پھر شہباز گل ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ تو "اوپر بیٹھے چند جرنیل" ہیں
باقی نیچے والے تو محض اپنی ڈیوٹی کر رہے ہیں
نیچے والے فوجیوں👇کی درندگی چیک کریں۔۔ گولیوں کی بارش کے بعد بھی باقاعدہ گاڑی تک اوپر چڑھا دی
اخے "اوپر بیٹھے چند جرنیل"
@SHABAZGIL
🚨نیپال میں آنے والے سیلاب کو دیکھنے کے لئے چینی ہیلی کاپٹر اس جگہ پہنچ گیا جہاں سے پانی آ رہا تھا، اور ایک مختصر ڈاکومینٹری تیار کر کے دنیا کیساتھ شیئر کردی👍🔥🔥🤲
فیصل آباد ایئرپورٹ پر گزشتہ رات عقل و شعور کا وہ جنازہ اٹھا کہ فرشتے بھی سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ ایک بائیس سالہ طالب علم اعلی تعلیم کے لیے بیرون ملک جانا چاہ رہا تھا۔
نوجوان طالب علم جب امیگریشن کاؤنٹر پہنچا تو سب کچھ ٹھیک تھا۔ کاغذات دیکھے گئے، کمپیوٹر میں انٹری ہوئی اور پاسپورٹ پر ایگزٹ کی مہر ثبت کر دی گئی۔ یہ مہر اس بات کی سند تھی کہ ریاست کو اس نوجوان کے باہر جانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ مگر ابھی یہ سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ اچانک ایئرپورٹ کے ایک ارسطو اہلکار کو نجانے کیا سوجھی کہ اس نے طالب علم کو بازو سے پکڑ کر ایک طرف کر لیا اور تفتیش شروع کر دی۔
اس طالب علم کی سب سے بڑی خطا یہ تھی کہ اس نے ایک ایسے ملک کا نام لے لیا جس کا نقشہ شاید ہمارے ان جاہلِ اعظم اہلکار صاحب نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا تھا۔ "لیتھوینیا!" نام سنتے ہی اہلکار صاحب کے ماتھے پر یوں بل پڑے جیسے کسی نے ان سے کوانٹم فزکس کا فارمولا پوچھ لیا ہو۔ ان کے نزدیک دنیا صرف دبئی، سعودی عرب اور لندن تک ختم ہو جاتی ہے، یہ "لیتھوینیا" بیچ میں کہاں سے ٹپک پڑا؟
اہلکار صاحب کی منطق کا عالم دیکھیے، انہیں یہ بات ہضم ہی نہیں ہو رہی تھی کہ اگر لیتھوینیا کوئی ملک ہے، تو اس کا سفارت خانہ فیصل آباد کی کچہری یا کم از کم اسلام آباد کی کسی گلی میں کیوں نہیں؟ طالب علم نے بیچارگی سے دہائی دی کہ "جناب! یہ ملک براعظم یورپ میں ہے، اور چونکہ پاکستان میں ان کا دفتر نہیں، اس لیے مجھے ویزے کے لیے پہلے باکو (آذربائیجان) جانا پڑے گا"۔
مگر صاحب! وردی کی اکڑ اور معلومات کی کمی جب آپس میں گٹھ جوڑ کر لیں تو منطق خودکشی کر لیتی ہے۔ اہلکار کے دل میں شک کا وہ ناگ بیٹھا کہ ہلنے کا نام نہ لیا۔ چونکہ اہلکار صاحب نے خود تو کبھی میٹرک سے آگے تعلیم حاصل کرنا ضروری نہیں سمجھا تھا، اس کی نظر میں وہ یونیورسٹی کا ایڈمیشن لیٹر اور 30 لاکھ روپے کی فیس کی رسیدیں محض ردی کے ٹکڑے تھے۔ اسے لگا شاید یہ لڑکا لیتھوینیا کے بہانے مریخ پر جا کر وہاں کی شہریت لینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
طالب علم نے ایڑیاں رگڑیں، فیس کی رسیدیں لہرائیں، واسطے دیے، مگر اہلکار صاحب اپنی دانشورانہ ضد پر قائم رہے۔ نتیجہ؟ ڈھائی لاکھ کا ٹکٹ آف لوڈ کی نذر ہو گیا اور 30 لاکھ کی فیس اب لیتھوینیا کی یونیورسٹی میں پڑی ہے۔
واہ رے نظام! جہاں پہلے مہر لگائی جاتی ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ "میاں، تم ہو کون؟" ایئرپورٹ پر بیٹھے شخص کو یہ تو پتہ ہے کہ رشوت کیسے لینی ہے یا رعب کیسے جھاڑنا ہے، مگر یہ نہیں پتہ کہ دنیا کے نقشے پر کون سا ملک کہاں واقع ہے۔
حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے (FIA) کو چاہیے کہ ایسے ارسطوؤں کو ایئرپورٹ کے بجائے کسی پرائمری سکول کے جغرافیے کی کلاس میں بٹھائیں، تاکہ آئندہ کسی اور طالب علم کا مستقبل اس جہالت کی بھینٹ نہ چڑھے۔
ایک لمحے کے لیے اس ویڈیو پر نظر پڑی تو میں سوچنے لگا کہ شاید یہ لوگ بجلی کے مہنگے بلوں کے خلاف نکلے ہیں، شاید مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے، اس لیے آواز اٹھانے آئے ہیں۔ شاید پیٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، کہ پوری دنیا میں پیٹرول سستا ہو رہا ہے اور پاکستان میں مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔
میں نے سوچا شاید یہ لوگ ان جابروں کے خلاف اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں، اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔
لیکن دوسرے ہی لمحے دیکھا تو معلوم ہوا کہ لنگر کی دیگوں کے ڈھکن کھلتے ہی لوگ اس طرف دوڑ پڑے ہیں۔پھر دل میں سوال اٹھتا ہے کہ جس قوم کو اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہونا چاہیے، اگر وہ لنگر کی دیگ کے پیچھے دوڑنے پر مجبور ہو جائے، تو اس قوم کی تقدیر آخر کیسے بدلے گی؟
"وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم آپکو Trap کریں گے" - شاہ محمود قریشی
"کردیں کردیں" - عمران خان کا مسکراتے ہوئے جواب
یہ تب کا واقعہ ہے جب عمران خان پشاور میں پریس کانفرنس کر رہے تھے اور اسٹیبلشمنٹ کے ایک اعلی عہدیدار کا شاہ صاحب کو فون آیا کہ آپ لوگ خاموش ہو جایئں ورنہ اپکو ہم ٹریپ کریں گئے اور خان صاحب نے دلیری سے کہا کہ کردیں ، پھر دنیا نے دیکھا کہ واقعی 9 مئ کا ڈرامہ رچا کر اسکی آڑ میں اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کے ساتھ سب سے گندہ کھیل کھیلا۔
بریکنگ نیوز 🚨عادل راجہ کا بڑا دعویٰ 🔥🔥
آئی ایس آئی کی دو دن پہلے ہونے والی میٹنگ میں میرے ایک نہیں دو Sources موجود تھے۔ اور میں چیلنج کرتا ہوں ڈی جی آئی ایس پی آر، ڈی آئی ایس آئی کو، آرمی چیف کو، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس کو، اگر بات جھوٹی کر رہا ہوں تو مجھے بتا دو۔ 7 گھنٹے سے بھی زیادہ ہیڈ کوارٹر آئی ایس آئی میں میٹنگ ہوئی ہے۔ جس میں تمام آئی ایس آئی important آفیشلز، تمام ڈاریکٹریٹ، جنرلز کےڈی جیز، اور تمام سیکٹرز کمانڈرز سب کسب بیٹھے ہوئے تھے۔ اور وہاں پر Discussion وہ ہوئی ہے جو بات محسن نقوی نے باہر آکر بتائی ہے۔ یہ سسٹم اب نہیں چل سکتا۔ جے ایچ کیو کے اندر پلان بنایا گیا ہے کہ Sweeping پولٹیکل Overall کیا جائے گا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو صدر بنا دیا جائے گا اور اسکے چیتے محسن نقوی کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔ محسن نقوی اسی سلسلے میں کراچی جاکر صدر زرداری سے مل آئے۔ میری اطلاعات کے مطابق صدر زرداری نے کہا میں اگر مان بھی لوں لیکن میرا بیٹا نہیں مانتا۔ محسن نقوی نے کہا دیکھیں میں بھی تو آپ کا بیٹا بنا ہوا ہوں لیکن اوپر سے یہ Order آگیا ہے کہ بیٹے کو Sideline کریں، بیٹے کے پر کاٹیں اور یہ ہمارے Agreement کے اوپر آجائیں۔ آپکسیف Exit مل جائے گا، دوبئی جاکر رہنا ہے، اسکے علاوہ امریکہ میں رہنا ہے جدھر بھی رہنا ہے وہ آپ کو سیف Exit ملے گا۔ نہیں تو آپ کو سیف Exit نہیں ملے گا۔ میٹنگ میں سب کو بتادیا گیا ہے یہ سٹم Collapse کرگیا ہے، اب ہم نیا سسٹم لا رہے ہیں۔ 28 ویں اور 29 ویں ترمیم ڈنڈے کے زور سے پاس کروا کے۔
تابش ہاشمی نے جیو نیوز پر بیٹھ کر عمران خان کی بیماری کی بات کی تھی جبکہ کل کھل عام آزاد کشمیر کے لئے بھی آواز اٹھایا۔
اور آج تابش ہاشمی کا پروگرام بند کر دیا گیا 💔
کوئی بھی دنیا کا نظام لے آئیں اس کے اوپر شریف اور زرداری بیٹھا دیں وہ سارے نظام کرپٹ ہو جائیں گے، آج نواز شریف کو کسی طرح انگلینڈ کا وزیرِ اعظم بنا دیں میں آپ کو گارنٹی کرتا ہوں کہ دس سال میں وہ ملک مقروض ہو جائے گا اور پاکستان سے کہے گا کہ ہمیں قرضہ دو۔ عمران خان
اور کیسے دکھانی ہے وفاداری؟
ٹیکس دیتا ہوں، کرپٹ نظام بھگت رہا ہوں، آپکی سیاسی مداخلت پر خاموش ہوں، علاج پرائیویٹ کرواتا ہوں، بجلی خود سولر سے لیتا ہوں، حفاظت کے لیئے پرائیوٹ چوکیدار ہے، ووٹ چوری ہوا خاموش ہوں، ریاست بندے مار رہی پھر بھی چپ ہوں ، مہنگائی ڈبل ، بےروزگاری ڈبل ہو گئی
محسن نقوی کہتا ہے سسٹم ناکام ہو چکا ہے جبکہ مرد مجاہد نے تین سال پہلے کہا تھا۔ جیل میں تو میں چلا جاؤں گا لیکن کیا یہ پاکستان کی معیشت کے حالات کو برداشت کر لیں گے۔
یہ ویڈیو آج ہر کسی کے ٹائم لائن پر ہونی چاہیئے 🔥