فیروز خان نون کی پہلی بیوی بیگم نون کے نام سے موسوم تھیں۔ جب فیروز خان نون نے دوسری شادی کر لی تو ان کی ایک شناسا نے مولانا سالک سے بطور مشورہ پوچھا: ’’اب دوسری بیوی کو کیا کہا جائے گا؟‘‘
مولانا نے بے ساختہ جواب دیا: ’’آفٹر نون۔‘‘
#لطائف
میری قیمت کون دے سکتا ہے اس بازار میں
تم زلیخا ہو تمہیں قیمت لگانی چاہئے
زندگی ہے اک سفر اور زندگی کی راہ میں
زندگی بھی آئے تو ٹھوکر لگانی چاہئے
میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا
اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے
صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں میں پانی چاہئے
اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہئے
شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہو چکیں
شاہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہئے
میں نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے
میرے حصے میں بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہئے
جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
ان محبت کی روایات نے دم توڑ دیا
جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا
ہائے آداب محبت کے تقاضے ساغرؔ
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
ساغر صدیقی
#شاعری
محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا
ہر مسرت غم دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا
ان گنت محفلیں محروم چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا
آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا
دیوار پہ لکھا تھا کبھی نامِ محمد ﷺ
اب تک ہے اجالوں کا بسیرا مرے گھر میں
اس بات پہ اتراتا ہوا پھرتا ہوں آقاﷺ
سب آپ کا ہے کچھ نہیں میرا مرے گھر میں
🙏سلیم کوثر🙏
میرے ہاتھ جب لکھنے کی مجال کرتے ہیں
تو خیال کی تلخی پہ سب سوال کرتے ہیں
آنکھیں موندھےیہ سب گونگےاور بہرےلوگ
بولے کوئی جب تو کہنا محال کرتے ہیں
(اسماءاعظم)
جن سے افسانۂ ہستی میں تسلسل تھا کبھی
ان محبت کی روایات نے دم توڑ دیا
جھلملاتے ہوئے اشکوں کی لڑی ٹوٹ گئی
جگمگاتی ہوئی برسات نے دم توڑ دیا
ہائے آداب محبت کے تقاضے ساغرؔ
لب ہلے اور شکایات نے دم توڑ دیا
ساغر صدیقی
محفلیں لٹ گئیں جذبات نے دم توڑ دیا
ساز خاموش ہیں نغمات نے دم توڑ دیا
ہر مسرت غم دیروز کا عنوان بنی
وقت کی گود میں لمحات نے دم توڑ دیا
ان گنت محفلیں محروم چراغاں ہیں ابھی
کون کہتا ہے کہ ظلمات نے دم توڑ دیا
آج پھر بجھ گئے جل جل کے امیدوں کے چراغ
آج پھر تاروں بھری رات نے دم توڑ دیا
خواب اس نے دئیے خیال دیا
اور پھر شاعری میں ڈھال دیا
پہلے تو قدر داں بنایا مجھے
پھر تجھے حسن بے مثال دیا
اپنی فرصت سے آئی تھی دنیا
میں بھی مصروف تھا، سو ٹال دیا
#سلیم_کوثر
تُو جانتا ہی نہیں تھا مزاجِ ہمسفری
یہی بہت ہے جتنا نباہ مجھ سے ہُوا
بس ایک تُو تھا جسے رائیگاں کیا میں نے
اورایک عشق تھا جو بے پناہ مجھ سے ہُوا
#سلیم_کوثر
کتاب اسکے سرہانے رکھی اور اسکے ساتھ
قریب ہی گُلِ شاداب رکھ کے آگیا ہوں
وہ حال پوچھ رہا تھا کہ اس کے پہلو میں
سلیم میں دلِ بے تاب رکھ کے آگیا ہوں
2/2
#سلیم_کوثر
نئے پرانے خواب رکھ کے آگیا ہوں
میں اُس منڈیر پہ مہتاب رکھ کے آگیا ہوں
قبولیت کی گھڑی اس طرف سے گزرے گی
دعاؤں کو تہہِ مہراب رکھ کے آگیا ہوں
دلیل کا تو وہ قائل نہیں رہا ہے کبھی
میں اسکے سامنے اسباب رکھ کے آگیا ہوں
1/1
#سلیم_کوثر
جان کے سِوا ان کے پاس کچھ نہیں ہوتا
پیار کرنے والوں سے کاروبار مت کرنا
کوئ ایک وعدہ جو تم نبھا سکو ،ورنہ
ہم اداس لوگوں کو سوگوار مت کرنا
اپنی زندگی میں خود انقلاب لے آنا
انقلاب آنے کا انتظار مت کرنا
(خواب آتے ہوئے سنائ دئیے)
#سلیم_کوثر