Its takes alot of courrage and absolute determination to pull off something of the sort. Prayers and best wishes to the people behind it.
Pakistan Zinda Abad.
I have exclusive photos of the greatest bet a Pakistani has taken on Pakistan this century. A massive $200 Million investment initially. A total of $1 BILLION allocated to this and related value chain investments. BYD by my namesake Habibullah Khan.
This plant is 73 acres. It will produce 25,000 units initially and expand to 50,000 units seamlessly in Phase 2.
Why is this being done. Because his competition was so satisfied with their monopoly and the billions of rupees they raked in while giving Pakistanis older, unsafe cars with minimal features, they didn’t think of Pakistan.
Habibullah Khan did. He estimates that with a 30% EV penetration Pakistan will not only save almost $3 billion dollars a year on fuel, and it will also reduce GHG emissions by over 1 million tons MTCO2e helping Pakistan meet its SDG commitments to the Paris agreement.
EV value chain investments by him and others will have an immediate impact of a further $3.75 billion dollars to the GDP.
If you’re gonna dream. Dream big.
This plant is an example of how Pakistan’s future can look. Good incentives by government result in unlocking local and international capital. Investment brings in LATEST ADVANCED TECHNOLOGY with knowledge transfer (Suzuki is still selling cars with hand rolled windows 😭). Plant is geared for export as well allowing you to earn dollars as you indigenise value chains in mining, batteries, auto….
The oil guzzling local companies know they are beat. There were 100+ EV charging stations a year ago. Today there are over 2000. The EV Revolution is irreversible. So they’re trying the only route they know how. Using powerful advisors and ministers to put pressure on government to double the duty on EV CBU’s so as to kill this massive dream in the womb.
Not just Pakistan’s mystery billionaire, Habibullah Khan is Pakistan First.
ارشد شریف شہید کو ہم سے بچھڑے 2 سال گزر گئے لیکن اپنے ہی وطن میں اب تک وہ اور ان کا خاندان انصاف کا منتظر ہے۔۔۔۔
قومی ہیرو شہید ارشد شریف - تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں-
#ArshadSharifShaheed
دو سال گزر گئے "ارشد شریف شہید" کو انصاف نہ مل سکا۔۔۔!!
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر قسم کی لوٹ مار جاری ہے۔۔
گد نما سیاسیتدان اپنے فائدے کے لیے ملک کا بیرڑا غرق کر رہے ہیں۔۔
انصاف کی امید صرف اللہ کی ذات سے ہے۔۔
ارشد شریف شہید کے قاتل اسی دنیا میں رسوا ہوں گے، انشااللہ
سابق وزیراعظم عمران خان کا پیغام
میں نے تاریخ میں قاضی فائز عیسیٰ جیسا متنازعہ اور بدترین چیف جسٹس نہیں دیکھا۔ ایکسٹینشن مافیا گینگ آف تھری کا حصہ ہے۔ قاضی نے اپنی ذاتی مفاد اور ایکسٹینشن کیلئے آئین پاکستان، سپریم کورٹ، جمہوریت اور اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا ہے۔ قاضی نے لندن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا ہے اور بھرپور کوشش کی ہے کہ لندن پلان کے مطابق تحریک انصاف مکمل طور پر کرش (تباہ) ہو، نواز شریف کے تمام کیسز معاف ہوں اور میں جیل میں ہی رہوں۔ لندن پلان کے مطابق قاضی نے تحریک انصاف کو کرش ہونے دیا اور بلکل اسی طرح خاموش رہا جیسے مغربی طاقتیں اسرائیل کو اہلِ فلسطین کو کرش کرنے کی کھلی چھوٹ دے کر خود خاموش بیٹھی ہیں۔ اپنی طرف سے تحریک انصاف کو مکمل کرش کرنے کے لئے پہلے سکندر سلطان راجہ کو استعمال کیا گیا اور پھر قاضی فائز عیسیٰ اپنا کردار ادا کرتا رہا۔ کمشنر راولپنڈی نے ان دونوں کی ملی بھگت سے پردہ اٹھایا اور ساری سازش کو بے نقاب کر دیا۔ کمشنر راولپنڈی کا ہر الزام درست ثابت ہوا ہے۔ قاضی اور سکندر سلطان نے مل کر ایسا ماحول بنایا کہ تحریک انصاف کو میدان میں رہنے کا موقع ہی نہ مل سکے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا۔ کسی بھی سیاسی جماعت سے اگر انتخابی نشان واپس لے لیا جائے تو اس جماعت کو کالعدم ہی تصور کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کے ووٹرز کو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے بیلٹ پیپر پر نشان ہی مہیا نہیں کیا جاتا۔ کمشنر کے الزامات کے مطابق پہلے سکندر سلطان راجہ نے اپنی بدنیتی ظاہر کرتے ہوئے ہم سے انتخابی نشان چھینا اور پر قاضی نے ۱۲جنوری کو سکندر سلطان کے فیصلے کو تحفظ دیتے ہوئے آخری کیل ٹھونکا۔ جب تک ان کو یقین نہیں ہوا کہ تحریک انصاف مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے انہوں نے الیکشن کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔ 8 فروری کے الیکشن کے موقع پر انہیں یہی گمان تھا کہ اب تحریک انصاف کبھی بھی جیت نہیں پائے گی کیونکہ ظاہری طور پر اپنا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے جماعت میدان میں موجود ہی نہیں تھی لیکن عوام نے ان کی تمام تر منصوبہ سازی کو ناکام بنا دیا اور 8 فروری کو ایک انقلاب آیا۔
اس وقت قاضی 8 فروری کے مینڈیٹ چوری کو تحفظ دینے کیلئے مکمل ڈھٹائی کے ساتھ کبھی الیکشن ٹربیونل سلطان راجہ کی مرضی سے لگانے کا فیصلہ دیتا ہے کبھی سارے قواعد و ضوابط کو رد کر کے غیر قانونی بنچ تشکیل دیتے ہوئے ہارس ٹریڈنگ کو قانونی جواز مہیا کرتا ہے تاکہ ہمارے بندے توڑ کر اس غیر قانونی ترمیم کو پاس کروا سکے۔ اس ترمیم کے ساتھ اس کی اپنی ذاتی ایکسٹنشن منسلک ہے اور یہ کھل کر بے نقاب ہو چکا ہے۔ یہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کیلئے کسی بھی حد تک گرنے کو تیار ہے۔ یہ ایک ایسی پارلیمنٹ جو کہ فارم ۴۷ اور این آر او ٹو کی پیداوار ہے اور جسے آئینی ترمیم کرنے کا کوئی اخلاقی اور قانونی جواز حاصل نہیں ہے۔ یہ اس پارلیمنٹ کو اپنی اور اپنے گینگ کی ایکسٹنشن کی خاطر ہارس ٹریڈنگ جیسی بدنام زمانہ جمہوری روایت کو تحفظ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ پی ڈی ایم اس ایکسٹنشن مافیہ کے گینگ آف تھری کی چوتھی ممبر ہے اور ان سب کے مفادات ایک ہیں۔ ان تمام مفاد پرستوں کے ذاتی پیسے اور جائیدادیں بیرون ملک ہیں۔ محسن نقوی کے پاس اپنا سکوٹر تک نہیں جبکہ اسکی بیوی دبئی میں پانچ سو ملین ڈالر کی جدائیداد کی مالکن ہے جو کہ دبئی لیکس میں سامنے آ چکی ہے، اس کے پاس اتنی جائیدداد کہاں سے آئی؟۔ اسی طرح شریف خاندان یا زرداری خاندان کا سارا پیسہ، کاروبار اور جائیدادیں ملک سے باہر ہیں۔ اب یہ سب مل کر سپریم کورٹ سے غلط فیصلے لیکر آئینی ترمیم کا سوچ رہے ہیں اور ہمارے لوگوں کے اغوا کو قانونی بنا کر اس 8 فروری کی چوری کو ہضم کرنا چاہتے ہیں اور ایک دوسرے کو ایکسٹنشن دینا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم اسکا راستہ روکیں گے کیونکہ یہ عوام کو غلام بنانے کی سازش ہے۔
اپریل ۲۰۲۲ میں جب ہماری حکومت سازش کر کے گرائی گئی تو الزام لگایا گیا کہ پاکستان دنیا میں مکمل طور پر تنہا(آئیسولیٹ) ہو چکا تھا جو کہ سراسر جھوٹ پر مبنی پراپیگنڈا تھا، ہمارے دور میں پاکستان میں دو اسلامی کانفرنس ہوئیں جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شرکت کی۔ اس نوعیت کی کانفرنسز پاکستان میں 17 سال کے بعد منعقد ہوئیں۔ ان کانفرنسز میں چین کے وزیر خارجہ نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ اگر سعودی ولی عہد عزت ماب جناب محمد بن سلمان کے ہماری حکومت کے ساتھ تعلقات بہترین نہ ہوتے تو ان کانفرنسز کا انعقاد ناممکن تھا۔ یہ سارا جھوٹا پراپیگنڈا جنرل باجوہ نے پھیلایا۔
1/2
10 days after the elections, organized and systematic rigging continues to persist. Here is a video of Journalists exposing that the printing press at Lahore, owned by PMLN leader Ehsaan, is still printing fake ballot papers for the constituencies lost by Nawaz Sharif & family to tamper the records.
We reiterate that results of elections be released immediately according to Form 45.