ہم کہاں سرکار جائیں آپ کے ہوتے ہوئے 💔
حال دل کس کو سنائیں آپکے ہوتے ہوئے 💔
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاخَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَالْمُرْسَلِیْنْ ﷺ
رب نوں بھل کے
رب دے بندیو
کیتن تائیں بھجو گے
اپنے ورگے بندے نوں
ہور کنا ہک پُجو گے
رب تے رب اے
اوھی سب اے
رب توں کدوں
تک بھجو گے
رب نوں بھل کے
رب دے بندیو
کیہڑے رب نوں لبھو گے
محمد عدیل احم
محسن نقوی کا نعتیہ کلام جسے بار بار پڑھنے کو دل کرتا ہے، اک بار آپ بھی ضرور پڑھیں ♥️
چہرہ ہے کہ انوارِ دو عالم کا صحیفہ
آنکھیں ہیں کہ بحرینِ تقدس کے نگیں ہیں
ماتھا ہے کہ وحدت کی تجلی کا ورق ہے
عارِض ہیں کہ ”والفجر“ کی آیت کے اَمیں ہیں
گیسو ہیں کہ ”وَاللَّیل“ کے بکھرے ہوئے سایے
ابرو ہیں کہ قوسینِ شبِ قدر کھُلے ہیں
گردن ہے کہ بَر فرقِ زمیں اَوجِ ثریا
لب، صورتِ یاقوت شعاعوں میں دُھلے ہیں
قَد ہے کہ نبوت کے خد و خال کا معیار
بازو ہیں کہ توحید کی عظمت کے عَلَم ہیں
سینہ ہے کہ رمزِ دلِ ہستی کا خزینہ
پلکیں ہیں کہ الفاظِ رُخِ لوح و قلم ہیں
باتیں ہیں کہ طُوبیٰ کی چٹکتی ہوئی کلیاں
لہجہ ہے کہ یزداں کی زباں بول رہی ہے
خطبے ہیں کہ ساون کے امنڈتے ہوئے دریا
قِرأت ہے کہ اسرارِ جہاں کھول رہی ہے
یہ دانت، یہ شیرازۂ شبنم کے تراشے
یاقوت کی وادی میں دمکتے ہوئے ہیرے
شرمندۂ تابِ لب و دندانِ پیمبرﷺ
حرفے بہ ثنا خوانی و خامہ بہ صریرے
یہ موجِ تبسم ہے کہ رنگوں کی دھنک ہے
یہ عکسِ متانت ہے کہ ٹھہرا ہوا موسم
یہ شکر کے سجدے ہیں کہ آیات کی تنزیل
یہ آنکھ میں آنسو ہیں کہ الہام کی رِم جھم
یہ ہاتھ، یہ کونین کی تقدیر کے اوراق
یہ خط، یہ خد و خالِ رُخِ مصحف و انجیل
یہ پاؤں،یہ مہتاب کی کرنوں کے مَعابِد
یہ نقشِ قدم، بوسہ گہِ رَف رَف و جبریل
یہ رفعتِ دستار ہے یا اوجِ تخیل!
یہ بندِ قبا ہے کہ شگفتِ گُلِ ناہید
یہ سایۂ داماں ہے کہ پھیلا ہوا بادل
یہ صبحِ گریباں ہے کہ خمیازۂ خورشید
یہ دوش پہ چادر ہے کہ بخشش کی گھٹا ہے
یہ مہرِ نبوت ہے کہ نقشِ دلِ مہتاب
رخسار کی ضَو ہے کہ نمو صبحِ ازل کی
آنکھوں کی ملاحت ہے کہ روئے شبِ کم خواب
ہر نقشِ بدن اتنا مناسب ہے کہ جیسے
تزئینِ شب و روز کہ تمثیلِ مہ و سال
ملبوسِ کہن یوں شکن آلود ہے جیسے
ترتیب سے پہلے رُخِ ہستی کے خد و خال
رفتار میں افلاک کی گردش کا تصور
کردار میں شامل بنی ہاشم کی اَنا ہے
گفتار میں قرآں کی صداقت کا تیقُّن
معیار میں گردُوں کی بلندی کفِ پا ہے
وہ فکر کہ خود عقلِ بشر سَر بگریباں
وہ فقر کہ ٹھوکر میں ہے دنیا کی بلندی
وہ شکر کہ خالق بھی ترے شکر کا ممنون
وہ حُسن کہ یوسفؑ بھی کرے آئینہ بندی
وہ علم کہ قرآں تِری عِترت کا قصیدہ
وہ حِلم کہ دشمن کو بھی امیدِ کرم ہے
وہ صبر کہ شبیرؑ تری شاخِ ثمردار
وہ ضبط کہ جس ضبط میں عرفانِ اُمُم ہے
محسن نقوی
"خوابوں کے بیوپاری"
احمد فراز
ہم خوابوں کے بیوپاری تھے
پر اس میں ہوا نقصان بڑا
کچھ بخت میں ڈھیروں کالک تھی
کچھ اب کے غضب کا کال پڑا
ہم راکھ لیے ہیں جھولی میں
اور سر پہ ہے ساہوکار کھڑا
یاں بوند نہیں ہے ڈیوے میں
وہ باج بیاج کی بات کرے
ہم بانجھ زمین کو تکتے ہیں
وہ ڈھور اناج کی بات کرے
ہم کچھ دن کی مہلت مانگیں
وہ آج ہی آج کی بات کرے
جب دھرتی صحرا صحرا تھی
ہم دریا دریا روئے تھے
جب ہاتھ کی ریکھائیں چپ تھیں
اور سر سنگیت میں سوئے تھے
تب ہم نے جیون کھیتی میں
کچھ خواب انوکھے بوئے تھے
کچھ خواب سجل مسکانوں کے
کچھ بول کبت دیوانوں کے
کچھ لفظ جنہیں معنی نہ ملے
کچھ گیت شکستہ جانوں کے
کچھ نیر وفا کی شمعوں کے
کچھ پر پاگل پروانوں کے
پر اپنی گھائل آنکھوں سے
خوش ہو کے لہو چھڑکایا تھا
ماٹی میں ماس کی کھاد بھری
اور نس نس کو زخمایا تھا
اور بھول گئے پچھلی رت میں
کیا کھویا تھا کیا پایا تھا
ہر بار گگن نے وہم دیا
اب کے برکھا جب آئے گی
ہر بیج سے کونپل پھوٹے گی
اور ہر کونپل پھل لائے گی
سر پر چھایا چھتری ہوگی
اور دھوپ گھٹا بن جائے گی
جب فصل کٹی تو کیا دیکھا
کچھ درد کے ٹوٹے گجرے تھے
کچھ زخمی خواب تھے کانٹوں پر
کچھ خاکستر سے کجرے تھے
اور دور افق کے ساگر میں
کچھ ڈولتے ڈوبتے بجرے تھے
اب پاؤں کھڑاؤں دھول بھری
اور جسم پہ جوگ کا چولا ہے
سب سنگی ساتھی بھید بھرے
کوئی ماسہ ہے کوئی تولا ہے
اس تاک میں یہ اس گھات میں وہ
ہر اور ٹھگوں کا ٹولا ہے
اب گھاٹ نہ گھر دہلیز نہ در
اب پاس رہا ہے کیا بابا
بس تن کی گٹھری باقی ہے
جا یہ بھی تو لے جا بابا
ہم بستی چھوڑے جاتے ہیں
تو اپنا قرض چکا بابا
جناب خالد ندیم شانی کی مشہور غزل
بزبانِ شاعر
خط کے چھوٹے سے تراشے میں نہیں آئیں گے
غم زیادہ ہیں لفافے میں نہیں آئیں گے
ہم نہ مجنوں ہیں، نہ فرہاد کے کچھ لگتے ہیں
ہم کسی دشت تماشے میں نہیں آئیں گے
مختصر وقت میں یہ بات نہیں ہو سکتی
درد اتنے ہیں خلاصے میں نہیں آئیں گے
اُس کی کچھ خیر خبر ہو تو بتاؤ یارو
ہم کسی اور دلاسے میں نہیں آئیں گے
جس طرح آپ نے بیمار سے رخصت لی ہے
صاف لگتا ہے جنازے میں نہیں آئیں گے
خالد ندیم شانی
مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں چہل قدمی کے دوران چند دن میں ایک محترمہ سے تعلق ہو گیا
اس نے کہا آپ کیا کرتے ہیں؟
میں نے کہا کتابیں لکھتا ہوں،
چنانچہ اس نے کتابیں لے کے پڑھیں ۔
اگلے ہفتے میں نے پوچھا کتاب کیسی لگی؟
بولی :"شکل سے تو آپ اتنے لُچے نہیں لگتے "۔
مسافروں کا کبھی اعتبار مت کرنا
جہاں کہا تھا وہاں انتظار مت کرنا
میں نیند ہوں مری حد ہے تمہاری پلکوں تک
بدن جلا کے مرا انتظار مت کرنا
میں بچ گیا ہوں مگر سارے خواب ڈوب گئے
مری طرح بھی سمندر کو پار مت کرنا
بہا لو اپنے شہیدوں کی قبر پر آنسو
مگر یہ حکم ہے کتبے شمار مت کرنا
ہوا عزیز ہے لیکن یہ اس کی ضد کیا ہے
تم اپنے گھر کے چراغوں کو پیار مت کرنا
یہ وقت بند دریچوں پہ لکھ گیا قیصرؔ
میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا
قیصر الجعفری
احمد خلیل کی غزل
چھوڑ جانے پہ پرندوں کی مذمت کی ہو
تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو
جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر
زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو
اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار
دل نے کچھ ٹُوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو
عمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جُھریاں اتنی
عین ممکن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو
ایسا ہمدرد تِرے بعد کہاں تھا ، جس نے
لغزشوں پر بھی مِری کُھل کے حمایت کی ہو
دل شکستہ ہے ، کوئی ایسا ہنر مند بتا
جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو
شب کے دامن میں وہی نور بھریں گے احمد
جن چراغوں نے اندھیرے سے بغاوت کی ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔
#UrduNews #urdu #urdupoetry4u #urdupoetry
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ ○
"میرے نبی ﷺ کا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا"
اَلّٰھُمَ صَلّیِ عَلّٰیٰ مُحَمَّدِ وَّآلِ مُحَمَّــدﷺ
چلو پِھر سے اُسی خُوشبُو سے مہکائیں دَہن اپنا
چلو پِھر سے درُودِ پاک کو وِردِ زُباں کر لیں💞