اور دنیا میں سڑیل ہمسائیے ہر جگہ ہوتے ہیں سو یہاں بھی کسی ہمسائے نے پولیس کو کال کر دی کہ یہ بچے غیر قانونی طور پر چیزیں بیچ رہے ہیں۔ جس پر پولیس نے آکر اُن بچوں سے نا صرف وہ سارا لیموں پانی اپنے ذاتی پیسوں سے خرید لیا بلکہ اُن بچوں کو شاباش بھی دی کہ آپ کاروباری سوچ رکھ کر بہت اچھا کر رہے ہیں۔
یہ خبر کل سے پولش میڈیا پر وائرل ہے اور پولیس کے اس رویے پر ہر کوئی شاباش دے رہا ہے کہ سڑیل ہمسائیوں کی بات ماننے کی بجائے بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا بہت اچھی کاؤش ہے۔
🚨ایرانی تیل پر امریکی کانگرس نے سخت نوٹس لے لیا "ٹرمپ کی آڈیو چلا کرپوچھا گیا"
سائکس : مسٹر سیکرٹری کیا آپکو معلوم ہے کہ امریکہ ایران سے لاکھوں بیرل تیل چوری کر رہا ہے ؟
رائٹ : میرا خیال ہے وہ ایسے ہی بات کر رہے ہیں
سائکس : تو پھرکیا ٹرمپ جھوٹ بول رہے ہیں؟
رائٹ : مجھے معلوم نہیں
🚨 یہ ہر اخبار کے صفحہ اول پر کیوں نہیں ہے؟
(Should be Headline)
اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی نوجوان کو کنکریٹ کے نیچے دفن کر دیا انہوں نے اس ظُلم کے ساتھ انسانیت کے وجود کو ہی مٹانے کی کوشش کی ہے۔
بھارت ،،، پاکستان اور ابنگلا دیش میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنےمیں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔۔ اردو بنگلا کے مطابق بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کا جاسوس سرحد کےقریب بارودیسرنگیں بچھا رہا تھا جس کو بنگلادیش کی سیکیورٹی فورسز نے رنگےھاتھوں گرفتار کرلیا
اسلامی تاریخ میں سعودی محقق:
200 سال پہلے، عراق میں ایک بھی شیعہ نہیں تھا۔
شیعہ مذہب عربوں کے لیے نا مناسب ہے کیونکہ عرب آزاد ہیں،
عزت نفس اور وقار کے مالک ہیں، اور شیعہ مذہب میں پائی جانے والی رسومات اور توہین کو قبول نہیں کرتے۔
🚨 بریکنگ: اسرائیل کے البریج پناہ گزین کیمپ پر فضائی حملے میں سائیکل پر جا رہا ایک فلسطینی جاں بحق ہوگیا۔
ایک انسان کی سائیکل بھی نشانہ بن گئی...
غزہ میں شہریوں کے لیے اب کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی۔
یہ آپ کی بیٹی نہیں ہے لیکن وہ اسی عزت کی مستحق ہے جیسے ہمارے گھر میں بیٹیاں ہیں انکے لیے ایسے ہی آواز اُٹھانے کی ضرورت ہے جیسے اپنے بچے کو تکلیف دینے والے کے خلاف ہم اُٹھاتے ہیں۔فلسطین کے بارے میں بات کرنا بند نہ کریں
والد کو تھپڑ مارنے کا واقعہ دیکھ کر پاکستانی خاتون کا غصہ بھڑک اٹھا اور اس نے دو افراد کے سامنے ہتھیار اٹھا لیا، مگر آخری لمحے میں والد نے مداخلت کرکے معاملہ مزید بگڑنے سے بچا لیا۔
ہاہا۔۔۔اک شاندار چائنیز قول ذریں، احباب کے لیے:
تمھارا سامنا جب کسی تلوار باز سے ہو تو اسے شاعری مت سناؤ۔ اپنی تلوار نکال کر اس کا مقابلہ کرو اور شاعری، کسی شاعر کے لیے بچا رکھو۔
فیشن ایبل گفتگو جو بھی ہو، پاکستانی ریاست کو کلاسیکی انداز میں اپنے مفاد کے لیے ماکیاویلئن بنے بغیر گزارا ممکن نہیں۔
اسرائیل کے اپاچی ہیلی کاپٹروں نے غزہ کی بندرگاہ پر بمباری کی۔
بندرگاہ کے ساتھ قطار در قطار لگے سینکڑوں خیموں میں رہنے والے شہری اس حملے کا نشانہ بنے، جبکہ حملے میں زندہ بچ جانے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
اور دنیا اب بھی اسے "نازک جنگ بندی" کہتی ہے۔
یہ جنگ بندی نہیں؛
بلکہ موت کا ایسا نظام ہے جہاں بم کچھ وقفوں کے بعد دوبارہ بولنے لگتے ہیں۔
ساؤتھ آفریقہ میں حالات تیزی سے بدتر سے بدتر ہورہے ہیں..!
30 جون تک ساؤتھ افریقہ سے نا نکلے تو تمھیں ان ہتھیاروں سے قتل کریں گے۔ ساؤتھ افریقہ کے مقامی لوگ سر عام ہتھیاروں کی وڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں۔
اس وقت عملی طور پر وہاں حکومت ختم ہے، ہر طرف لوٹ مار اور قتل و غارت ہے۔
ہائے افسوس اس زمین پر یہ اللہ کے عظیم لوگ ہیں دنیا والے انھیں کیوں نہیں جینے دیتے یہ زمین پر پڑی گڑیا نہیں ہے۔
یہ ایک غزہ کا بچہ ہے جسے اسرائیلی قابض فوج نے شہید کر دیا۔اللهم فرج كربهم، وفك قيدهم، وردهم إلى أهلهم سالمين.
آمين
اگرچہ فلسطینی بچی تمہاری اپنی بیٹی نہیں ہے، پھر بھی وہ عزت، ہمدردی اور انسانی احترام کی مستحق ہے۔ فلسطین کے مسئلے پر بات کرنا جاری رکھو، اور اگر دنیا اس معاملے کو نظر انداز بھی کرنے لگے تو تم اسے نہ بھولو۔ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچاؤ تاکہ فلسطینیوں کی آواز زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے
فلسطینی شہری: "میرے پاس دستاویزات ہیں، یہ میرا گھر ہے۔"
• اسرائیلی وزیر بن گویر: "مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ 2 گھنٹوں کے اندر یہاں سے چلے جاؤ، ورنہ مار دیے جاؤ گے۔"
کیا اس ظلم کو دیکھنے اور خاموش رہنے والی انسانیت بھی اس ظلم میں شریک نہیں سمجھی جائے گی؟