Americans are going to regret this statement so badly one day.
JD Vance says:
“I have joked that I have two very, very important people in my life. An Indian and a Pakistani. The Indian is my wife, and the Pakistani is Field Marshal Munir.”
JD Vance on Pakistan's Asim Munir:
I have probably talked to Field Marshal Munir more than I have talked to anybody else over the last three months.
We would not be here without his statesmanship.
He is a military leader, but I think he has shown himself to be a great diplomat.
بجلی صارفین کیلئے نئی خوشخبری،
پاور ڈویژن کا صارفین کو ریلیف اور سہولت فراہم کرنے کی جانب اہم قدم
ملک بھر میں بجلی کے بلوں کا نیا اور آسان فارمیٹ متعارف کرادیا گیا
ڈسکوز نے وزارتِ توانائی کی ہدایت پر بجل بلوں کا نیا ڈیزائن جاری کر دیا
نئے ڈیزائن میں صارفین کے لیے بل سمجھنا مزید آسان ہو گیا
صارفین اب کھپت، بل کی تفصیلات اور ادائیگی کی معلومات دیکھ سکیں گے
نیا فارمیٹ سادگی، شفافیت اور بہتر صارف تجربے کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے
صارفین کی شکایات کے بعد بل فارمیٹ کو مکمل طور پر ازسرِنو ترتیب دیا گیاہے
پرانا بل غیر ضروری معلومات، تکنیکی اصطلاحات، پیچیدہ ترتیب کے باعث سمجھنے میں مشکل تھا
نئے فارمیٹ میں رقم، مقررہ تاریخِ اور بجلی کے استعمال کی تفصیلات نمایاں درج ہیں
نئے بل میں معلومات کو منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے
صارف اب ایک نظر میں اپنی بلنگ کی مکمل صورتحال جان سکے گا
نئے بجلی بل میں بصری پیچیدگی کم کر دی گئی ہے
نیا فارمیٹ تمام طبقوں کے صارفین کے لیے زیادہ قابلِ فہم بنایا گیا ہے
جدید سہولت کے تحت نئے بجلی بلوں میں کیو آر کوڈکو بھی شامل کیا گیا ہے
صارفین اضافی معلومات اور ڈیجیٹل سروسز تک فوری رسائی حاصل کر سکیں گے
نئے بجلی بلوں کی تشکیل صارفین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی تجاویز کی روشنی میں کی گئی
پاور سیکٹر میں شفافیت، بہتر خدمات اور اصلاحات کا عمل جاری رہے گا
رائیونڈ روڈ پر سندر کے علاقے میں گلی میں کھیلتا 5 سالہ بچہ محمد حسین کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق، گزشتہ روز بھی کھلے مین ہول میں گر کر ایک بچہ زخمی ہو گیا تھا، تصویر جاں بحق بچے کی ہے، سی سی ٹی وی زخمی بچے کی۔۔!!
بخدمت جناب
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات
محترم جناب عطاء اللہ تارڑ صاحب اسلام آباد
موضوع: روزنامہ جنگ راولپنڈی کے جبری برطرف ملازمین کے بقایا جات اور جھوٹی ایف آئی آرز کا معاملہ
محترم جناب،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
انتہائی ادب و احترام کے ساتھ ہم، روزنامہ جنگ راولپنڈی کے متاثرہ ورکرز، آپ کی خدمت میں اپنا درد دل پیش کر رہے ہیں۔ ہم وہی لوگ ہیں جنہیں 1 مئی 2025کو اچانک 300 کے قریب تعداد میں جبری برطرف کر دیا گیا۔
عدالتی اور قانونی فیصلے ہمارے حق میں ہیں
این آر سی اور ائ ٹی این۔ کی عدالتوں نے ہماری بحالی کا واضح حکم دیا۔ لیکن ماننے سے انکار کر دیا بلکہ تھانہ وارث خان پولیس کو آفس کے سامنے تعینات کر دیا گیا پولیس نے بھی عدالتوں کی فیصلے کو دیکھنا گوارہ نہ کیا بلکہ یوں کہہ سکتے ہیں توہین کی
- ساتویں اور آٹھویں ویج ایوارڈ کے تحت ہمارے واجبات کا تعین ہو چکا ہے۔
- آئی ٹی این ای کے چیئرمین جناب شاید کھوکھر صاحب نے بھی ہمارے حق میں فیصلہ دیا۔
اس کے باوجود ادارے کی انتظامیہ، بالخصوص جناب میر شکیل الرحمن نے نہ تو ہمیں بحال کیا اور نہ ہی ہمارے قانونی بقایا جات ادا کیے۔ الٹا ہم میں سے 7 ساتھیوں پر جھوٹی مذہبی منافرت کی ایف آئی آر درج کرا دی گئی تاکہ ہمیں دبایا جا سکے۔
آپ سے کیا گیا وعدہ
آپ کو یاد ہوگا کہ ہم نے اے ٹی وی کی بلڈنگ کے باہر آپ سے ملاقات کی تھی۔ آپ نے ہمیں تسلی دی، پی آئی ایمبشر صاحب سے بات کر کے معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ لیکن افسوس، ایک سال گزرنے کو ہے ��ور وہ وعدہ تاحال وعدہ ہی رہا۔
ہماری التجا
آج جب حکومت کی طرف سے دوبارہ روزنامہ جنگ کو کروڑوں روپے کے سرکاری اشتہارات دینے کی تیاری ہے، تو ہمارا سوال یہ ہے:
کیا ریاستی خزانے سے ملنے والا یہ پیس�� ان اداروں کو جاتا رہے گا جو عدالتوں کے فیصلے بھی نہیں مانتے اور مزدوروں کے حقوق پامال کرتے ہیں؟
ہم کمزور ہیں، دنیا میں ہماری کوئی طاقت نہیں۔ لیکن ہم یہ بھولے نہیں کہ ایک اللہ کی عدالت بھی ہے جہاں حقوق کا حساب ہوگا۔ وہاں نہ طاقت کام آئے گی، نہ اثر و رسوخ۔
ہماری درخواست یہ ہے
1. ہمارے بقایا جات فوراً دلوائے جائیں جو عدالتی اور ویج ایوارڈ کے تحت بنتے ہیں۔
2. ساتھیوں پر درج جھوٹی ایف آئی آر ختم کرائی جائے۔
3جب تک ادارہ عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کرے، اسے سرکاری اشتہارات کی فراہمی روکی جائے۔
محترم وزیر صاحب اور پی آئی او صاحب
آپ ریاست کے نمائندے ہیں۔ اگر ریاست ہی اپنے اداروں کے ذریعے مزدوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموش رہے تو پھر غریب کس کے پاس جائے؟ ہم آپ سے کسی احسان کی بھیک نہیں مانگ رہے، صرف وہ حق مانگ رہے ہیں جو عدالت، قانون اور آئین ہمیں دے چکا ہے۔
اور جناب روزنامہ جنگ راولپنڈی کی اے بی سی کو پچھلے 12سال سے آڈٹ نہیں ہوا وہی سیکڑوں ملازمین کو برطرف کر نے کے بعد ��س وقت روزانہ چھ ہزار اخبار بمشکل اشاعت ہوتا ہے وہی چند ملازمین فرائض سر انجام دیتے ہیں اگر دوسرے لفظوں میں بیان کیا جائے تو ڈمی اخبار پر لاکھوں کی ABC پر اشتہار لئے جا رہے ہیں اور سیکنڑوں ملازمین کا بتا کر اشتہارات کی مد میں رقم حکومتوں سے لی جا رہی ہے جبکہ قانونی طور پر یہ ایک بڑا فراڈ کیا جا رہا ہے ایسا لگ رہا ہے نہ ملک میں عدالتیں کچھ کرنے کو تیار نہ اطلاعات ونشریات کی منسٹری اور نہ ہی صحافتی یونین سب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
اللہ تعالیٰ آپ کو انصاف کی توفیق دے اور آخرت میں جوابدہی سے بچنے کا وسیلہ بنائے۔
العارض
متاثرین روزنامہ جنگ راولپنڈی
تاریخ: 14 جون 2026
#PrimeMinister #PakistanBudget #mediawatch #PressFreedom #PressInformationDepartment #ورکر_کا_حق #آئین_سب_کے_لیے
#AttaullahTarar
#court
SALARY INCREASE CALCULATOR 2026-27
وفاقی بجٹ 2026-27 کے مطابق آپ کی تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوگا جانئے اس کیلکولیٹر کی مدد سے صرف اپنی موجود Basic Pay درج کریں اور جانیں کہ اس بجٹ میں آپکا کل اضافہ کتنا ہوگا۔
https://t.co/WQrxNIyE60
اس گاڑی کی حالت دیکھیں، اس گاڑی میں آسٹریلیا سے آئے میاں بیوی اپنے بچوں کے ساتھ تھے جس پر سی سی ڈی کریمنل فورس نے گولیاں برسائیں۔
میڈیا کیوں مریم نواز سے سوال نہیں پوچھ رہا۔۔۔۔؟
اگر خدا نخواستہ ایسا کچھ سندھ میں ہوا ہوتا۔۔۔؟
عمران خان کے دور میں سانحہ ساہیوال ہوا، بہت شور مچا، میڈیا نے بڑھ چڑھ کر مہم چلائی جو کہ اچھی بات تھی۔
ن لیگ کے دور میں چکوال میں اسی طرح کی صورتحال میں ایک گاڑی پر گولیوں کی بارش کی گئی، ایک معصوم بچی کی جان چلی گئی اور باقی زخمی ہونے کے باوجود خوش قسمتی سے بچ گئے مگر اس پر ہر طرف مکمل خاموشی ہے۔ میڈیا کو اب انصاف دلوانے میں دلچسپی کیوں نہیں ہے؟
یہ نعرہ ، یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے یہ وزیراعلی پنجاب مریم صفدر کی دین ہے یہ نعرہ وہاں سے نکلا ہے ہم مودی کے ان یاروں کو کیسے بھول سکتے ہیں جنہوں نے بغیر ویزے کے مودی کو شادیوں میں بلایا مودی کے یہ یار اس لڑائی کو طول دے رہے ہیں ! مشال ملک ۔۔
پنجاب حکومت کا گوبر کے بعد ٹوائلٹ ٹیکس، فی بیت الخلا 2500 روپے ٹیکس لگے گا، رحیم یار خان کے لالہ اقبال اسپتال کے 15 ٹوائلٹس پر ماہانہ 37 ہزار 500 روپے ٹیکس، کلینک کی جانب سے ٹیکس ادا نہ کرنے پر ایف آئی آر بھی درج۔ 92 نیوز
پہلی بات کسی کا ذاتی واش روم استعمال نہیں کرنا چاہیے، سو چیزیں ہوتی ہیں۔ دوسری بات یہ get lost اور Now you get lost بھی مناسب نہیں ہوتا۔ تیسری بات بتایا گیا تھا پنجاب میں تو سیاسی پریشر پر تبادلے ہوتے ہی نہیں ہیں۔