امریکہ نے دنیا بھر سے ریئر ارتھ منرلز نکالنے کی کوششیں اور معاہدے کئے۔ کہیں قانون نے روک دیا کہیں عوام سامنے آگئی اور کہیں سیاستدان، NGOs اور حکومتیں ڈٹ گئیں۔ وجہ یہ منرلز نکالتے وقت پھیلنے والی خوفناک تابکاری ہے جسے روکنے کا کوئی طریقہ ابتک دریافت نہیں ہوا۔
ایسے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے منرلز کا بکسہ پیش کیا اور منرلز نکالنے کے لیے دربدر امریکی کمپنیوں کو ٹرمپ لے زریعے اپنا وطن پیش کردیا۔ اور امریکی آنکھ کا تارہ بننے کی پوزیشن میں آگئے۔
اب قبائلی علاقوں سے معدنیات نکالنے کے لیے فیلڈ مارشل کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ مل چکا۔ عملدرآمد کے راستے کی آخری رکاوٹ صوبائی حکومت کو بھی گرا دیا گیا۔ کام شروع ہوا تو تابکاری پھیلے گی اور قبائلی بدترین مسائل اور دردناک خاموش موت کا شکار ہوں گے۔
امریکی کمپنیاں صرف منافع چاہتی ہیں اس لیے وہ کبھی بھی عالمی سٹینڈرڈز کا خیال نہیں رکھیں گی اور نہ ہی ان پر یہاں ایسا کوئی دباؤ ہوگا۔ ویسے بھی مہنگے پروٹوکولز بھی کچھ حد تک ہی تابکاری سے بچا سکتے ہیں اسکی تباہی کو روک نہیں سکتے۔ اگر روکنے کا کوئی طریقہ ہوتا تو امریکہ اپنے ملک، یورپ اور دیگر ممالک سے یہی منرلز نکال رہا ہوتا۔
افسوس فیلڈ مارشل کے زاتی مفاد پر مبنی ایک فیصلے نے لاکھوں قبائلیوں اور انکی نسلوں کو خطرے میں ڈال دیا۔
اب پاکستانیوں خصوصاً قبائلیوں کے پاس کیا آپشنز ہیں۔ اس غیر انسانی اور قاتل مائیننگ کے خلاف لڑنا ہوگا یا ہمیشہ کے لیے اپنے علاقوں کو چھوڑ کر کہیں بہت دور نئے گھر بنانے ہوں گے۔ یا پھر تابکاری کے ہاتھوں سسک سسک کر اپنی اور اپنے پیاروں کی جانیں دینی ہوں گی۔
ان ڈرامے بازیوں سے بہتر ہے کہ اپنی اپنی سیٹوں سے استعفے دیں اپ کی انہی ڈرامے بازیوں نے عمران خان کو اور پاکستان کی عوام کو اس نہج تک پہنچایا ہے
اپ لوگ ہی تو اصل سہولت کار ہیں
عوام کا مینڈیٹ ہے عوام نے اپ کو دیا اور اب عوام سمجھتی ہے کہ اپ اس کے قابل نہیں تھے
جھگڑا صرف یہ تھا کہ @SohailAfridiISF آنکھیں نیچی اور زبان بند رکھ کر ہماری بیعت کیوں نہیں کرتا، آفریدی نے نقصان تو بہت اٹھا لیا لیکن شرمناک بیعت سے انکار کر دیا
خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نے کہا تھا
سرداد، نہ داد دست در دست یزید
شریف اور زرداری خاندان بیعت کا وزنی طوق گلے میں اٹھائے خوار ہوتے پھر رہے ہیں اور عمران خان در زندان مزاحمت کی واحد علامت کے طور پر مستضعفین پاکستان کی آخری امید بنتا جا رہا ہے
ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
جاوید ہاشمی کمال کے بہادر اور دلیر انسان ہیں ماشاءﷲ۔ اس بزرگی میں بھی جس دلیری سے وہ عمران خان کے مؤقف پر ڈٹ گئے ہیں۔
اس سے یقیناً PTI کی قیادت کے وہ لوگ جو پیچھے پیچھے چھپ چھپ کر ہومیوپیتھک سیاست کرتے ہیں، ان پر ایک سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ کوئی عہدے لے کر بھی وفا نہ کر سکا۔
اور کوئی بغیر کسی عہدے کے، اتنی ضعیفی میں بھی بازی لے گیا۔
فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَان
"پس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" - القرآن
یا اللّه۔ پاکستان پر فضل کیجئے اور ظلم کا نظام ختم کر دیجئے۔ آمین۔