اےوطن_مجھےتیری پاکیزہ مٹی کی قسم
اےقائدِاعظم_مجھےآپ کےقدموں کی خاک کی قسم
اےمیرےوطن کےشہیدو_مجھےتمہارےمقدس لہُوکی قسم
اےمیرےوطن کےغازیو_مجھےتمہاری قربانیوں کی قسم
ہم اس ملک کےمجرموں،دشمنوں_اورانکوNROدینےوالوں کونشانِ عبرت بنادیں گے
@OfficialDGISPR@ImranKhanPTI@BBCUrdu
"سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی تحریک اور اسٹریٹ موومنٹ کہاں پہنچی؟ سلمان اکرم راجہ کی تنظیم سازی کہاں پہنچی؟ پنجاب کے پانچ رہنماؤں کی کمیٹی کہاں پہنچی؟" عمران خان
کیوں فیر چنگی ہوئی؟
فوج کو مقبولیت سے فرق نہیں پڑتا تھا، اب جب لوکل لوگ دوسری پارٹی کو سپورٹ کر رہے ہیں، انکی سہولتکاری کرتے ہیں تو فوج کی چیخیں سنی��۔
مقبولیت صرف زبان نہیں، عمل میں بھی نظر آتی ہے لیکن فوج کو اتنی عقل ہی نہیں۔
اب مذاکرات کا چورن بیچنے کی ناکام کوشش ہو گی۔
اس آفس کا ڈیکور دیکھ کر لگتا ہے پینجاب میں واقع ہی دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ @ajmaljami آپ کا کھبی اس جگہ سے گزرنا ہوا ہے۔ کچھ آگاہی فرمائیں گے۔
بلوچستان میں فوج کی نالائقی کی وجہ سے ماری بھی عوام جائے اور جب وہی عوام احتجاج کرنے سڑکوں پہ آئے تو اس عوام پہ بھی فوج سیدھی گولیاں چلائے۔
دہشتگرد نہ ان سے پکڑے جاتے ہیں ��ہ مارے جاتے ہیں لیکن نہتی عوام پہ پل پڑتے ہیں بزدل بیغرت ۔
چونکہ پاکستان کےاقتدار پر اصل قابض قوت پاکستان کی فوج ہے ، لہذا ہر بدامنی ، دہشتگردی ، معاشی و سماجی تباہی کی ذمہ داری فوج پر ہی عائد ہوتی ہے
اگر دہشتگردوں سے مقابلے کے دوران فوجی مرتے ہیں تو اسکی ذمہ داری بھی فوج کے محکمے پر ہی ہے
کرپٹو حرام ہے لیکن عمران خان سمیت ہزاروں سیاسی قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق صلب کرنا حلال ہے، ساٹھ ہزار سیاسی مقدمات درج کرنا حلال ہے، ارشد شریف ، ظل شاہ سمیت سینکڑوں معصوم پاکستانیوں کا قتل عام حلال ہے، لوگوں کی عزتوں کی پامالی اور کاروبار کی تباہی حلال ہے، کمال ہے ۔
”بلوچستان، آزاد جموں کشمیر اور خیبر پختونخوا میں جو اس وقت مسائل نظر آ رہے ہیں وہ دراصل 2024ء انتخابات کے فارم 45 ہیں جو پاکستان کی فضاء میں اڑتے پھر رہے ہیں۔ ملکی معیشت پر انتخابی دھاندلی کا بوجھ پڑا ہے جس کو یہ اٹھانے سے قاصر ہے اور آگے نہیں بڑھ رہی ہے۔ ملکی مسائل کا حل انتظامی طاقت سے ممکن نہیں بلکہ اس کیلئے بامعنی اور نتیجہ خیز بات چیت ناگزیر ہے۔ عمران خان ہی ایک ایسی شخصیت ہیں جن کی بات کو سنا جا سکتا ہے، اگر مسائل حل کرنا ہیں تو ان سے بات کر لیں۔“ حبیب اکرم
@HabibAkram
#خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان
عمران خان پچھلے تین سال سے قوم کی آزادی ، میڈیا کی آزادی ، ججز کی آزادی، پورے سسٹم کی آزادی کے لیے جیل میں بیٹھے ہیں۔
چھبیسویں ترمیم میں پورے نظام عدل کو مفلوج بنا دیا گیا ہے۔میڈیا کا گلہ گھونٹ دیا گیا ہے۔ میں نے آج جج صاحب کو بھی کہا کہ ہم آپ کی آزادی کے لیے کھڑے رہینگے ہم آزاد ججز کی ضرورت ہے۔ جو جج ضمیر بیچ کے آئے ان کو ترقی دی جارہی اور جنہوں نے حق کی خاطر سٹینڈ لیا ان کو دور دراز علاقوں میں پھینکا جارہا ہے۔
اگر عمران خان قوم کی خاطر جیل میں تین سال سے بیٹھے ہیں تو ہم سب پاکستانیوں کا بھی حق بنتا ہے کہ ہم اپنی آزادی کے لیے جیل جانے سے نہیں گھبرانا چاہئے۔ @Aleema_KhanPK
بہترین تجزیہ دیا ہے @HabibAkram نے اپنے ولاگ میں جس کا عنوان ہے”آئندہ بھی عمران خان“ - اس کا مفہوم #خان_کی_قید_ملک_کا_نقصان ہے اور اس کے کچھ اہم نکتے یہ ہیں:
- عمران خان کے خلاف سب کچھ کر کے دیکھ لیا مگر بات نہیں بنی
- ایک نئے سروے کے مطابق ۶۲٪ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہی پاکستان کے مسئلے حل کرسکتے ہے۔ جو سروے عمران خان کے حق میں ہوتے ہیں، وہ منظر عام پر نہیں آتے۔
- اگلی دو نسلوں کے لیے سیاست کا مہور عمران خان رہیں گے۔
- موجودہ بندوبست محض ایک سراب ہے، اس کا پیچھا کرتے رہے تو سب ہی پیاسے رہیں گے۔
اس نے کبھی مینڈیٹ چوری کرنے پر فتویٰ نہیں دیا، کبھی عورتوں کی عصمت دری پر فتویٰ نہیں دیا، کبھی چادر اور چار دیواری کا ��قدس پامال کرنے پر فتویٰ نہیں دیا، کبھی ماورائے عدالت قتل پر فتویٰ نہیں دیا، کبھی لوگوں کو جبری گمشدہ کرنے پر فتویٰ نہیں دیا، کبھی آئین توڑنے پر فتویٰ نہیں دیا۔ فتویٰ دیا بھی تو کس چیز پر؟ کرپٹو کرنسی پر۔
اخے علمائے کرام کی عزت کرنی چاہیے۔
مخے کام تمہارے لُلمائے کرام والے ہیں۔
یہ دہشتگرد اگر افغانستان سے آتے ہیں تو یہ ایران کیوں نہیں جاتے یہ چائنا کیوں نہیں جاتے ہماری قسمت میں کیوں ہے یہ دہشتگری ؟
عاصم منیر نے کہا تھا جن مل��وں کی فوج نہیں ہوتی ان ملکوں کا حال شام لبنان فلسطین جیسا ہو جاتا ہے ہمارے پاس تو دنیا کی لمبر ون فوج ہے پھر ہمارا حال کیوں ایسا ہے؟؟
بلوچستان میں 100 سے ذیادہ پولیس اہلکار بے رحمی سے مار دئیے گئے کہاں ہے اس ملک کے سیکیورٹی ادارے ؟