تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی بغاوت کا اعلان کرنا چاہتی ہے عمران خان سے ملاقات ہو نہیں رہی ایسے میں درست فیصلہ یہ ہے کہ سیاسی کمیٹی اپنے فیصلے خود لے ووٹنگ وہ کریں گے تو یہاں مشعال یوسفزئی کی بات پر آ جاتے ہیں ووٹنگ کے ذریعے فیصلے ہم کریں گے ہو گا کیا ؟
لیڈر اپوزیشن کے لئے علی ظفر کا نام نکلے گا مشعال یوسفزئی پہلے ہی بتا چکی ہیں بیرسٹر سیف کو اڈیالہ کے امور کا انچارج لگا دینا چاہیے جب عمران خان سے بیرسٹر سیف کی ملاقاتیں شروع ہو جائیں گی تو عمران خان کا پیغام آۓ گا انٹرا پارٹی الیکشن کرواۓ جائیں گے اور اعظم سواتی جیت جائیں گے
عدیل راجہ
انیق ناجی صاحب کٹر ن لیگی ہیں۔ عمران خان پر بہت بحران لگاتے رہے۔ انیق ہی نہیں انکے والد بھی جانتے تھے کہ خان ایک سچا انسان ہے۔ پھر بھی انیق اندھا دھند خان پر رقیق حملے کرتے رہے۔
یہ ایک دم سے، انیق ناجی اچانک ن لیگی ورکر سے ایک آذاد صحافی کا روپ ؟ کوئی سمجھا دے مجھے ماجرا ؟
کالعدم تنظیم BLA نے ویڈیو ریلیز کی ہے جس میں پنجپائی کے مقام پر پاکستانی فوج پر حملہ کیا گیا تھا، کالعدم تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ اس حملے میں 14 پاکستانی فوجی جبکہ تین BLA کے افراد ہلاک ہو گئے تھے
”اللہ کی فوج کا ایک اور عظیم کارنامہ، مراد سعید کے گھر کی چادر و چار دیواری پامال کر کے گھر کا تمام سامان باہر نکال کر پھینکا گیا اور گھر میں موجود مراد سعید کی معذور والدہ محترمہ و بھائی کے معصوم بچوں کو گھر سے نکال کر گھر چھوڑنے کا کہا گیا، آج جو کچھ مراد سعید کی فیملی کے ساتھ کیا گیا وہ صرف اسرائیل معصوم و نہتے فلسطینیوں کے ساتھ کرتا ہے، نہ عاصم منیر اور اس کی فوج میں کوئی انسانیت باقی رہی ہے اور نہ ہی کوئی شرم و حیاء، ملٹری اسٹیبلشمنٹ اپنی ہی عوام پر ظلم کی تمام حدیں پار کر چکی ہے، ملک پر قبضہ، عوام کے مینڈیٹ پر قبضہ، عوام کے ووٹوں سے بنی واحد حکومت کے صوبے پر قبضہ اور اب مراد سعید کے گھر پر قبضہ، عاصم منیر اینڈ کمپنی تم اور کتنا گرو گے؟“ -@QasimKhanSuri
یہ ظالم حکومت خواتین، بچوں اور خاندانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے!
”آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیا ایک بیمار انسان، ایک معذور ماں اور معصوم بچوں کو بھی جینے کا حق نہیں؟
میں گزشتہ تین سال سے بیمار ہوں اور کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں۔ میری والدہ محترمہ گزشتہ 17 سال سے معذوری کی حالت میں گھر پر ہیں۔ گزشتہ چار سال سے میں مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے مظالم بھی برداشت کر رہا ہوں، لیکن آج جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا، اس نے ظلم اور بے حسی کی تمام حدیں پار کر دیں۔
آج جب میں گھر پر موجود نہیں تھا بلکہ اسپتال میں زیرِ علاج تھا، تو میرے گھر کی چار دیواری پامال کی گئی، گھر کا تمام سامان باہر نکال دیا گیا، میری معذور والدہ محترمہ اور میرے معصوم بچوں کو گھر سے نکال کر گھر چھوڑنے کا کہا گیا۔
آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟
کیا ایک بیمار انسان کو اس لیے اذیت دی جائے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم ہے؟ کیا ایک معذور ماں اور معصوم بچوں کا کوئی حق نہیں؟ کیا انسانیت، رحم اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی؟
میں ایک اسپورٹس مین ہوں۔ میرا سیاست سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی میں نے کبھی کسی کے خلاف ذاتی دشمنی رکھی۔ میرا قصور، اگر کسی کی نظر میں کوئی قصور ہے، تو صرف اتنا ہے کہ میں مراد سعید کا بھائی ہوں، اور مراد سعید نے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے اور پاکستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اگر اپنے اصولوں پر قائم رہنا، اپنے نظریے سے وفادار رہنا اور حق سمجھ کر کسی کا ساتھ دینا جرم ہے، تو ہاں! ہم نے یہ جرم کیا ہے، ہم آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان شاء اللہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہیں گے۔
لیکن خدارا! ذرا انسانیت کا بھی خیال کریں۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ، جو تین سال سے کینسر کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، اس کی معذور ماں اور معصوم بچوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہوئے کیا آپ کے دل میں ذرا سا بھی رحم نہیں آتا؟
یاد رکھیے! طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتی، حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور وقت کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔ آج جن کے پاس اختیار ہے، کل ان کے پاس شاید یہ اختیار نہ ہو۔
وقت بدلے گا، حالات بدلیں گے، لیکن ظلم کی داستانیں اور مظلوموں کی آہیں تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائیں گی۔
ہم اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، لیکن اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کو بھی خاموشی سے بھول نہیں جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ میری والدہ محترمہ، میرے بچوں اور میرے خاندان کی حفاظت فرمائے، ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرمائے۔ آمین۔
ہمیں اپنے نظریے کی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن ہمارے حوصلے اور اصولوں کو شکست نہیں دی جا سکتی.“۔کلیم سعید - مراد سعید کے بھائی
اسٹبلشمنٹ کو بھی پتہ ہے کون سے جج کی کیا خواہش ہے،
پشاور ہائیکورٹ نے گورنر راج کے حوالے سے کیس کی سماعت 10 نومبر تک آگے کر دی ہے، مطلب کہ وِل آف دی پیپل پر حملہ ہوا ہے، لوگوں کے حقوق سلب کئے گے لیکن ہائیکورٹ کو انصاف کرنے میں دلچسپی ہی نہیں ہے، اسد طور
پاکستانی فورسز زیر قبضہ کشمیر راولاکوٹ میں زین بیکری کو لوٹ مار کر کے اور توڑ پھوڑ کر کے پاکستان کی مسلح فورسز نے اس پر کام کرنے والے بھائیوں پر تشدد بھی کیا اور لوگوں کو اٹھا کر نہ معلوم جگہ پر شفٹ کیا۔۔
نیٹ نہ ہونے کی وجہ سے وڈیو آج ملی ہے 12 جون۔۔۔۔🥺
عاصم منیر اور ایرانی وفد کی باڈی لینگویج سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں عاصم منیر کی امریکی پیشکش میں کوئی دلچسپی نہیں۔
انشاء اللہ ہر محاذ پر ذلت اور شکست عاصم منیر کا مقدر ہے ۔
🇵🇰 IMRAN KHAN'S SISTERS have spent 30 DAYS IN DETENTION.
Their family still doesn't know when they're coming home.
@KhanShershah says his aunts, Dr. Uzma Khan and Noreen Niazi, have now reached the end of their 30-day detention under Pakistan's Maintenance of Public Order law.
He says the family has received no new detention order, no explanation for their continued imprisonment, and neither woman has been allowed to see her family or lawyers.
I find this absolutely disgraceful.
These are two women whose brother happens to be Imran Khan. If the authorities have lawful grounds to keep them imprisoned, produce the order and let their lawyers challenge it.
Otherwise, RELEASE THEM!
A government that cannot tolerate the political loyalty of someone's sisters has a serious problem explaining what it thinks justice means.
And after an entire month, their family deserves something considerably better than silence.
@PTIofficial / Writer: Oliver
مراد سعید کے گھر پر ریڈ ۔ بھائی کو والدہ کو ہراس کرنا۔ گھٹیا ترین حرکت۔ یہ حرامی پن نہیں تو اور کیا ہے۔
فسطائیت کی رات جتنی بھی لمبی ہو انشاللہ سچ کا سورج طلوع ہو گا۔ اور پھر احتساب ہو گا۔ انصاف ہو گا۔
Today marks 30 days since my aunts, Dr Uzma Khan @DrUzma_KhanPK and Noreen Niazi @Noreen_KhanPK were taken from their homes and detained under the Maintenance of Public Order (MPO) law.
Their 30-day detention period has now reached its expiry, yet we have received no further order from the Lahore High Court, nor any official communication from the Punjab Home Department or jail authorities explaining the legal basis for their continued detention or confirming their release.
On what legal grounds are they still being held? Why have they not been released?
For an entire month, they have been denied access to their families and legal counsel. Their only crime is standing by their brother, Imran Khan @ImranKhanPTI and refusing to remain silent.
Thirty days of detention. No family access. No legal access. No justice.
#imrankhan
#خان_اور_فیملی_کو_رہا_کرو