ہجرت کامران کو نوشہرہ سے کوہاٹ آتے ہوئے، کوہاٹ میں اٹھایا گیا ہے، پہلے لکی اور پھر پنجاب منتقل کیا گیا ہے۔
سب دوست ہجرت کے لئے آواز بھی اٹھائیں اور معلومات بھی کریں
جنگ کے اس راؤنڈ کے بعد مجھے عمران خان بھی اڈیالہ جیل میں قید نظر نہيں آ رہے۔ انکی لوکیشن بنی گالہ کی آ رہی ہے۔
علیمہ خانم کا ساتھ دیں۔ اس زیرک خاتون نے صورتحال بھانپ لی ہے۔
اللہ تعالٰی بہتر کرے گا۔
چارسدہ کے عوام کو کامیاب کنونشن پر شکریہ لوگ اب جلسہ نہیں بلکہ پاکستان میں انقلاب چاہتے ہیں
اور اپ لوگ بزدل ہوں تو بزدلوں کیلئے ایک اعلاج ہے جلسہ میں جوتے لیکر اور جوتوں سے ان کو جوتے دیکھانے ہوں گے تو شائد غیرت اجائے
لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر 26 نومبر کے شہدا اور زخمیوں کے خون کو دھو کر صاف کر دیا ہے 18 سماعتیں ہوئیں ہر سماعت پر لطیف کھوسہ نے بہانہ بنایا اور کیس کو آگے نہیں بڑھنے دیا اب کیس کی سماعت تھی تو بتایا گیا کہ لطیف کھوسہ چھٹیاں منانے یورپ گئے ہوئے ہیں ۔
ڈاکٹر شہباز گل
پچھلے دنوں ہجرت کامران نے بنیر میں گوہر علی کے گھر کے باہر احتجاج کیا تھا
منگل کو ہجرت کامران کو کے پی کے سے اغوا کیا گیا ہے
اپنی حکومت میں ورکر کو اغوا کیا گیا ہے
اطلاعت کے مطابق ہجرت کامران کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا ہے
عمران خان غنڈوں میں گھرے ہوئے ہیں۔
اگر واقعی آپ ان کے ساتھ کوئی نیکی کرنا چاہتے ہیں، تو بیرسٹر گوہر سے فوری استعفے کا مطالبہ کریں، 5 اگست کے اس "ٹک ٹاک جلسے" کا بائیکاٹ کریں، اور ایک ہی سوال بار بار پوچھیں...
تین سال میں کیا کیا، اور اب 4 اگست کو ایسا کیا ہونے جا رہا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہو سکا؟
@Aleema_KhanPK@Noreen_KhanPK@DrUzma_KhanPK
🚨🚨انڈیا میں کاکروچ پارٹی کے طلبا کا ساتھ دینے سپریم کے جج اور وکلا میدان میں ائے ہیں ۔
ایک ہمارے جج تھے حرام خور رات کو کھوٹے کھول کر اپنے ریٹ لگواتے رہے آج سب باہر سیٹ ہیں ۔
اس ڈر سے کہ کہیں 5 اگست کو عوام سڑکوں پر نہ نکل آۓ ملک گیر احتجاج کی کال کے بجاۓ پشاور میں جلسے کا اعلان کر دیا گیا،
حالانکہ کہ بہترین آپشن یہ تھا کہ قومی اسمبلی کے تمام ممبران اور امیدوار اسلام آباد میں اکھٹے ہوتے اور وہاں پورا اسلام باد اور پنڈی اکھٹا کیا جاتا جبکہ پنجاب اسمبلی کے تمام ممبران لاہور میں اکھٹے ہوتے اور پورا لاہور احتجاج کے لیے اکھٹا کرتے ۔۔
اگر پولیس لاٹھی چارج کرتی یا گرفتاریاں کرتی تو اسمبلوں کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا جاتا اور استعفے دے دئیے جاتے مگر افسوس کرسی کا نشہ ساری قیادت کے سر چڑا ہوا ہے ۔۔
عمران خان کی رہائ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود پی ٹی آئ کی قیادت ان کے چمچے ہیں ۔۔
ہجرت کامران کے اغوا کے بعد آج صبح سے خوشحال گڑھ دھرنے پہ موجود ورکرز کو بھی دھمکی آمیز کالز موصول ہوئی ہیں۔
یہ لوگ 160 دن سے صرف اور صرف عمران خان کے لئے بیٹھے ہیں، چاہے علامتی طور پہ ہی سہی۔ گھر بار چھوڑ کر صرف عمران خان کی رہائی کی بات کرتے ہیں۔ ان کو۔نقصان پہنچا یا کوئی بھی اوچھی حرکت کی گئی تو بات یہاں نہیں رکے گی۔
ڈی چوک میں قتل عام ہوا اس کیس میں بیرسٹر گوہر کا بطور گواہ نام ڈالا گیا تھا لیکن وہ گواہی دینے گئے ہی نہیں، اس سے بڑی سہولت کاری اور کیا ہو گی، عمران ریاض خان
ڈاکڑ جلیل پاکستان Gen-Z کا قصور نہیں ہے! پاکستانی جرنیل ھندوستان اور اسرائیل کے سیاستدانوں سے زیادہ ظالم اور انسان دشمن ہیں! دہلی کی سڑکوں پہ وہ کچھ نہیں ہو سکتا جو بدنصیب پاکستان میں ممکن ہے!
ہم جتنا بھی برا بھلا کہیں عاصم منیر کو ISI کو جج مجوکا کو یا باقی لوگوں کو اس میں کوئی راۓ نہیں ہے کہ 26 نومبر کے قاتلوں میں ان سب کا نام آۓ گا لیکن سوال یہ بنتا ہے جنہوں نے اس مقدمے کی پیروی کرنی تھی آج 2 سالوں بعد آپ پریس کانفرس تو کر رہے ہیں آپ کی ذات اب بے داغ نہیں رہی
اس کے اوپر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور بجا اٹھ رہی ہیں
26 نومبر کے مقدمے میں بیرسٹر گوہر قصور وار نظر آتے ہیں انہوں نے اس مقدمے کی پیروی نہیں کی
شہزاد اکبر
کیونکہ عمران خان سے ملاقات نہیں ہورہی پی ٹی آئی کو اپنے آئین میں تبدیلی کرکے 3 مہینے کیلئے چیرمین الیکٹ کرنا چاہیئے ہر 3 مہینے بعد نئے چیئرمین کیلئے الیکشن ہوں اس طرح کسی ایک کا مفاد عمران خان کی قید نہیں رہے گا اور شاید کچھ حرکت ہو!
آپ کو لگ رہا ہوگا کہ یہ بھارتی فورسز جنتر منتر میں طلباء پر حملہ آور ہو گئی ہیں اور ان کو سیدھی گولیاں مار رہی ہے
لیکن آپ غلط سوچ رہے ہیں، یہ پاکستانی فورسز ہیں اور یہ دارالحکومت اسلام آباد میں پرامن مظاہرین کو مار رہی ہیں اور آپ کو یہ جان کر بھی حیرانگی ہوگی کہ بھارت میں ابھی تک ایک گولی نہیں چلائی گئی
بالاکل ہجرت کامران وہی ہے جس کے والد نے اپنی موت سے پہلے کہا تھا خان کو رہا کئے بغیر گھر نہ آنا ورنہ میں معاف نہیں کروں گا۔ 4 دن بعد اس کے والد فوت ہوئے لیہن یہ جنازے پہ بھی والد کی ہدایت اور اپنے نظرئیے اور خان سے عشق کی وجہ سے نہیں گیا اور اسلام آباد میں ایک بھرپور پاور شو کیا۔ اکثر پروگرامز کے پیچھے یہی مرد مجاہد ہوتا تھا لیہن نہ کبھی نام کی خواہش کی اور نہ شہرت کی۔
میری ہر دوست سے درخواست ہے کہ ایسے مخلص لوگوں کی قدر کریں، اس کے لئے آواز اٹھائیں