تاریخ ہمیشہ جسٹس قاضی فائز عیسی کا نام سنہری حروف میں لکھے گی کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں واحد جج اور واحد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی ہی آئے ہیں جنہوں نے سیاسی اور غیر سیاسی دبائو کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے دلیری کے ساتھ 100 فیصد آئین و قانون کے مطابق فیصلے دیئے، ایسی بزدلی بھی نہیں دکھائی کہ اہم مقدمات کو التواء میں ڈال کر فائلیں دبا دیں اور ثاقب نثار اور کھوسہ وغیرہ کی طرح بطور ٹائوٹ جج کام کرنے سے انکار کیا۔
دلیری اور آئین و قانون کی بالادستی ہی جسٹس قاضی فائز عیسی کا فخر ہے۔
ون کنسٹیٹیوشن ایونیو معاملے پر ایک کمیٹی بنی تھی اس کی کوئ رپورٹ نا آئ
پھر دس دن پہلے دوسری کمیٹی بنی اسکی بھی کوئ خیر خبر نہیں
دو دن پہلے نیسلہ ٹاور گرانے کے فیصلے کو غلط کہہ دیا آئینی عدالت نے ۔
نیسلہ ٹاور کا نیا فیصلہ جواز بنے گا کہ ون کنسٹیٹیوشن ایونیو نا گرایا جاۓ
ون کنسٹیٹیوشن ایونیو میں حکمرانوں کے فلیٹ ہیں اس لیے بچانا ضروری ہے جبکہ نیسلہ ٹاور میں عام شودر پاکستانی شہریوں کی جمع پونجی سے خریدے گۓ فلیٹ تھے انہیں گرا بھی دیا گیا تو کونسی قیامت آگئ ہے
اور یہ حکومت سمجھتی ہے کہ پورے کا پورا پاکستان ہی بیوقوف ہے اسے یہ چور کتوں کا کھیل سمجھ نہیں آۓ گا
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ،دیکھتے ہیں ان حکمرانوں پر کب پڑتی ہے
🚨خیبر پختونخواہ میں لاتعداد مراعات کا بل پیش کرنے کی ویڈیو
یہ چیک کریں پی ٹی آئی بل پیش کر رہی جبکہ شفیع جان مکر گیا ہے اس بل کی ایک شق یہ کہ کے پی اسمبلی کے ممبر کسی بھی عدالت سپریم کورٹ تک میں پیش نہی ہوں گے سب کو استشنی ہو گا
آٹھ کلاشنکوف لائسنس ملیں گے ۔بجلی گیس کے بل نہی دیں گے ٹیکس نہی دیں گے مگر پاکستان میں موجود ہر مفت سہولت کے ریسٹ ہاوس استعمال کر سکیں گے
یہ تبدیلی کے دعوے والوں کا حال ہے
#آئی_پی_پی_معاہدے
ہمارے 75 IPPs معاہدوں
جو قوم اور ملکی معیشت کیلئے مصیبت بنے ہوئے ہیں کے متعلق چند حقائق
پیپلز پارٹی نے 1994 میں 15 IPPs معاہدے سائین کئے
مشرف حکومت نے پہلے 15 اور پھر 38 یعنی
کل 53 IPPs معاہدے سائین کئے
ن لیگ حکومت 2013-18
میں4 IPPs معاہدے سائین ہوئے
👇1/10
نچن یاہو کی جماعت سے ایک لیڈر ایران نہیں پہنچا۔
کیونکہ اگر یہ آیت اللہ خامنائی کے جنازے میں جاتے تو امریکہ کی تمام صیہونی لابیاں ان سے ناراض ہوجاتیں، جن کے بل بوتے پر یہ امریکی سینٹ اور کانگریس میں ناچتے ہیں۔
پھر بھی انکو شرم تو نہیں آئے گی۔
اب اس کے دوسرے پہلو پر نظر ڈالتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ نوازشریف نے ڈیل کرلی۔
نوازشریف نے ڈیل نہیں کی بلکہ نواز شریف کے وفادار ساتھیوں نے فیض باجوہ اور عمران کو اُس جگہ لاکر کھڑا کردیا کہ انھوں نے بغیر کسی شرط کے نوازشریف کو جانے دیا ۔۔
عمران خان کے ساتھیوں نے خان کو اتنا کمزور کردیا کہ اب خان جتنا عرصہ اندر رہے باہر کوئ فرق نہیں پڑتا ۔
یہ دیوار پر لکھا ایک سچ ہے اور اس کو بدلنے کے لیے خان کی پارٹی کو متحد ہونا ہوگا ورنہ خان نہیں ہوتا رہا
فیکٹ چیک
پنجاب میں جتنے بھی بیوٹیفیکیشن پراجیکٹ ہوئے ان میں دکانداروں سے پیسے لئے گئے۔
دکانداروں کے سائن بورڈز انکے خرچے پر اک یا ایک سے ذیادہ مرتبہ تندیل کروائے گئے (مریم کے دیے ہوئے ڈیزائن کے مطابق)
دکانداروں کے شٹر مریم ڈیزائن کے مطابق انکے اپنے خرچے ہر پینٹ کروائے گیے۔ دکانوں کے سامنے گرین بیلٹ کی مینٹینینس حتیٰ کہ صفائی کے ڈبے کے بھی پیسے ستھرا پنجاب والے دکانداروں سے لے رہے ہیں۔
جس بات کا علم نا ہو اس پر بولنے سے پہلے تصدیق کرنے میں ہرج کوئی نہیں
اسی ارب کی رقم گمراہ کن ہے دراصل 2017 میں چڑیا گھر منصوبہ کو ڈسکس کیا گیا 2020 میں منصوبہ شروع ہوا اور پھر 2024 میں مکمل ہونے کے بعد افسران انسپکشن کے لیے پہنچے تو چار دیواری کے اندر کچرہ کُنڈی تھا چڑیا گھر نہیں تھا
ندیم افضل چن ساٹھ ہزار والی رسید ڈھونڈ رہا ہے 🤡
سندھ حکومت میں وہ کرپشن اسکینڈل جنم لے رہے ہیں کہ میری اپنی تحریر کردہ نامی گرامی investigative غضب کرپشن کی عجب کہانیاں مانند پڑ گئیں ایک جانب کراچی ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ سسٹم کو ترس رہا ہے مگر دوسری جانب کرپشن کا یہ عالم کے سرکاری مافیا ورلڈ بینک کے تعاون سے بننے والی کراچی کی بی آر ٹی یلو لائن کے بھی اربوں روپے کھا گئی ۔ الزام ہے کہ تعمیراتی کام شروع ہونے سے پہلے ہی ٹھیکیداروں کو 8.58 ارب روپے کی ایڈوانس ادائیگیاں کی گئیں، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔ ورلڈ بینک کے سخت اعتراض پر سندھ حکومت کو 7.42 ارب روپے واپس جمع کرانے پڑے۔ اسی دوران ریڈ لائین کرپشن بھی سامنے آگئی یونیورسٹی روڈ سالوں کھدی رہی حکومت کے خزانے سے دس ارب رپے غارت ہوگئے سات سال گزرنے کے باوجود منصوبہ صرف 15 فیصد مکمل ہو سکا جبکہ لاگت 61 ارب سے بڑھ کر 173 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ مکمل تحقیقاتی رپورٹ دیکھنے کے لیے On My Radar کا مکمل پروگرام ہمارے YouTube OMR چینل پر ضرور دیکھیں۔
https://t.co/mrYG9fE9k5?
The Government did not have much space to reduce petroleum prices after it last week cut the prices more than the reduction in the international market. The petrol price was reduced by Rs14 and diesel by Rs7 per litre more than global prices. It used Rs3.9 billion from a special fund for one week to sustain a deeper cut.
For this week, there was almost no increase in levy on petrol that remained below Rs67 per litre. On Diesel, levy was increased by Rs6.6 but it remains within maximum limit of Rs80 per litre. The Government’s stance is correct here.
بھائی لاہور کی انتظامیہ اور پنجاب حکومت پر تنقید کریں، دبا کر کریں، میں لاہور میں رہتے ہوئے سخت سے سخت تنقید کرتا ہوں پنجاب حکومت پر لیکن پرانی تصاویر یا AI تصاویر لگا کر لاہور کی انتظامیہ پر جھوٹی چڑھائی نہ کریں، پنجاب اور لاہور پر تنقید آپ سے نہیں ہوگی، آپ رہنے دیں، ہم خود ہی کافی ہیں اپنی حکومتوں کو لتاڑنے کیلئے۔۔۔ آپ بس وہ کراچی کی کئی کئی برس والی سڑکیں بنوا دیں۔
اور فرض کریں کہ یہ تصویر اصلی بھی ہوئی اور واقعی ہی گڑھا پڑا ہوا ہوا تو یقین رکھیں کہ دو چار دنوں میں لش پش سڑک دوبارہ بنا دے گی لاہور اور پنجاب کی انتظامیہ۔۔۔۔
بارش ہوئی ہوگی، قدرتی مسئلہ ہے، کہیں بھی کسی بھی جگہ ہو سکتا ہے۔
آپ کا یہ شکوہ ہزار فیصد درست ہے کہ میڈیا کراچی اور سندھ کے معاملات میں زیادہ خرابی کرتا ہے لیکن مرشد اسکا غصہ جعلسازی کرکے نہ نکالیں۔۔۔
جہاں بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے آڈٹ رپورٹ کو ڈسکس ہونا تھا وہاں بلاول بھٹو کشمیریت کو لے کر خواجہ آصف پر حملے کر رہے ہیں۔ حامد میر پنجاب کے بارے بکواس کر کے لبنان چلا گیا، جیو اور پلوشہ میڈم کی قائمہ کمیٹی بہرے گونگے بن گئے۔ ایسے ہوتی ہے میڈیا مینجمنٹ۔
کتنی آسانی سے بلاول بھٹو اپنی جماعت کی نااہلی وفاق کے گلے ڈال کر پتلی گلی سے نکل گیا ہے
کشمیر میں وزیراعظم پیپلزپارٹی کا ہے جتھہ کمیٹی کو کالعدم قرار دینے والا ان کا اپنا وزیراعظم ہے گلگت الیکشن کی آڑ میں انہیں باہر نکالنے والے بھی یہی ہیں
اس چپڑگنجو سے بلیک میل مت ہوں ان کے کرتوت سامنے رکھیں اور ایک ایک بات کا جواب دیں
پی ٹی آئی اگر پاکستان میں کینسر ہے تو پیپلزپارٹی کسی خونی بواسیر سے کم نہیں
بے بی بلاول ن لیگ کو فارم ۴۷ کا طعنہ دیتا ہے
بے بی بلاول ن لیگ کو بلدیاتی الیکشن کا چیلنج دیتا ہے
بے بی بلاول شاید بھول جاتا ہے کہ کراچی کا میئر مرتضیٰ وہاب خود فارم ۴۷ کا مئیر ہے
پی ٹی آئ کے آزاد جیتنے والے کونسلر اور جماعتِ اسلامی کے کونسلرز کو چار دن اغواہ کیے رکھا اور مرتضیٰ وہاب کو ووٹ ڈالنے والے دن خود گاڑیوں میں بھر بھر کے لائ تھی پیپلزپارٹی
تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
ہمیں یاد ہے زرا زرا
@BBhuttoZardari@murtazawahab1@sharjeelinam