Social worker protect vulnerable children and support families in need of assistance . help people solve and cope with problems in thier everyday lives.
بابا جی کی 5 بیٹیاں ہیں، زوجہ کی طبیعت ناساز ہے۔کرائے کا مکان ہے۔جو کماتے ہیں زوجہ کی دوائیوں،علاج میں خرچ ہوجاتا ہے۔اپنا حق حلال روزگار کرتے ہیں۔اس وقت فاقوں میں مبتلا ہیں 3 ماہ سے گھر کا کرایہ نہی دے سکے۔بہت مجبور ہیں۔مدد کی اشد ضرورت ہے۔2/1
Eligible Zakat , Sadqah
Required 38k
بابا جی بیٹیوں کو دو وقت کا کھانا کھلانے سے محروم ہیں۔ آنکہوں کی نظر بلکل کمزور ہے۔ زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے۔ آپ میں سے کوئی انکا سہارا وسیلا بن سکے۔ اللہ کی رضا کے لیے انکی مشکلات آسان کر سکیں انکو گھر کھانے کا راشن ، گھر کا کرایہ دے سکیں تو تفصیلات DM لیکر مدد کر سکتے ہیں۔
بابا جی کی 5 بیٹیاں ہیں، زوجہ کی طبیعت ناساز ہے۔کرائے کا مکان ہے۔جو کماتے ہیں زوجہ کی دوائیوں،علاج میں خرچ ہوجاتا ہے۔اپنا حق حلال روزگار کرتے ہیں۔اس وقت فاقوں میں مبتلا ہیں 3 ماہ سے گھر کا کرایہ نہی دے سکے۔بہت مجبور ہیں۔مدد کی اشد ضرورت ہے۔2/1
Eligible Zakat , Sadqah
Required 38k
14 سو سال سے بھی پہلے کے قبیلے
بنو قریش: خانہ کعبہ کے ارد گرد مکہ کا سب سے طاقتور اور معزز قبیلہ "قریش" آباد دکھایا گیا ہے۔
یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آبائی قبیلہ تھا۔
بنو ہاشم: خانہ کعبہ کے بالکل قریب بنو ہاشم کی نشاندہی کی گئی ہے، جو قریش کی ہی ایک معزز ترین شاخ ہے اور اسی خاندان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق تھا۔
۲. مدینہ منورہ اور اس کے قریبی مقامات (بالائی حصہ)
تصویر کے اوپری حصے میں مدینہ منورہ (یثرب) کا سرسبز و شاداب علاقہ اور نخلستان دکھائے گئے ہیں۔
مسجد نبوی: مدینہ کے مرکز میں سبز گنبد کے ساتھ مسجد نبوی کی عمارت دکھائی گئی ہے، جو ہجرتِ مدینہ کے بعد مسلمانوں کا مرکز بنی۔
جبلِ احد (احد پہاڑ): مدینہ منورہ کے پس منظر میں تاریخی پہاڑ "جبل احد" نظر آ رہا ہے، جہاں غزوہ احد کی مشہور جنگ لڑی گئی تھی۔
بنو اوس اور بنو خزرج: مدینہ منورہ کے دائیں اور بائیں طرف ان دو بڑے قبائل کے نام درج ہیں۔ یہ مدینہ کے مقامی انصار قبائل تھے جنہوں نے ہجرت کے بعد مسلمانوں کی دل کھول کر مدد کی تھی۔
۳. مکہ اور مدینہ کے درمیانی مقامات اور وادیاں
مکہ سے مدینہ جانے والے تجارتی اور ہجرت کے راستے پر درج ذیل مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے:
وادی فاطمہ: نقشے کے درمیان میں ایک سرسبز نخلستان اور پانی کا چشمہ نظر آ رہا ہے جسے "وادی فاطمہ" لکھا گیا ہے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مشہور اور زرخیز وادی ہے۔
طائف: مکہ کے پہاڑی سلسلے کے ساتھ دائیں جانب "طائف" کا علاقہ دکھایا گیا ہے، جو اپنی سرد آب و ہوا اور باغات کے لیے مشہور تھا۔
۴. دیگر تاریخی قبائل (درمیانی اور صحرائی علاقے)
مکہ اور مدینہ کے ارد گرد کے وسیع صحرائی علاقوں میں عرب کے دیگر مشہور قبائل آباد تھے جن کے نام تصویر میں درج ہیں:
بنو تمیم: یہ نجد اور حجاز کے درمیانی علاقوں کا ایک بہت بڑا اور جنگجو قبیلہ تھا۔
بنو کنانہ: قریش کا قریبی قبیلہ جو مکہ کے نواح میں آباد تھا۔
بنو بکر: یہ بھی حجاز کے ارد گرد آباد ایک مشہور عرب قبیلہ تھا۔
بنو اسد: مکہ اور مدینہ کے درمیانی صحرائی راستوں پر آباد ایک قبیلہ۔
بنو تک: نقشے کے دائیں جانب دور صحرا میں اس قبیلے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خلاصہ: یہ تصویر عہدِ رسالت (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حجاز کا ایک جامع جغرافیائی خاکہ پیش کرتی ہے، جس سے مکہ اور مدینہ کی دوری، ان کے درمیان موجود وادیوں، تجارتی راستوں (جہاں اونٹوں کے قافلے نظر آ رہے ہیں) اور وہاں آباد مختلف قبائل کی جغرافیائی پوزیشن کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
تحریر: علی چوہدری
تاریخ لکھے گی کہ پچیس کروڑ زندہ لاشوں کے درمیان صرف پینتیس لاکھ باضمیر کشمیری تھے، جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا جانتے تھے اور ہر قیمت پر ڈٹ جایا کرتے تھے۔"
لاؤ ترازو تول کے دیکھو ساڈا پلہ بھاری ہے.
Never Give Up no matter how difficult the times … because Shaukat Khanum’s son is not willing to give up this fight and he is leading from the front. #KaptaanEra
اس بیوہ بہن اور یتیم بچوں کا ابھی تک کوئی وسیلا نہی بن سکا۔ گھر میں فاقے ہیں کھانے کو محتاج ہیں۔اللہ کی رضا کے لیے آپ میں سے کوئی انکی مدد کرنا چاہے۔ گھر کا راشن دلوا سکے ، گھر کا کرایہ ادا کرنے میں مدد کر سکیں۔ تفصیلات DM لے سکتے ہیں۔
Eligible Zakat, sadqah
Required 28k
بیوہ بہن کو اپنے بچوں کے لیے گھر میں کھانے کو راشن اور گھر کا کرایہ ادا کرنے میں مدد کی اشد ضرورت ہے۔بیوہ بہن گھروں میں کام کر کے اپنی حق حلال آمدن کرتی ہے۔ زیادہ گرمی کی وجہ سے طبیعت ناساز ہے کام سے محروم ہے۔آپ اللہ کی رضا کے لیے وسیلا بن سکیں تفصیلات DM لے سکتے ہیں
Required 28k
بیوہ بہن کو اپنے بچوں کے لیے گھر میں کھانے کو راشن اور گھر کا کرایہ ادا کرنے میں مدد کی اشد ضرورت ہے۔بیوہ بہن گھروں میں کام کر کے اپنی حق حلال آمدن کرتی ہے۔ زیادہ گرمی کی وجہ سے طبیعت ناساز ہے کام سے محروم ہے۔آپ اللہ کی رضا کے لیے وسیلا بن سکیں تفصیلات DM لے سکتے ہیں
Required 28k
Inaugurated Skardu international airport. InshaAllah, this will take mountain tourism to a level where it will bring in foreign exchange for the country & raise the local community's standard of living. I want to thank the people of Skardu for their generous welcome.
البانیہ برائے فروخت نہیں ہے۔۔۔۔!!!
البانیہ کی عوام ملک کی زمین کا ایک حصہ اسرائیل کو فروخت کیے جانے پر سڑکوں پر نکل آئی، تاریخ کے سب سے بڑے مظاہرے پھوٹ پڑے۔
کیا قرآن کو سمجھنے کے لیے کسی کتب روایات کی ضرورت ہے؟ جانئے قرآن سے ۔
روایت پرست اکثر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ "احادیث کے بغیر قرآن کو سمجھا نہیں جا سکتا"۔ لیکن جب ہم خود قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو ہدایت، نصیحت، فرقان، نور، بصیرت اور ہر چیز کی وضاحت قرار دیا ہے۔ اگر قرآن انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا ہے تو یہ تصور کیسے درست ہو سکتا ہے کہ اللہ نے ہدایت کی کتاب تو نازل کر دی مگر اس کو سمجھنے کے لیے کسی دوسری کتاب کا محتاج بنا دیا؟
اللہ تعالیٰ بار بار فرماتا ہے:
"وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ"
"اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟" (القمر: 17، 22، 32، 40)
یہ آیت ایک مرتبہ نہیں بلکہ ایک ہی سورت میں چار مرتبہ دہرائی گئی ہے۔ اگر قرآن کو سمجھنا عام انسان کے بس کی بات نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اسے بار بار "آسان" قرار نہ دیتا۔
قرآن اپنے بارے میں یہ بھی کہتا ہے:
"وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ"
"اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کو کھول کر بیان کرنے والی ہے۔" (النحل: 89)
اسی طرح فرمایا:
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ"
"کیا یہ لوگ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے؟" (النساء: 82)
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے پہلے فلاں عالم، فلاں امام یا فلاں روایت کی طرف رجوع کرو، بلکہ براہِ راست قرآن میں تدبر کا حکم دیا۔
اصل مسئلہ قرآن کی مشکل زبان نہیں بلکہ انسان کے ذہنی تعصبات ہیں۔ جو شخص پہلے سے فرقہ وارانہ عقائد، موروثی نظریات اور مذہبی پیشوائیت کے تصورات کو حقِ مطلق سمجھ چکا ہو، وہ قرآن کو غیر جانبداری سے نہیں پڑھ سکتا۔ ایسے لوگ اکثر قرآن سے ہدایت لینے کے بجائے اپنے پہلے سے قائم شدہ عقائد کے حق میں دلائل تلاش کرتے ہیں۔
قرآن واضح کرتا ہے کہ ہدایت ہر ایک کو نہیں ملتی بلکہ ان لوگوں کو ملتی ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں:
"ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ"
"یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے متقیوں کے لیے۔" (البقرہ: 2)
اسی لیے قرآن کو سمجھنے کے لیے صرف زبان جاننا کافی نہیں، بلکہ اخلاص، تقویٰ اور تزکیۂ نفس بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا"
"یقیناً کامیاب ہوا جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔" (الشمس: 9)
جب انسان اپنے نفس، تعصب، اندھی تقلید اور فرقہ وارانہ وابستگیوں سے بلند ہو کر صرف اللہ کی رضا اور حق کی تلاش کے لیے قرآن کا مطالعہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے فہم و ہدایت کے دروازے کھول دیتا ہے۔
"وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا"
"اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ضرور انہیں اپنے راستے دکھاتے ہیں۔" (العنکبوت: 69)
لہٰذا قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی سوچ کو قرآن کے تابع کرے، نہ کہ قرآن کو اپنی سوچ کے تابع بنانے کی کوشش کرے۔ جو شخص حق کی تلاش میں قرآن کی طرف رجوع کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے آسان کر دیتا ہے۔ قرآن اپنی بہترین تفسیر خود ہے، کیونکہ اس کی آیات ایک دوسرے کی وضاحت کرتی ہیں، اور اللہ نے اسے ہدایت و نصیحت کے لیے آسان بنا کر نازل کیا ہے۔
احادیث کی کتب تاریخ کا حصہ ہیں بہت محنت سے لکھی گئیں لیکن کوئی روایت قرآن کریم سے ٹکراتی ہو گی تو رد کر دی جائے گی۔
سوال یہ نہیں کہ قرآن سمجھا جا سکتا ہے یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے تعصبات، موروثی عقائد اور اندھی تقلید کو چھوڑ کر قرآن سے ہدایت لینے کے لیے تیار ہیں؟