کسی ایسے سندھی، پختون، بلوچ یا قوم پرست رہنما کا نام بتائیں جس نے کبھی آئی پی پیز (IPPs) کے خلاف مہم چلائی ہو؟
کیا یہ آئی پی پیز صرف پنجابیوں کا ہی خون نچوڑ رہی ہیں؟
کیا یہ سندھیوں، بلوچوں اور پشتونوں کا خون نہیں نچوڑ رہیں؟
افغانی نمک حرام اور دہشت گرد ہیں
پاکستان کی سرزمین پر ایک بھی افغانی ناقابلِ برداشت ہے
انہیں چاہئے بھارت اور اسرائیل پڑھائی کرنے جائیں
جن کے ایماء پر پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں
@capricorn_lhr یہ پنجاب کے کالج یونیورسٹی میں پنجابی کو داخلہ ملتا نہیں میرٹ کی بنا پر اور باہر والوں کو ملتے ہیں داخلے بھی اور سکالر شپ بھی.
اس پر شاعر نے کیا خوب کہا تھا.
آپنیاں نوں نہیں دینی، کھنگیاں کولوں پڑوا لینی.
ویلڈن پنجاب
پچھلے گيارہ ماہ میں بارہ ارب ڈالر بجلی بنانے والی کمپنیوں کو دے دیئے گئے۔
یا قریب قریب اتنی ہی رقم ہے جتنی پچھلے تین سال میں آئی ایم ایف سے قرض لی ہے۔
یعنی باہر سے ڈالر پکڑ کر بجلی بنانے والی کمپنیوں میں تقسیم۔
اس کے باوجود لوڈشیڈنگ۔
"ہم نے پاکستان کو اندھیروں سے نکالا۔"
معدنیات سے متعلق اس طرح کی باتیں کرنے والے اتنہائی بیوقوف لوگ ہوتے ہیں
1: معدنیات کی تلاش کا لائسنس حاصل کرنے کی لاگت
2: معدنیات کو تلاش کرنے کی لاگت
3: معدنیات تک پہنچنے کیلئے سرنگیں یا کنوئیں بنانے کی لاگت
4: معدنیات نکالنے کی لاگت
5: معدنیات پراسیس کرنے کی لاگت
+
یہ کیسا معاشی ماڈل ہے کہ عوام بجلی کے بلوں، ٹیکسوں اور مہنگائی تلے دبے رہیں اور صرف 11 ماہ میں پاور پلانٹس کو 29 کھرب 35 ارب روپے ادا کر دیے جائیں؟
درآمدی کوئلے والے پلانٹس کو تقریباً 638 ارب اور RLNG پلانٹس کو 527 ارب روپے گئے، جبکہ اسی ملک کے ترقیاتی منصوبوں پر 11 ماہ میں محض 530 ارب روپے خرچ ہوئے۔
مزید تشویش ناک بات یہ ہے کہ NEPRA اور پاور ڈویژن خود درآمدی کوئلے کی خریداری میں غیر شفاف اور غیر مؤثر طریقۂ کار سے صارفین پر اضافی بوجھ پڑنے کی نشاندہی کر چکے ہیں۔
قوم کو جواب چاہیے: معاہدے کس نے کیے؟ Capacity payments اور مہنگی بجلی کے ڈھانچے کو بنیادی طور پر کیوں نہیں بدلا گیا؟ ہر خسارے، نااہلی اور غلط پالیسی کی قیمت صرف بجلی کا صارف ہی کیوں ادا کرے؟
عوام کی جیب کوئی لامحدود خزانہ نہیں۔ پاور سیکٹر میں شفاف آڈٹ، ذمہ داروں کا احتساب اور ناقابلِ برداشت معاہدوں کی اصلاح اب انتخاب نہیں، قومی ضرورت ہے۔
"11 ماہ میں آئی پی پیز کو انرجی پیمنٹس کی مد میں 11 کھرب 68 ارب ادائیگیاں کی گئیں جبکہ 11 ماہ میں آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 15 کھرب 65 ارب ادائیگی کی گئی۔"
یہ بغیر موبل آئل رنگ پسٹن بمطابق معیاد معاہدے مزید 20 سال اور کچھ کیسز میں 22 سال مزید چلنا ہے
یہ احتساب ہے یا قومی اعزازات کی توہین؟
سینیٹ کمیٹی میں چیئرمین FBR راشد لنگڑیال سمیت افسران کے حوالے سے 1100 ارب روپے کی مبینہ کرپشن و بے ضابطگیوں، ٹیکس چوری، کمپنیوں کا ڈیٹا چھپانے اور وِسل بلوئر کے خلاف کارروائی جیسے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں، اور دوسری طرف انہی حلقوں سے وابستہ افسران کو ہلالِ امتیاز کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے!
اگر الزامات غلط ہیں تو شفاف تحقیقات کرکے انہیں بے گناہ ثابت کریں، اور اگر ان میں صداقت ہے تو تمغے نہیں، کڑا احتساب ہونا چاہیے۔
قومی اعزاز ریاست کی امانت اور قوم کا وقار ہیں، انہیں متنازع بنانے کے بجائے پہلے الزامات کا دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کیا جائے۔ احتساب نہیں تو اعزاز کیوں ؟
جب 200 سے زائد سپورٹس مراکز نجی شعبے کو اسلئے دئے جارہے ہیں کہ سرکار سے نہیں چل رہے تو پھر مریم نواز سپورٹس سٹی کیوں بن رہی ہے؟
کیا کھیل صحت تعلیم کی آؤٹ سورسنگ اعترافِ نااہلی نہیں؟
کیوں کوئی سہولت سستی نہیں رہنی دینی؟
میں آپ سے ایک بات کرتا ہوں۔ اگر آپ نے پیسہ کمانے کے لئے اپنا گھر بار چھوڑا ہی ہے تو جذباتیت کی زنجیریں بھی توڑ دیں۔ پریکٹیکل ہو کر سوچیں۔ آپ کے پیارے فیملی دوست آپ سے توقعات جوڑے بیٹھے ہیں۔ کوشش کریں اپنا ٹارگٹ پورا کریں۔ یقین کریں آپ کو ہر کوئی جیب میں موجود پیسوں سے ہی تولتا ہے۔ ٹھان لیں کہ کامیاب ہونا ہے۔ کوئی نہیں کر رہا تو آپ بیڑہ اٹھا لیں۔
خاص طور پر جو نئے نئے اپنی پردیس لائف شروع کررہے ہیں۔ آپ کا بچپن اب ختم۔ آپ کو یہ پتا ہونا چاہئیے کہ اب آپ کو سب خود کرنا ہو گا۔ کھانا پکانا کپڑے دھونا، جاب سب کچھ۔ سب کا خیال رکھنا ہو گا۔ ایک آل راؤنڈر بن کر بڑا بن کر سب کو ساتھ لے کر۔ ایک پردیسی لڑکا بہترین شیف بہترین بھائی بیٹا بہترین باپ سب ہوتا ہے۔ یہ سفر مشکل ہوتا ہے اس لہے آپ نے گھبرانا نہیں۔ محنت کریں گے اللہ پر بھروسہ رکھیں گے تو دیکھنا آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ ورنہ کوئی آپ کو مڑ کے نہیں پوچھے گا۔ اپنے آپ کو اپ گریڈ کرتے رہیں۔ پازیٹو رہیں۔ تھوڑی بہت بچت کریں۔ ایموشنل کم پریکٹیکل زیادہ سوچیں ۔اِدھر اُدھر کی باتوں پر دھیان نا دیں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
ھم پاکستانیوں کی قسمت بھی کتنی بُری ہے کہ ھمارے پاس ووٹ کے لئے سب سے اچھا انتخاب نواز اور مریم ہے
جب اچھا والا ایسا ہے تو باقیوں کا حساب آپ خود لگا لیں
😭😭😭😭😭
فرینچائز اور / برانچ مینیجر ہی تو پاپی ہیں. ڈپلیکیٹ پراڈکٹ بیچ دیتے ہیں. اور وارنٹی کلیم. بھی نہیں کرتے جو کہ کمپنی کی پالیسی ہے. ورنہ کمپنی اپنا معیار خراب کر کے کسٹمر کیوں لوز کرے گی.
گاہک نے کئی ہزار کی چاپنگ کی ہو گی اعر ایک ایک بار پہننے پر ان کے تلوے ادھڑ گئے ہونگے. یقینی بات ہے شاپ پر دو نمبر مال رکھ کر بیچا گیا. اور یہ بھی یقینی بات ہے کہ دہائیوں کے ایکسپیرئینس والی کمپنی ایسا پراڈکٹ بناتی ہی نہیں کہ دو چار پہننے سے جوتا اکھڑ جائے.
I have recently transferred from Tabuk to Jubail, but Pakistan International School Jubail has no seats for my children in Grade 1 and Grade 6. Why is the school housed in a small building unable to meet Pakistani families’ needs? Would you like to kindly intervene?
@AmbFarooq@ForeignOfficePk@PakinSaudiArab
اس کا بل دیا ہو گا
وہ بل وفاق کو گیا ہو گا
وہاں سے پیارے صوبے کو گیا ہو گا
جہاں کے سردار اس پیسے کو کھا پی گئے ہونگے اور بول رہے ہونگے کہ پنجاب کھا گیا۔
ویسے بھی مریم نواز کچھ ماہ پہلے پنجابیوں کا دس ارب ایسے ہی ایک صوبے کو دے آئی کہ یہ پیسہ اپنے صوبے کی پولیس پر لگائیں۔
تھوڑا اور پہلے بھی ایک وزیر اعظم نے کہا بلوچستان میں ایک سڑک بنانے کے لیے تیل سستا نہیں کر سکتے۔ تو مہنگا تیل خریدیں۔ کیونکہ صوبے کے سرداروں کے پیٹ نہیں بھر رہے
ووٹ بینک بھی اتنا نہیں ہے
وہاں وڈیرہ نظام ہے
وڈیرہ جسے کہے
عوام اسے ووٹ ڈالتے ہیں
بکسوں میں سے وڈیرے کی مرضی کے خلاف ووٹ نکل آئیں
تو پورے پورے گاؤں کی مرمت کی جاتی ہے
اور وڈیروں کی وڈیرہ شاہی پپل پالٹی کی وجہ سے قائم ہے
امریکہ صرف دس ارب ڈالر بطور امانت پاکستان کے قومی خزانے میں رکھوانے سے گریز کر رہا ہے، چین سے سرمایہ کاری آنے کی امید نہیں، عرب ممالک بھی ہاتھ نہیں پکڑا رہے۔ 7.90 فیصد شرحِ سود پر بانڈز کا اجرا کرکے وقت کو دھکا لگایا جا رہا ہے۔ پٹرول لیوی، مہنگی بجلی، بھاری ٹیکسوں، جرمانوں اور چالانوں سے ریاست کا خرچا چل رہا ہے