جناب وزیر اعلی KPK @SohailAfridiISF صاحب
اگر #KPK میں جس صوبے کو ہر وقت #PTI کے لیڈران مثالی صوبہ ہونے کا دعوہ کرتے ہیں اس صوبے میں متعدد تحریری شکایات پر بھی کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوتی تو پھر شکایت وفاق سے کی جائے ؟؟ یا صوبے کے افسران CM کو اپنا CM نہیں سمجھتے ؟؟
وزیراعلیٰ آفس، CM Complaint Cell، چیف سیکرٹری KPK، ڈی جی EPA KPK , ڈپٹی کمشنر مانسہرہ، پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور محکمہ جنگلات سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الگ الگ تحریری درخواستیں دیں۔ CM Complaint Cell نے شکایت متعلقہ محکمے کو بھی بھیجی، EPA نے وزٹ بھی کیا، مگر اس کے بعد نہ کوئی قانونی کارروائی ہوئی، نہ رپورٹ دی گئی، بلکہ شکایت کو خاموشی سے Closed کر دیا گیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ EPA ایبٹ آباد کے سرکاری نمبرز تک ہمشہ سے بند ہیں، متعلقہ افسران فون اٹھانا بھی گوارا نہیں کرتے، جبکہ کاغذات میں شکایات کو نمٹا ہوا ظاہر کر دیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا EPA KPK وزیراعلیٰ کے شکایتی نظام سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکی ہے؟ اگر وزیراعلیٰ کے اپنے Complaint Cell کی ہدایات پر بھی عمل نہیں ہوتا تو پھر اس نظام کا مقصد کیا ہے؟ اگر ایک صحافی کی آواز بھی دبائی جا سکتی ہے تو عام شہری انصاف کے لیے کس دروازے پر جائے؟
کاغذی کارروائی نہیں، عملی کارروائی چاہیے۔ عوام صاف ماحول اور قانون پر عمل درآمد کا حق مانگ رہی ہے۔
@SohailAfridiISF@GovtofPakistan@DrMusadikMalik@PTIKPOfficial@PTIofficial@GovernmentKP@CSKPOfficial@dcmansehra@Epa_KP@FEWDKPGovt@HealthKPGovt
جناب وزیر اعلی KPK @SohailAfridiISF صاحب
اگر #KPK میں جس صوبے کو ہر وقت #PTI کے لیڈران مثالی صوبہ ہونے کا دعوہ کرتے ہیں اس صوبے میں متعدد تحریری شکایات پر بھی کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوتی تو پھر شکایت وفاق سے کی جائے ؟؟ یا صوبے کے افسران CM کو اپنا CM نہیں سمجھتے ؟؟
وزیراعلیٰ آفس، CM Complaint Cell، چیف سیکرٹری KPK، ڈی جی EPA KPK , ڈپٹی کمشنر مانسہرہ، پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور محکمہ جنگلات سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الگ الگ تحریری درخواستیں دیں۔ CM Complaint Cell نے شکایت متعلقہ محکمے کو بھی بھیجی، EPA نے وزٹ بھی کیا، مگر اس کے بعد نہ کوئی قانونی کارروائی ہوئی، نہ رپورٹ دی گئی، بلکہ شکایت کو خاموشی سے Closed کر دیا گیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ EPA ایبٹ آباد کے سرکاری نمبرز تک ہمشہ سے بند ہیں، متعلقہ افسران فون اٹھانا بھی گوارا نہیں کرتے، جبکہ کاغذات میں شکایات کو نمٹا ہوا ظاہر کر دیا جاتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا EPA KPK وزیراعلیٰ کے شکایتی نظام سے بھی زیادہ طاقتور ہو چکی ہے؟ اگر وزیراعلیٰ کے اپنے Complaint Cell کی ہدایات پر بھی عمل نہیں ہوتا تو پھر اس نظام کا مقصد کیا ہے؟ اگر ایک صحافی کی آواز بھی دبائی جا سکتی ہے تو عام شہری انصاف کے لیے کس دروازے پر جائے؟
کاغذی کارروائی نہیں، عملی کارروائی چاہیے۔ عوام صاف ماحول اور قانون پر عمل درآمد کا حق مانگ رہی ہے۔
@SohailAfridiISF@GovtofPakistan@DrMusadikMalik@PTIKPOfficial@PTIofficial@GovernmentKP@CSKPOfficial@dcmansehra@Epa_KP@FEWDKPGovt@HealthKPGovt
متعلقہ حکام فوری ایکشن لیکر ملزم کو گرفتار کریں!
اگر دن دیہاڑے چور ہاسٹل میں داخل ہو کر قیمتی سامان اٹھائیں اور آرام سے فرار ہو جائیں تو یہ پولیس گشت، نگرانی اور تفتیشی نظام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے.. کیا سیف سٹی کیمروں سے ملزم تک نہیں پہنچا جا سکتا یا وہ بھی ناکارہ؟
اسلام آباد میں چور بے خوف، پولیس بے خبر؟
تھانہ رمنا کی حدود، جی-10 گلی نمبر 34 میں دن دہاڑے ایک اور چوری۔ ایک بج کر 28 منٹ پر نامعلوم چور ایم ایس نیشنل ہاسٹل میں داخل ہو کر طالبعلم کا لیپ ٹاپ لے کر فرار ہوگیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ گزشتہ 6 ماہ کے دوران اسی گلی میں یہ تیسری چوری ہے۔ پہلے ہونے والی وارداتوں کی ایف آئی آرز، سی سی ٹی وی ویڈیوز اور شواہد بھی موجود ہیں، مگر آج تک ایک بھی ملزم گرفتار نہیں ہو سکا۔
اس تازہ واقعے کی ویڈیو میں بھی مبینہ چور واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ مطالبہ ہے کہ سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج فوری حاصل کرکے ملزم کو گرفتار کیا جائے۔
آخر اسلام آباد میں چور دن دہاڑے اتنی دلیری سے وارداتیں کرکے باآسانی کیسے فرار ہو جاتے ہیں؟ طلبہ، شہری اور تاجر کب تک عدم تحفظ کا شکار رہیں گے؟
اسلام آباد#IG #AliNasirRizvi ، #DIG آپریشن @DIG_Operations ,اور #SSP آپریشنز @QaziAli48795007 فوری نوٹس لیں، سیف سٹی فوٹیج کی مدد سے ملزمان کو گرفتار کریں اور تھانہ رمنا کی حدود میں بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پائیں-
@MohsinnaqviC42@ICT_Police
وزارتِ اطلاعات میں اہم تبادلے
وفاقی وزارتِ اطلاعات میں اعلیٰ سطح پر تقرریاں اور تبادلے کر دیے گئے ہیں۔ گریڈ 20 کی افسر ریئسہ عادل کو پرنسپل انفارمیشن آفیسر (PIO) تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ مبشر حسن کو ڈائریکٹر جنرل، ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ (DCD) مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران ڈی جی محمد شہزاد کا بھی تبادلہ کرتے ہوئے انہیں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) میں تعینات کر دیا گیا ہے۔
پاک فوج کے حاضر سروس میجر کی سول آرمڈ فورس میں انٹری، میجر تحسین احمد ظفر کو 2 سال کیلئے نیشنل پولیس اکیڈمی کا ڈپٹی ڈائریکٹر فزیکل تعینات کر دیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا
#PakistanArmy
#NationalPoliceAcademy
#NPA
@shahnawazk33 کنٹینرز کلیئر ہونے کا دعویٰ انتہائی سنگین ہے۔ صرف معطلی نہیں، مکمل فرانزک آڈٹ، ریکوری اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔
پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے۔اصل سوال یہ ہے کہ پہلے کلیئر ہونے والے مبینہ 400 کنٹینرز کا کیا ہوگا؟
ثالثی کا کردار ادا کرنے پر پہلا سرپرائز
ریلوے اسٹیشن تفتان کو باضابطہ طور پر لینڈ کسٹمز اسٹیشن قرار دے دیا گیا۔
یہ اقدام پاک-ایران تجارتی سرگرمیوں، درآمدات و برآمدات اور سرحدی تجارت کے فروغ میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
@FBRSpokesperson@GovtofPakistan@PakrailPK
@geonews_urdu جیونشریات بند کردی گئیں۔کیوں؟
نوٹیفکیشن کیمطابق انہوں نے یوم عاشورہ پر سفرعشق میں ناقابل قبول مذہبی تصویرکشی کی ہے،لیکن لگتا ہے معاملہ کچھ اور ہے۔27جون کو جنگ کی لیڈ،منیب کی گفتگواور بھی عوامل ہیں۔چلیں دیکھتے ہیں کیا وجہ بنی ؟
لالہ موسی شہر لاہور اور راولپنڈی کے درمیان واقع ہے۔ لاہور اور راولپنڈی میں کامیاب تجربے کے بعد پنجاب حکومت لالہ موسی کے ارد گرد بھی رنگ روڈ بنانے پر غور کر رہی ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنجاب میں بہت سے سادہ لوح لوگ غیر قانونی ہاوسنگ سوسائیٹیوں میں سرمایہ کرتے ہیں۔ اس کی وجہ جو بھی ہو، عوام کی اس سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے یا ریکوری ممکن بنانے میں متعلقہ ترقیاتی اداروں کے چیئرمینوں اور ڈویژنل کمشنروں کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔
@raeesulakhbar1 کی خصوصی رپورٹ
بھارت کی حالیہ ناکامی کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔"انڈو پیسفک" بیانیہ اپنی اہمیت کھوتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ بھارت کی علاقائی حیثیت پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں اور سفارتی منظرنامہ تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔
@PravinSawhney کیمطابق
راولپنڈی رنگ روڈ کا افتتاح اسی مہینے متوقع ہے۔ افتتاح جی ٹی روڈ پر بانٹھ کے مقام پر ہوگا۔ ضلع راولپنڈی کے گاؤں بانٹھ کا نام گوجروں کی ایک مشہور گوت (sub-caste) کے نام پر ہے۔ رنگ روڈ کے دوسرے سرے (موٹروے ایم-2) پر گوجروں کا گاؤں کٹاریاں آباد ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں
(1/2)