Pakistani Form-47 Govt is a Regime, of the Army, for the Army by the Army! Indian Response to Shahbaz Sharif in United Nations. Embarrassing! Painful! But so True!
کونٹینٹ بنانا کراچی والوں پر ختم ہے۔ کونٹئنٹ پر جتنا شاندار کام کراچی کے لڑکے کرتے ہیں، اس کا کسی اور شہر سے تقابل ممکن نہیں۔ یہ چھ منٹ کی ویڈیو کراچی کی مکمل کہانی ہے۔ اسے دیکھیں اور داد دیں ان نوجوانوں کو۔ کراچی کے دکھوں کو کس قدر خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔
موجودہ حالات میں عوام کی رہنمائی کے لیے آج تک کا سب سے طاقتور پیغام
اس ویڈیو پیغام کو ہر پاکستانی تک پہنچانا چاہیے۔ تمام محب وطن پاکستانی اس پیغام کو ہر طرف پھیلانے میں اپنا کردار ادا کریں
ایک سے بڑھ کر ایک AI videos آرہی ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک concept videos گولی مت چلانا کے ٹاپک پر آرہی ہیں۔ ساری ٹرک کی بتیاں عسکری صحافیوں کی بجھا کر واپس کر رہے ہیں ۔ قاسم اور سلیمان تو تھے ہی میدان میں اب @KhanShershah اور @Shahrez_KhanPK بھی میدان میں ہیں۔ کل ورٹول جلسے میں شاہریز نے وہ سب کیا جو علیمہ خان، ڈاکٹرعظمیٰ اور نورین نیازی کیا کرتی تھی۔ انصافینز کے سگنیچر بیانیے بھی عروج پر ہیں، ہر کوئی اپنا بیسٹ دے رہا ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ سوشل میڈیا از آن فائر 🔥 ماشاءاللہ
سلام ہے تمام ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کو
منزل قریب ہے انشاءاللہ!
“ہمارے تین مطالبات ہیں:
26ویں آئینی ترمیم کا خاتمہ اور آئین کی بحالی
مینڈیٹ کی واپسی
تمام بےگناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی
24 نومبر کا احتجاج نہ مؤخر ہو گا نہ معطل ہو گا-
آج علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر نے احتجاج کی تیاریوں پر بریفنگ دی- میں اپنے پارٹی عہدیداران، ممبران اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز، ورکرز اور سپورٹرز کو یہ ہدایت کرتا ہوں کہ احتجاج کی جامع منصوبہ بندی کریں اور اپنے حلقے اور علاقے کے لوگوں کو اس کے حوالے سے مکمل آگہی دے کر ایک بھرپور لیکن پرامن احتجاج کے لیے تیار کریں۔
ہم ملک کی خاطر ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں- جس دن احتجاج کی کال دی تھی اسی دن لیڈرشپ کمیٹی بھی تشکیل دے دی تھی- مذاکرات جب کرنے ہونگے جس سے بھی کرنے ہوں گے، ہینڈلرز جس کسی کو آگے کریں گے ہماری لیڈرشپ کمیٹی ان سے ہمارے تین مطالبات کے مطابق مذاکرات کرے گی- اگر مسائل مذاکرات سے حل ہوتے ہیں تو اسے اچھی بات کیا ہوسکتی ہے!!
ملک میں کئی دہائیوں بعد نظریاتی سیاست واپس آگئی ہے- 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کراکے نظریاتی سیاست کا جنازہ نکالا گیا تھا اور تب سے سیاست میں پیسہ چلنا شروع ہوا، غیر جماعتی بنیادوں پر سیاست ہوئی اور ممبران اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز ملنے شروع ہوئے- 8 فروری کے بعد تحریک انصاف بطورِ نظریاتی جماعت ابھر کر سامنے آئی ہے- لوگوں نے پارٹی ٹکٹ اور نظریے کو ووٹ دیا ہے- الیکٹیبلز کی سیاست ختم ہونا خوش آئند بات ہے- تحریک انصاف کے تمام لوگ پارٹی ٹکٹ پر جیتے ہیں کیونکہ یہ نظریے کی لڑائی تھی- میں خود بھی نظریے کی وجہ سے جیل میں ہوں-
ڈاکٹر یاسمین راشد ایک بیان دیتیں تو وہ بھی عندلیب عباس کی طرح باہر آ جاتیں، شاہ محمود قریشی ایک بیان دیتے تو وہ بھی باہر آ سکتے تھے، عمر سرفراز چیمہ، اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت ہمارے لیڈرز اور کارکنان بھی آسان راستے کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن انہوں نے نظریے کا سودا کرنے سے انکار کیا- اب ہماری جماعت انقلابی جماعت بن چکی ہے، انقلاب ہی ملک کو مسائل اور دلدل سے نکال سکتا ہے-
24 نومبر کو جو باہر نہ نکلا وہ پارٹی سے باہر ہو جائے گا، پارٹی میں چاہے کوئی کتنا بھی پرانا ہو، باہر نہ نکلا تو اسکی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہوگی- یہ احتجاج ٹیسٹ ہے پارٹی اور پارٹی لیڈرز کیلئے- مطالبات کی منظوری تک احتجاج اسلام آباد سے واپس نہیں جائے گا!“
سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے وکلأ اور صحافیوں سے گفتگو
🚨🚨اگر آپ نے اب تک کمپنی کا بائیکاٹ نہیں کیا تو آپ کے لیے عمران خان کا وہ جملہ ہے ۔
بائیکاٹ نہ کرنے والے اور روکنے والے بیغیرت ہیں ۔
کمپنی کی معاشی حالت زمین بھوس کریں ۔
میں پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہوں
میں عہد کرتا ہوں کہ میں ہر اس شخص یا ادارہ خواہ اندرونی یا بیرونی جو اس ملک کے خلاف کام کرے گا یا اس کے قانون کو توڑے گا،اس کے خلاف۔۔۔اپنی پوری قوت استعمال کرونگا- ---کیونکہ میں پاکستان کا شہری اس کا مالک اس کی بقا کا حتمی ضامن ہوں
آپ ہمیشہ کہتے ہیں کال دیں۔ اب بائیکاٹ کی کال دے دی گئی ہے۔ آپکی مدد درکار ہے۔
خان کا پورا خاندان جیل میں بند کر دیا گیا۔
خان ہم سب کے لئے غیرت سے جیل کاٹ رہا ہے۔ کیا ہم اتنا نہیں کر سکتے۔
اس بائیکاٹ کا حصہ بنیں۔