@HadeesNabawi سبحان اللّٰہ ❤️ سبحان اللّٰہ ❤️ سبحان اللّہ ❤️ بیشک
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ❤️
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
روزہ دوزخ سے بچنے کے لیے ایک ڈھال ہے اس لیے ( روزہ دار ) نہ فحش باتیں کرے اور نہ جہالت کی باتیں اور اگر کوئی شخص اس سے لڑے یا اسے گالی دے تو اس کا جواب صرف یہ ہونا چاہئے کہ میں روزہ دار ہوں، ( یہ الفاظ ) دو مرتبہ ( کہہ دے )۔
(صحیح بخاری،۱۸۹۴)
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی الله عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا، وہ خود مسلسل روزہ رکھا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو“۔
(یعنی سفر میں)
(جامع ترمذی : 711)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ ابن آدم کے ہر عمل ( کے ثواب ) میں اضافہ کیا جاتا ہے ، نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا بلکہ ( اس سے بھی زیادہ ) جتنا اللہ چاہے ملتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مگر روزہ ( اس قانون سے مستثنی ہے ) کیوں کہ وہ ( خالصتاً ) میرے لیے ہوتا ہے
++👇
@AaqaSAWWkiBaten اے مالکِ کُن فَیکون!
بہت مشکل میں ہوں مولا ..
تو میری غائبانہ مدد فرما... آمین
تھک چکا ہوں۔۔بے بس ھو۔۔۔
اور دعاوں کا طلبگار ھو۔۔🙏🏻🙏🏻😪😪
@AaqaSAWWkiBaten حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو میری طرح کی تخلیق کرنے لگتا ہے ، انہیں چاہیے کہ وہ ایک ذرہ یا ایک دانہ یا ایک جو تو پیدا کریں ! ‘‘ متفق علیہ ۔
Mishkat-4496
جبریل علیہ السلام ہر سال رمضان کے مہینے میں اس کے ختم ہونے تک ( روزانہ آکر ) آپ ﷺسے ملتے تھے ۔ آپﷺان کے سامنے قرآن مجید کی قراءت فرماتے اور جب حضرت جبریلؑ آپ ﷺسے آکر ملتے تو آپ ﷺخیر ( کے عطا کرنے ) میں بارش برسانے والی ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے۔
(صحیح مسلم،۶۰۰۹)
قالَ ﷺ:
سنو! کیا تم لوگوں نے سنا؟ میرے بعد ایسے حکمران ہوں گے جو ان کے پاس جائے ان کی جھوٹی باتوں کی تصدیق کرے اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے، وہ مجھ سے نہیں اور نہ میں اس سے ہوں، اور نہ وہ میرے حوض کوثر پر آئے گا.
ترمذی 2259
(نسائی 4212، 4213؛ مسند احمد 12084؛ مشکوٰۃ 3700)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
" جمعے کے دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ کو ئی مسلمان اللہ تعالیٰ سے کسی خیر کا سوال کرتے ہو ئے اس کی موافقت کرتا ہے تو اللہ تعا لیٰ اسے وہی خیر عطا کر دیتا ہے”
فرمایا یہ ایک چھوٹی سی گھڑی ہے ۔
(مسلم،کتاب الجمعہ ،۱۹۷۳)