تو غنی ازہر دو عالم من فقیر
روز محشر عُذر ہائے من پذیر
وَر حسابم را تو بینی ناگزیر
ازنگاہ مصطفیٰ پنہاں بگیر
اے اللہ:تو دوجہانوں کو عطا کرنے والا ہےجبکہ میں فقیر خستہ جاں ھوں
روزِ محشر میری معافی کو قبول فرمانا
اگرحساب لازم ہو تو پھر محمد مصطفٰی ص کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا
سید ناصر عباس زیدی، وفاقی اردو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر جو فالج کے مریض ہیں ان کو چار مہینے سے پینشن نہیں مل رہی ہے۔
وفاقی اردو جامعہ شدید بے ضابطگی اور بحران کا شکار ہے
خدارا توجہ فرمائیں
@CMShehbaz@MohsinnaqviC42@Dr_KMSOfficial
خیر آج بڑی تقریب ہو رہی ہے واہگہ پہ ،میڈم مہمان خصوصی ہیں ۔جس میں لاہور میں موجود ساری ایڈمنسٹریٹو بیوروکریسی کو حاضری دینے کا حکم ہے اور ادھر پیٹرول پہ پبلک چیخ رہی ہے ۔ بندہ کیا کہے،بس misplaced priorities ہیں۔
مریم نے ہی اسے کہا ہوگا کہ اشارے توڑو ، رانگ سائیڈ پہ رکشہ چلاو تاکہ سرکار کے فنڈ میں پیسہ آ سکے ۔
سارا دن سڑکوں پہ ہوتا ہوں۔
پچھلے آٹھ سال میں ایک چالان نہیں ہے۔
دو کلومیٹر لمبا یوٹرن لے لیتے سو میٹر رانگ سائیڈ پہ نہیں چلتا۔
میرے آس پاس کسی دوست کے چالان نہیں ہوتے وہ قانون پہ عمل کرتے
How Pakistan neutralise Israeli plan
The latest article by former Saudi Intelligence Chief Prince Turki al-Faisal highlights why Riyadh resisted retaliating against Iran.
His piece, in reality, is an endorsement of Pakistan's stance. When Iran started sending missiles and drones across the Gulf after the war erupted on Feb. 28, there was a genuine threat of an all-out war involving Muslim countries.
That was when Pakistan stepped in. There was a meeting of foreign ministers from 12 Islamic countries in Riyadh on March 19. Gulf countries were furious. They wanted to hit back at Iran. There was so much anger that a representative of one country said that if Iran was nuked, they would not mind.
However, Pakistan attempted to calm the nerves. The meeting, which was supposed to last for a couple of hours, continued for several hours.
Pakistan tried to convince the Gulf countries that while Iran's strikes on its neighbours were condemnable, they must not forget the larger Israeli design. The Gulf foreign ministers were told that Israel wanted to ignite a larger conflict, pitting Muslim nations against each other.
Responding to Iran's strikes would only serve the Israeli agenda.
Most in the room understood Pakistan's position and eventually backed its mediation efforts.
The article by the former Saudi intelligence chief reflected Pakistan's view, which it presented during the March 19 meeting.
احمق جاہل ایسے لوگوں کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کرتا
کیونکہ یہ خود ترقی کرنے کے قابل نہیں ہوتے ان کے پاس منیجمنٹ نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔
باہر کے ممالک میں انہی ٹماٹروں کو خشک کر کے بیچا جاتا ہے
لیکن یہ منڈی کے اڑھتی کے غلام ہیں
اگر آڑھتی ان سے ٹماٹر نہیں لے گا تو انہوں نے بھی اس کے علاوہ اور کہیں نہیں بیچنے۔ ۔۔
مطلب لوڈر پر فیری پر بھی بیچ سکتا ہے
اس کے علاوہ چھوٹے موٹے دکانداروں کو خود جا کر دے سکتے
ہیں
لیکن نہیں نہر میں ضائع کرنا سب سے بہترین عمل ہے اور اس سے کیا اپنا ہی نقصان کرو گے کسی کی صحت پر کیا اثر پڑے گا
ایف بی آر کی کارکردگی ایک طرف recession کی شکار اکانومی میں ٹیکس اکٹھا کدھر سے ہونا۔
کوئی نئی اکنامک ایکٹیویٹی جنریٹ نہیں ہو رہی۔FDI کے فگرز دیکھیں۔۔۔۔۔
ان وقتوں میں وسائل میں تصرف اور انکے maximum پروڈکٹو استعمال سے ہی بچت کا راستہ نکلنا،اب بھی اور جب اکنامک boom کا وقت آجائے۔
You are, MashaAllah, doing great research work. One must appreciate that. But Let’s have first complete picture, Miss Zehra.
When NFC share of provinces was increased from 47 paisa to 57.5 paisa of every rupee in 2010, it had also been decided to increase FBR TAX TO GDP ratio from 10% in 2010 to 15% in 2015 to compensate the hit to federal exchequer. However, after 16 years it’s still around 10%. That’s why the whole nation is in pain. That’s why FBR is under scrutiny and that’s why petroleum levy rate today is Rs118 per litre on petrol.
اٹھارہویں ترمیم reverse ہونی ہی ہونی ہے۔۔۔۔۔!
وفاق گالیاں کھا کے ریونیو اکٹھا کرکے NFC کے تحت بانٹ دیتا ہے اور صوبے بجائے عوام پہ خرچ کریں۔کرپشن یا unproductive activities اور مراعات پر ضائع کر رہے ہیں۔وفاق پھر قرضوں کا محتاج۔
اٹھارہویں ترمیم reverse ہونی ہی ہونی ہے۔۔۔۔۔!
وفاق گالیاں کھا کے ریونیو اکٹھا کرکے NFC کے تحت بانٹ دیتا ہے اور صوبے بجائے عوام پہ خرچ کریں۔کرپشن یا unproductive activities اور مراعات پر ضائع کر رہے ہیں۔وفاق پھر قرضوں کا محتاج۔
بیشترعوام اور سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ٹیکس دینے کو تیار ہی ہیں۔مسئلہ ہے کہ وہ آپکے نظام کا حصہ بننے سے ڈرتے ہیں۔جو بعد میں ستر طریقوں سے مختلف محکموں سے ذلیل ہوتا ہے اور کوئی ایک سہولت بتا دیں،کہیں جو حکومت ٹیکس پئیر کو حوصلہ افزائی کے لیے فراہم کرتی ہے۔الٹا ذلیل ہی ہوتا ہے۔
ٹیکس چوری کے کلچر کو قوم مل کر ختم کرے “ ٹیکس حکومت جمع نہیں کر پاتی اس لیے لیوی لگا کر حکومت چلانے کے اخراجات کا بندوبست کیا جاتا ہے ۔ احسن اقبال
نا کوئی شرم ہے اور ناں ہی حیا
اسپیکر صاحب اس لیے کہہ رہے ہیں اور صحیح کہہ رہے ہیں کہ ان کی اپنی فیملی میں نسل در نسل کزن میرجز کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں اور معذوروں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔انکے اپنے بیٹے کی شادی فیملی میں ہے مگر انہوں نے شادی سے پہلے دونوں کی Pre-marital genetic screeningکروائی تھی۔