وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدرات زرعی شعبے کی اصلاحات اور شعبے کی ترقی کیلئے حکومت کے پالیسی اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا
فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے چھوٹے و درمیانے درجے کی کسانوں کو ہر قسم کی معاونت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیرِ اعظم
سرٹیفیائید کمپنیوں کی جانب سے کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیرِ اعظم
تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر فصلوں کی پیداوار کے قومی سطح پر تخمینوں کیلئے جامع پلان مرتب کیا جائے۔ وزیرِ اعظم
زرعی شعبے کی ترقی کیلئے زرعی تحقیق کے اداروں کو مزید فعال بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم
یقینی بنایا جائے کہ چھوٹے و درمیانے درجے کے کسان حکومت کی زرعی شعبے میں جدت کی اصلاحات سے بھرپور استفادہ حاصل کریں۔ وزیرِ اعظم
چین سے گزشتہ برس زرعی تربیت حاصل کرکے واپس آنے والے طلباء و طالبات کے تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ وزیرِ اعظم
رواں برس چین میں زرعی شعبے کی تربیت کیلئے جانے والے طلباء و طالبات کے انتخاب میں میرٹ و شفافیت کو اولین ترجیح دی جائے۔ وزیرِ اعظم
وزیرِ اعظم نے نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کی اصلاحات کی منظوری دیتے ہوئے انہیں جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی
نیشنل ایگری کلچر ریسرچ سینٹر اور پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل کو مزید فعال بنا کر انہیں بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کیا جائے. وزیرِ اعظم
اجلاس کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے زرعی شعبے کی اصلاحات کیلئے اقدامات پر عملدرآمد پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا
اجلاس کو ملک میں گندم کی طلب، کاشت کے رقبے اور آئندہ فصل کی پیداوار کے تخمینے پر بھی بریفنگ دی گئی. وزیرِ اعظم نے تمام اسٹیک ہولڈز سے مشاورت کے بعد قومی سطح پر فصلوں کے تخمینوں کیلئے ایک جامع نظام مرتب کرنے کی ہدایت کی
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پلان 2026-27 کے تحت ترجیحی اقدامات پر پیش رفت تیز کردی گئی ہے۔ منصوبے میں کسانوں کو مالی سہولت، زرعی مشینری کی فراہمی، جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن، تحقیق و استعدادِ کار میں اضافہ اور غذائی تحفظ سمیت مختلف شعبوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اہم اقدامات میں کین گراور ری فنانسنگ، فصلوں کی انشورنس، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسید فنانسنگ، فارم مشینری فنانسنگ اور وزیراعظم نیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام شامل ہیں
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بھی ترجیح دی جارہی ہے۔ پاکستان ٹوبیکو بورڈ آٹومیشن پراجیکٹ، سپارکو کے ذریعے فصلوں کے جائزے کے پروگرام اور کیڑوں و پودوں کی شناخت کے لیے اے آئی پر مبنی ایپ سمیت مختلف اقدامات پر پیش رفت جاری ہے۔ متعدد قلیل مدتی اقدامات پر عملدرآمد شروع ہوچکا ہے
اجلاس کو ملکی برآمدات اور دیہی آمدن میں اضافے کیلئے آرگینک زراعت کے فروغ کے حوالے سے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی. اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان میں کپاس اور کھجور سمیت منتخب زرعی کلسٹرز کو آرگینک پیداوار کے پائلٹ علاقوں کے طور پر ترقی دینے، قومی آرگینک پالیسی اور معیارات وضع کرنے، گروپ سرٹیفکیشن متعارف کرانے اور ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی نظام قائم کرنے پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی زرعی اجناس کی ویلیو چین، برآمدی استعداد اور کسانوں کی آمدن بڑھانے کے لیے ریسرچ، سرٹیفکیشن، اسٹوریج، پراسیسنگ اور عالمی منڈیوں تک رسائی کو مربوط بنانے کیلئے بھی اقدامات پر کام تیزی سے جاری ہے
اجلاس کو این اے آر سی کے نئے ماسٹر پلان کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ نیشنل ایگریکلچر ریسرچ سینٹر کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے اسے 7 ڈسٹرکٹس میں تقسیم کیا جارہا ہے. نئے ماسٹر پلان کے تحت پانچ سینٹر آف ایکسیلینس، ریفیرنس لیبارٹریاں، بائیو ریپازیٹری، نئے تحقیقی سینٹرز بشمول نجی شعبے کیلئے تحقیقی پارک، بین الاقوامی تعاون کیلئے سینٹر، لیونگ لیبارٹری اور پبلک ڈسکوری پارک جیسی سہولتیں قائم کی جائیں گی. وزیرِ اعظم نے ماسٹر پلان کی منظوری دیتے ہوئے اسے جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی
اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، اعظم نذیر تارڑ، رانا تنویر حسین اور وزیرِ اعظم کے کوارڈینیٹر برائے زراعت احمد عمیر نے شرکت کی. نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، مشیر وزیرِ اعظم محمد علی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلی حکام نے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی
ایک اللہ، ایک رسول ﷺ، ایک قرآن
ایک کلمہ، ایک قبلہ، ایک پہچان 🇵🇰 🇸🇦 🇹🇷
ترکیہ، سعودیہ اور پاکستان!!!
اخوت، ایمان اور مشترکہ دفاعی عزم کے مضبوط رشتے میں متحد۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے موقع پر خصوصی نغمہ جاری۔
#MakkahDefenceAgreement#PakistanSaudiTürkiye
🇵🇰🤝🏻🇺🇸 | اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نفاذ پر برجن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ میں جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات کے موقع پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے چیف آف ڈیفنس فورسز، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔
#PakistanForPeace
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بیجنگ میں صدر شی جنپنگ کے ساتھ ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج بیجنگ میں چین کے صدر شی جنپنگ سے نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں ہوئی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سمیت دیگر اعلیٰ وزراء اور سرکاری حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعظم نے صدر شی جنپنگ کی جانب سے پرتپاک استقبال پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان۔چین دیرینہ اسٹریٹیجک کوآپریٹو شراکت داری پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی تناظر میں دونوں ممالک کی آہنی دوستی کی اسٹریٹجک اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
وزیراعظم نے چین کے بنیادی مفادات، خصوصاً “ون چائنا پالیسی” پر پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، قومی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے چین کی مسلسل حمایت کو سراہا۔
وزیراعظم نے ایک روز قبل ہانگژو کے کامیاب دورے کا ذکر کرتے ہوئے ژجیانگ صوبے کی ترقی میں صدر شی جن پنگ کے کلیدی کردار کو سراہا، جہاں وہ 2002ء سے 2007ء تک گورنر رہے تھے۔
انہوں نے صدر شی جنپنگ کی جراتمندانہ اور دوراندیش قیادت کی بھی تعریف کی، جس نے چین کو ایک عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا۔
علاقائی امن کے لیے چین کی حمایت کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صدر شی جن پنگ کی علاقائی امن کے لیے پیش کردہ چار نکاتی تجویز کو وسیع پیمانے پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ غیر یقینی اور کشیدہ عالمی حالات میں پاکستان اور چین کی دوستی اور تعاون خطے اور دنیا میں استحکام کا اہم ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔
انہوں نے صدر شی جن پنگ کے وژن پر مبنی عالمی اقدامات، جن میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو، گلوبل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو، گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو، گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو اور گلوبل گورننس انیشی ایٹو شامل ہیں، کو سراہا۔ وزیراعظم نے “انسانیت کے مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری” کے وژن کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا بھی اعادہ کیا۔
وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اسٹریٹجک رابطہ کاری کو مزید مضبوط کیا جائے، سی پیک کی ترقی کو آگے بڑھایا جائے اور چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کو “اڑان پاکستان” پروگرام سے ہم آہنگ کیا جائے۔ تاکہ صنعتکاری، باہمی روابط، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، قابل تجدید و صاف توانائی اور ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں وسیع تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین کے خلائی اسٹیشن پروگرام کے لیے پاکستانی خلا بازوں کا انتخاب پاکستان۔چین تعاون کی بڑھتی ہوئی مضبوطی کا مظہر ہے۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور پاکستان نے باہمی اعتماد، تفہیم اور تعاون پر مبنی “ناقابلِ شکست روایتی دوستی” قائم کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی حالات میں تبدیلیوں کے باوجود چین اپنی ہمسایہ پالیسی میں پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ترجیح دے گا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان۔چین دوستی کی تاریخی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے 75ویں سالگرہ کو اسٹریٹجک، عملی اور مستقبل پر مبنی تعاون کے ایک نئے دور میں تبدیل کیا جائے گا۔
#PMShehbazInChina
🇵🇰🤝🇮🇷 | Arrival of the delegation of the Islamic Republic of Iran for Islamabad Talks
A high-powered delegation of the Islamic Republic of Iran led by Speaker of the Iranian Parliament H.E. Mohammad Bagher Ghalibaf along with Foreign Minister of Islamic Republic of Iran H.E. Abbas Araghchi arrived in Islamabad today to participate in Islamabad Talks.
The Iranian delegation was received by Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar along with Speaker National Assembly Sardar Ayaz Sadiq, Chief of Defence Forces & Chief of Army Staff Field Marshall Syed Asim Munir and Minister for Interior Syed Mohsin Raza Naqvi upon arrival.
DPM/FM expressed the hope that parties would engage constructively, and reiterated Pakistan’s desire to continue facilitating the parties towards reaching lasting and durable solution to the conflict.
#IslamabadTalks
Met the incredibly intelligent Ms. @AseefaBZ, the First Lady, courtesy @RubinakhalidPPP, who briefed her on BISP’s work. Found her a good listener—pro-poor, respectful & grounded. Having the privilege of meeting SM BB, @AseefaBZ truly reminds us of her mother. More power to her
ہمیں پاکستانی افواج پر فخر ہے جنہوں نے افغانستان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا
سوات اور باجوڑ کے عوام کی جانب سے پاک فوج کی جوابی کاروائی کا خیر مقدم
ہماری افواج الحمدللہ اس قابل ہیں کہ وہ اس دھرتی کی حفاظت کر سکیں، عوام
پاک افواج نے بھرپور اور بروقت جواب دیا ہے۔
ہم عوام اپنی پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ہم نے افغان بھائیوں کو یہاں رہائش دی، انہیں روٹی کھلائی، پہناوے اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ یہ سب انسانیت اور بھائی چارے کا تقاضا تھا، عوام
پاکستان کی برتری اور طاقت کے باوجود پاکستان نے سیز فائر کو قبول کیا۔ ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بروقت کردار ادا کر کے جنوبی ایشیا میں ایک بڑی جنگ سے بچایا۔ اسی طرح ہم اپنے دوست ممالک جن میں چین، سعودی عرب، ترکیہ، آذربائیجان، قطر، یو اے ای اور اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے مشکور ہیں جنہوں نے سفارتی محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب
#PMShehbazSharifUNGA
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان کی دعوت پر ریاض کا سرکاری دورہ کیا جہاں ال یمامہ پیلس میں باضابطہ مذاکرات کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ” (SMDA) پر دستخط ہوئے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر جارحیت دونوں ملکوں پر جارحیت تصور ہوگی۔
#PakistanSaudiPartnership
🇵🇰🇨🇳 The Prime Minister of Pakistan meets with the Premier of China
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif met Premier Li Qiang of the People’s Republic of China, in Beijing, earlier today. The delegation-level talks were followed by a sumptuous luncheon, hosted by the Chinese Premier in honor of the Prime Minister and his delegation.
During their warm and friendly meeting, the two leaders expressed their satisfaction at the positive trajectory of Pakistan-China relations. The Prime Minister expressed his deepest gratitude to the Chinese leadership and nation for their unflinching support to Pakistan’s territorial integrity, sovereignty, and socio-economic development.
Building on the important consensus reached between President Xi Jinping and the Prime Minister in their meeting on 2 September, 2025, both Premier Li and Prime Minister Shehbaz Sharif reaffirmed their shared resolve to further strengthen the iron-clad, all-weather strategic cooperative partnership between Pakistan and China. The signing of the Joint Action Plan 2024-2029 was deemed as an important step in this regard.
The Prime Minister congratulated the Chinese leadership on the successful hosting of the SCO Council of Heads of State Summit in Tianjin and extended his felicitations to China on the 80th anniversary of the success of the Chinese people in the War of Resistance and World’s Anti-Fascist War.
While paying rich tribute to China’s impressive transformation under President Xi Jinping’s visionary leadership, the Prime Minister stated that Pakistan wanted to emulate China’s successes and build a stronger and closer Pakistan-China community with a shared future.
The Prime Minister noted that the Government’s tireless reform efforts were yielding promising results, made possible through China’s strong support.
He also shared Pakistan’s intent to float Panda Bonds in the Chinese capital market soon.
On the economic front, the Prime Minister highlighted the significant contribution of the China Pakistan Economic Corridor - a flagship project of President Xi’s Belt and Road Initiative (BRI), in Pakistan’s socio-economic development in the past decade, and stressed upon the need for early implementation of ML-I, KKH realignment and operationalization of the Gwadar Port. Both sides also agreed to continue working closely on the next phase of upgraded CPEC 2.0, with its five new corridors.
Emphasizing on the vast potential for B2B cooperation and investment, the Prime Minister briefed the Chinese Premier on the B2B Investment Conference held earlier in the day, where more than 300 Pakistani and 500 Chinese companies were in attendance. He identified agriculture, mines and minerals, textile, industrial sector and IT as priority areas for mutually beneficial economic collaboration.
The Prime Minister reiterated Pakistan’s support for President Xi Jinping’s landmark initiatives to strengthen multilateralism, including the Global Governance Initiative, Global Development Initiative, Global Security Initiative as well as Global Civilization Initiative.
Both countries would celebrate the 75th anniversary of establishment of Pakistan-China diplomatic ties, next year.
Both the leaders also attended the ceremony of sharing of Memorandums of understanding and agreements signed and announced between the two countries with regard to cooperation in the development of CPEC 2.0, science and technology, IT, media, agriculture, etc.
#PMShehbazDiplomacy
کیا ہی لا جواب لینڈنگ ہے۔
اے میرے پروردگار تیری عظمت کو سلام تو نے کیسی کسی خوبصورت مخلوقات تخلیق کی ہیں۔۔
میرے کریم رب تیری عظمت ، کاریگری ،
اور بڑائی کو سلام۔
Had the pleasure of meeting Mr. Shi Yuanqiang, Deputy Chief of Mission China Embassy in Pakistan. We discussed media landscapes, digital media, fake news & bilateral media cooperation. He is a true friend of Pakistan, optimistic about CPEC’s transformative potential @CathayPak