کروڑوں روپے کی تنخواہیں اور مراعات دیکر ایسے گھٹیا اور بےشرم جج بھرتی کرنے سے بہتر ہے کہ قوم چند اچھی نسل کے کتے پال لے
کم از کم؛ ایمان و قلم فروشی کا دھندہ تو نہیں کرینگے۔۔.!!!
ڈاکٹر یاسمین راشد کی وصیت 💔
حالات کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے، اس لیے میں اپنی عوام، پارٹی ورکرز اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس سے وصیت کرتی ہوں کہ عمران خان کو کبھی اکیلا نہ چھوڑنا۔..
اُس رات میں بہت دیر سے گھر لوٹا۔ میری بیوی حسبِ معمول لیٹی ہوئی تھی، مگر میں جانتا تھا کہ وہ سوئی نہیں تھی۔ غصے کی وجہ سے اس نے مجھ سے کوئی بات نہ کی۔ میں نے بچوں کو دیکھا، دونوں بےفکری سے سو رہے تھے۔
میں نے خاموشی سے وہ کپڑے پہنے جنہیں پہن کر دس سال پہلے اپنے گاؤں سے لندن آیا تھا۔ اگرچہ انہیں پرانے ہوئے دس برس گزر چکے تھے، مگر وہ مجھے آج بھی بہت عزیز تھے۔ مجھے اب بھی ان کپڑوں سے اپنی دادی کی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ جاتے وقت انہوں نے میرے دونوں رخسار چوم کر کہا تھا: “بیٹا، جب تم واپس آؤ گے، میں شاید زندہ نہ ہوں۔” ان کی وفات کو ڈھائی سال ہو چکے تھے۔
مجھے اپنے چچا بھی یاد آئے، جنہوں نے مجھے سینے سے لگایا، میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا تھا: “دیکھنا، وہاں ہمیشہ کے لیے نہ رک جانا۔” میرا ایک انقلابی دوست بھی اُس دن بہت اداس تھا۔ اس کی آنکھوں میں بڑے بڑے آنسو تھے، لیکن بعد میں اس نے یہ مشکل راستہ چھوڑ دیا اور آسان راہ اختیار کر لی۔
میری بیوی نے کروٹ بدلی۔ میں جانتا تھا کہ وہ ان باتوں کو نہیں سمجھتی؛ وطن کیا ہوتا ہے، غلامی کیا ہوتی ہے، وطن کے سچے بیٹے کون ہوتے ہیں، غدار کون ہوتا ہے، اور جدوجہد کس چیز کا نام ہے۔ میں انتظار کر رہا تھا کہ وہ ضرور کچھ کہے گی اور میری ساری رات خراب کر دے گی۔
اس نے کہا:
“کبھی وقت بھی دیکھا ہے؟ یہ کتنے بجے ہیں؟”
میں نے جواب دیا:
“دو بجے ہیں۔”
پھر بات بدلنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا:
“بچوں نے کھانا کھا لیا تھا؟”
اس نے کہا:
“نہیں، چھوٹی رو رہی تھی کہ میں بابا کے ساتھ کھانا کھاؤں گی۔ میں نے اسے کئی بار سمجھایا کہ بابا دیر سے آئیں گے، لیکن جب بہت ضد کی تو میں نے ایک تھپڑ مار دیا۔ روتے روتے سو گئی، اب بھی سسکیاں لے رہی ہے۔”
میرا دل بہت دکھا، مگر میں نہیں چاہتا تھا کہ آدھی رات کو جھگڑا ہو، اس لیے خاموشی سے لیٹ گیا۔
کچھ دیر بعد اس نے پھر پوچھا:
“کیا تم یہ سیاست نہیں چھوڑ سکتے؟ اس سیاست میں رکھا ہی کیا ہے؟”
میں نے کہا:
“لوگ سیاست ذاتی فائدے کے لیے نہیں کرتے۔ ذاتی فائدے کے لیے لوگ دکان چلاتے ہیں، ٹیکسی چلاتے ہیں یا ہوٹل میں کام کرتے ہیں۔ سیاست اپنے وطن کے ہر بچے کی بھلائی کے لیے کی جاتی ہے۔
بہت سے بچے شام کو اپنی ماؤں سے کہتے ہیں کہ ہم بابا کے ساتھ کھانا کھائیں گے، مگر ان کے باپ بم دھماکوں میں مارے جا چکے ہوتے ہیں۔ کچھ کے باپ حکمرانوں کی پولیس اٹھا لے جاتی ہے، جن کا پھر کوئی پتہ نہیں چلتا۔ کچھ کے باپ پردیس میں مزدوری کر رہے ہوتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنے بچوں کے لیے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔”
اس رات میں نے پوری کوشش کی کہ اپنی بیوی کو سمجھا سکوں کہ میرے لیے میرا وطن اور میری قوم ہر چیز سے بڑھ کر ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ایک بےنام موت مروں اور میری لاش قونصل خانے کی گاڑی لے جائے۔ میں چاہتا ہوں کہ وطن کے ایک بیٹے کے طور پر مروں، ایک جدوجہد کرنے والے انسان کے طور پر مروں۔ میری زندگی کے شاید دس سال باقی ہوں یا صرف پانچ، میں وہ وقت اپنی قوم اور اپنے لوگوں کے لیے وقف کرنا چاہتا ہوں۔
لیکن اس نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ آج آخری فیصلہ ہو کر رہے گا۔
صبح چار بجے میں نے اس کے ساتھ سامان بکسوں میں رکھا۔ میں نے اپنے بچوں کو بار بار چوما۔ وہ صبح سات بجے برلن جانے والی ٹرین میں سوار ہو گئی۔ بچے بہت روئے، مگر اس وقت مجھے صرف اپنے دو بچوں کی نہیں بلکہ اپنے وطن کے ہر بچے کی مسکراہٹ عزیز تھی۔ میں چاہتا تھا کہ میرے وطن کے کسی بھی بچے کی آنکھ آنسوؤں سے نہ بھیگے۔
اسٹیشن سے میں نے اپنے ساتھیوں کو فون کیا اور کہا:
“آج کے بعد میرگھر جماعت کا مرکزی دفتر ہے، اور میں دن رات آپ لوگوں کے ساتھ رہوں گا۔”
اگلے دس برسوں میں میری بیوی نے صرف ایک بار مجھے فون کیا اور پوچھا:
“تمہارا آخری فیصلہ کیا ہے؟”
میں نے اسے وہی جواب دیا جو پہلے دیا تھا۔ اس نے کہا:
“میں ایک ڈاکٹر سے شادی کر رہی ہوں۔”
میں نے اپنے اکاؤنٹ میں بچے ہوئے آخری پانچ پاؤنڈ اور تیس پینس اسے بھیج دیے تاکہ وہ میری طرف سے اپنی شادی کے لیے ایک گلدستہ خریدلے۔۔
عمران خان کو سخت ترین قید میں 1055 دن ہو گئے ہیں
لیکن اج تک عمران خان نے جیل سے یہ پیغام نہیں بھیجا کہ میرے لیے کوئی ڈیل مانگو یا کوئی ریلیف دے کر دو.
عمران خان نے قوم کی خود مختاری اور عزت پر ذرا بھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اج تک قوم کی خود مختاری کی جنگ لڑ رہا ہے..
احمد حسن بوبک
@ahmad__bobak
اتوار کے دن سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کہ کبھی کبھی رک کر جینا بھی ضروری ہے۔
ہم ساری زندگی کسی نہ کسی منزل کی طرف دوڑتے رہتے ہیں۔ کام، ذمہ داریاں، منصوبے اور مصروفیات...
مگر انسان صرف کام کرنے کے لیے نہیں، بلکہ زندگی کو محسوس کرنے کے لیے بھی پیدا ہوا ہے۔
Happy Sunday