@PTIofficial@SohailAfridiISF so he should be praised for this?
Wht about meeting with @ImranKhanPTI and shifting him to Hospital?
In one way or other its still supporting establishment and current regime
@PTIofficial انصافینز! خبر دار ہوشیار
صوبائی کابینہ KP نے 48 ارب خسارے کا بجٹ منظوری ❌️❌️ فیک نیوز
بجٹ سرپلس ہی ہے بس عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔
عمران خان سے ملاقات بغیر بجٹ نامنظور
آسٹریلوی اوورسیز بچی کے دادا نے بڑا سوال اٹھادیا
اگر چور اور ڈیکیت کو گولی ماری جاسکتی ہے, تو CCDوالو کو کیوں نہیں ماری جاسکتی!!
ہمارا گھر اجاڑا گیا ہے, ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے!
کدھر ہیں تمبر کے ڈنڈے؟؟
کیوں ان بےغیرت فوجیوں کی بکواس سنتے ہو یار؟ تم فوجیوں کو "آپ جناب" کہہ کر کیوں مخاطب کرتے ہو یارا؟
ان دلی دے بچے فوجیاں دی سوکھی ٹوئ وچوں تمبر گزارو تے حلق توں بار کڈھو
پین یکاں دا اکو علاج اے 💊
وفاقی وزرا کا دعویٰ ہےتحریک انصاف اندرونی اختلافات کا شکار ہے اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئی ہے یہ تو 10ہزار بندے بھی اکٹھےکرنے کے قابل نہیں اگر یہ درست ہے تو پھر وفاقی حکومت کےپاس سنہری موقع آ گیا تحریک انصاف کو مینار پاکستان یا ��یاقت باغ میں جلسے کی اجازت دیدیں تا کہ یہ ایکسپوز ہو جائیں
@salmanAraja Stop this drama for god sake your already senior lawyer and you know better your rights then why you make no need pre make videos to prove you have been stopped just dont come please don’t share your cowardice
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو ع��ران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اس��ام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد ک�� عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے