پنجاب حکومت کو۔مدرٹریسا بننے کا وکھرا کیڑا کاٹتا ہے۔
بلوچستان سے لاشیں آتیں انکے لئے مخصوص کوٹہ۔
ابھی کشمیر احتجاج میں پنجاب کا کوئی لینا دینا نہیں تھا ہر اس پہاڑییے نے پنجاب کو ہیرامنڈی والا کہا جسکی سگی بہنیں خالائیں وہاں بیائی ہیں۔
ہر وہ اخروٹ پنجابیوں کو ہیرامنڈی کی اولاد کہتا جو اپنی بہن بیٹی ہیرمنڈی بیچ کر آیا ۔
اور ان سب کےلئے کوٹے رکھے ہیں پنجاب نے
جوں جوں سندھ میں نئے صوبے بننے کی بحث میں تیزی آئے گی، اسٹیبلشمنٹ کا دباؤ بڑھے گا سندھ سرکار کے کالے دھندوں کے ریکارڈ کے حامل سرکاری دفتروں میں آگ لگنے کے واقعات میں تیزی آئے گی۔
ابھی تو کے ایم سی، ایس بی سی، سندھ کے سرکاری دفاتر میں بھی آگ لگنی ہے تاکہ اٹھارہ سالوں کی کرپشن کا سارا ریکارڈ جلایا جاسکے۔
سرکاری ریکارڈ جلائے جانے کے واقعات اس بات کا اعتراف ہے کہ اب ریت بند مٹھی سے نکلتی جارہی ہے
شمع بجھنے سے پہلے آخری بار ضرور پھڑپھڑاتی ہے
یہ وہی پھڑپھڑاہٹ ہے
سندھ کی مظلوم عوام کو مبارک ہو
سورج طلوع ہونے کو ہے ✌🏻✌🏻✌🏻
ساٹھ سے زائد عمر ہو گئی، پنجاب یا کراچی میں کوئی گاڑی چوری ہو، کوئی مفرور ہو، کوئی اغوا ہو، کوئی ڈاکو ہو، آخر کار خیبر پختونخواہ کے پختون علاقوں سے ہی ملتا ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے اس میں برا منانے والی کون سی بات ہے؟
صبح بخیر
یہ سوات کے چند بدراہ لڑکے دراصل پی ٹی ایم کے زہریلے پراپیگنڈے سے شدید متاثر ہیں، اور ان کی جاہلانہ باتیں اس بات کا واضح ثبوت ہیں، یہ لڑکے نہ تو کسی میڈیکل یونیورسٹی کے ایم بی بی ایس کے طالب علم ہیں اور نہ ہی لاہور میں ہیں، بلکہ اسلام آباد میں زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سے ایک بچہ ایم ایل ٹی (Medical Lab Technology) پڑھ رہا ہے یعنی وہ کوئی ڈاکٹر نہیں بلکہ محض ایک لیب ٹیکنیشن بنے گا، دوسرا شخص کاروبار کا کہہ رہا ہے ، یہ تاریخی اور سیاسی جاہلیت جھاڑ رہا ہے۔یہ جاہل دعویٰ کر رہا ہے کہ سوات 1969 میں پاکستان سے ملا، حالانکہ اسے الحاق اور انضمام کا بنیادی فرق ہی نہیں معلوم۔ ریاستِ سوات کے والی، میاں گل عبدالودود نے 1947ء ہی میں بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ پاکستان سے الحاق کے معاہدے پر باقاعدہ دستخط کر دیے تھے۔ 1969ء میں تو ریاست کا باضابطہ انتظامی انضمام کر کے اسے ضلع کی حیثیت دی گئی تھی، جس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ سوات اس سے پہلے پاکستان کا حصہ نہیں تھا۔
یہ ناسمجھ لوگ افغان اور پختون کے فرق کو سمجھے بغیر ہر پختون کو افغان سمجھ بیٹھتے ہیں۔یہ کہتا ہے سوات افغانستان ہے ، سوات کی 3,000 سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، اس پر کبھی بھی افغانستان کی کوئی حکومت یا انتظامی قبضہ نہیں رہا۔ حتیٰ کہ احمد شاہ ابدالی کے دور میں بھی سوات کی اپنی خودمختار یوسفزئی قبائلی اور مقامی حیثیت قائم تھی اور وہ کبھی افغان ریاست کا حصہ نہیں رہا۔ بہرحال افغانی نہیں ہے،حکومت کو ایسے تمام شرپسندوں کی کم از کم شناختی کارڈ بلاک کرنا چاہیے ،ان پر سرکاری نوکری حاصل کرنے پر تاحیات پابندی لگانا چاہیے،
For Information 🇵🇰
Yalda Hakim is an afghan, she was given refugee in Pakistan, Pakistan provided her education, security & safety, today she is one of the biggest propagandist against Pakistan 🇵🇰
ایران نے جولائی 2025 تک 18 لاکھ افغانیوں کو مُلک بدر کیا کسی رشین بریڈ افغانی پختون جو پاکستان میں مقیم ہے اُس کی ڈیش نے پٹاخے نہیں مارے
ان میں 60 ہزار وہ سٹوڈنٹ ہیں جو ایرانی یونیورسٹیوں سے نکالے گے تھے
یہاں دس نمک حرام نکالے تو ٹسوے بہانا شروع کر دئیے
پنجاب حکومت کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے کم ہے ❤️
میری اک پروفیشنل دوست تھیں، آریا نجات نام تھا ان کا۔ 2005 کے آس پاس قائد اعظم یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھیں۔ کچھ عرصہ انہوں نے بی ایچ پی بِلیٹن میں بھی جاب کی۔ اک شام بلیو ایریا سے گزرتے ہوئے انہوں نے پاکستان سے بےپناہ نفرت کا اظہار کیا جسے میں شروع میں مذاق سمجھا، بعد از یہی بات انہوں نے دو تین مرتبہ کہی تو عرض کیا کہ میرے سامنے مت کہا کریں۔ سلام دعا ہولے ہولے ختم ہو گئی۔ پھر آئی ٹین ٹو میں بلال عباسی نامی دوست تھا۔ اس کے دوسرے گھر میں نیچے والے پورشن میں نمل اور اسلامک یونیورسٹی سے پڑھنے والے افغان رہتے تھے جن کے یو این ایچ سی آر کے تحت ویزوں کا کیس چل رہا تھا۔ عباسی کو پشتو بھی آتی تھی، مگر اس افغان خاندان کو یہ معلوم نہ تھا۔ اک دن اوپر کے پورشن کی مرمت وغیرہ کرواتے اس نے انہیں فون پر پاکستان اور پاکستانیوں کے بےپناہ برائیاں کرتے سنا تو جاتے ہوئے سلام دعا کرتے ہوئے ان سے پشتو میں پوچھا تو ان کی تریلیاں نکل آئیں۔ جوابا بتایا کہ انہیں اپنے کیس کو تیز کرنے کے لیے یہ سب کہنا پڑتا ہے۔ جب عباسی کا مکان خالی کر کے گئے تو اس کے ڈبلیو سیز میں مٹی ریت اور سیمنٹ ڈال گئے اور باقی چیزیں بھی برباد کیں۔ عباسی نے اس دن کے بعد افغانوں کو مکان کرائے پر نہ دیا۔ آپ اس بات پر کیوں مصر ہیں کہ اپنی جلد اتارنے سے سانپ کی فطرت بدل جائے گی؟ افغانوں نے، بالخصوص، افغان پشتونوں نے تو پاکستان پشتونوں کو بےپناہ بےدردی سے قتل و غارتگری کا شکار بنا رکھا ہے۔ ان لوگوں کی حمایت کم از کم الفاظ میں بھی کہا جائے تو بہت بڑی چوَل ہے۔
Truly hope that @GovtofPakistan@ForeignOfficePk@OfficialDGISPR stay put and expel these and all other Afghans from Pakistan. The Afghans can go to their DNA-brothers in India. Pakistan has suffered enough, and continues to suffer every. single. day. until today. Good riddance.
کِھلائو کھانا شانا، کوئی دیو تین چار ہزار بس، زیادہ نہیں، آپ بھائی ہو، اسلام آباد میں سسٹم ری سیٹ ہو گیا، پولیس نے شہریوں کو بھائی بنانا شروع کر دیا۔۔!!
بہترین فیصلہ👏
کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، لاہور نے 20 افغان اسٹوڈنٹس جو پاکستان خلاف نفرت انگیز پروان چڑھا رہے تھے کو یونیورسٹی سے نکال دیا جن میں 7 فائنل ایئر کے اسٹوڈنٹس شامل ہیں،
اب جو لوگ افغان طلبہ کے اخراج پر ماتم کر رہے ہیں، وہ ذرا آئینہ بھی دیکھ لیں۔ اگر کسی ملک میں رہ کر اسی ملک کے خلاف نفرت پھیلائی جائے، اس کی سلامتی کے خلاف سوچ پروان چڑھائی جائے اور پھر ریاست کارروائی کرے تو اسے ظلم نہیں، ریاست کا حق کہتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ افغان نوجوانوں کے ذہنوں میں پاکستان کے خلاف یہ زہر بھرا کس نے؟
اس کی ذمہ دار بھی وہ افغان حکومتیں ہے جنہوں نے دہائیوں تک پاکستان دشمن بیانیے کو ہوا دی، اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالا اور نوجوان نسل کو نفرت کی سیاست میں دھکیلا۔ وہی حکومتیں کبھی بھارت کی گود میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرتی رہیں، کبھی پاکستان کو برباد کرنے کی دھمکیاں دیتی رہیں،تو کبھی سیم ڈی این اے کے نعرے لگاتی رہی اہنی سرحدیں تک پاکستان خلاف دہشتگردی کے لیے بھارت کو دیتی رہی،،اور آج اسی سوچ کی بازگشت افغان نوجوانوں میں سنائی دیتی ہے تو حیرت نہیں ہے
پاکستان نے مشکل وقت میں افغانستان کے عوام کے لیے اپنے دروازے کھولے، لاکھوں لوگوں کو پناہ دی، تعلیم اور روزگار کے مواقع دیے۔ بدلے میں اگر کوئی پاکستان ہی کے خلاف نفرت پھیلائے پاکستان میں رہتے پاکستان کے وجود کو ماننے سے انکار کرے پاکستان کو لہو لہان کرے اور اس لہو لہان ہوتے پاکستان پر قہقہے لگائے تو پھر مہمان نوازی کا بھی ایک مقام ہے اور ریاستی غیرت کی بھی ایک حد ہے،
رونے، واویلا کرنے اور پاکستان کو قصوروار ٹھہرانے سے پہلے یہ سوال اپنے افغان طالبان حکمرانوں سے کریں کہ انہوں نے اپنی نسلوں کو کیا سکھایا؟
پاکستان کسی کا غلام نہیں، کسی کا اکھاڑہ نہیں اور نہ ہی اپنی ہی سرزمین کے خلاف نفرت برداشت کرنے کا پابند ہے۔ جو یہاں رہے گا، اسے پاکستان کے قانون اور ریاستی وقار کا احترام کرنا ہوگا۔
مہمان کی عزت ضرور، مگر پاکستان دشمنی کی قیمت ضرور ادا کرنا ہوگی۔