One year ago today, Pakistani security forces unleashed terrible violence against protesters in Islamabad, killing more than a dozen people and injuring many more. Thousands were arbitrarily detained. Thorough, independent investigations must be conducted and justice served.
"ایکسٹینشن چاہئے؟ کیوں بھائی؟
جس نے روندا آئین کو،
توڑا قانون کو،
دو لخت کیا اس وطنِ عزیز کو،
اب کہتا ہے،
"مجھے ایکسٹینشن چاہئے!"
قوم کہتی ہے — کیوں بھائی؟ نہیں دیں گے!
#ایکسٹینشن_نامنظور#ذہنی_مریض_نامنظور
میں نے آج وفاقی حکومت کی زراعت اور افغان مہاجرین کے حوالے سے میٹنگ میں ذاتی طور پر شرکت سے اس لیے معذرت کی ہے کیونکہ خیبرپختونخوا کی عوام نے عمران خان کو ووٹ اور مینڈیٹ دیا ہے اور جب تک میں عمران خان صاحب سے مل کر پالیسی گائیڈ لائنز نہیں لیتا تو کسی ایسی میٹنگ میں شرکت صوبے کی عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہو گی
میں امید کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرے گی اور متعلقہ اتھارٹیز کو ڈائریکشن جاری کرے گی تاکہ میری اپنے لیڈر اور خیبرپختونخوا کی عوام کے مینڈیٹ کے امین اور نمائندہ عمران خان سے ریگولر ملاقات کا انتظام کیا جائے
اس حوالے سے ہماری قانونی ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت تمام قانونی فورمز پر بھی جا رہی ہے.
ڈی جی صاحب، ریاست کی تعریف آئین پاکستان میں لکھ دی گئی ہوئی ہے۔ قوم کو آپ اپنے ادارے کی کارکردگی بتائیں، بڑھتی دہشتگردی پر اپنی آئندہ پالیسی بتائیں ! سیاسی جماعتوں کو بھاشن دینا آپ کی ملازمت میں شامل نہیں۔
“2021 میں اس وقت کی فوجی قیادت نے ہتھیار پھینکنے والے دہشتگردوں کو واپس بسانے کا منصوبہ پیش کیا تھا، مگر اس منصوبے کو خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں کے ہمارے منتخب نمائندوں نے مسترد کر دیا تھا- اس منصوبے پر ہمارے دور میں عمل نہیں ہوا۔
لیکن اب حقائق کے برعکس تحریک انصاف کی حکومت پر یہ سراسر جھوٹا الزام لگایا جا رہا ہے کہ ملک میں دہشتگردی اس دور میں بسائے گئے دہشتگردوں کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ قوم کو بتایا جائے کہ کون سے دہشتگرد کب، کہاں اور کیسے بسائے گئے؟”
ناحق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کا جیل سے پیغام
(9 اکتوبر، 2025)
“توشہ خانہ 2 کا جھوٹا کیس، عدالت میں تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ حالانکہ چند ہفتے قبل اس کیس کے مرکزی سرکاری گواہ کو عدالت میں جھوٹا ثابت کر دیا گیا تھا، اسکے بعد کیس بوگس ثابت ہو چکا، اس کے بعد میرے سابق ملٹری سیکرٹری بریگیڈئیر احمد اور ڈپٹی ملٹری سیکرٹری کرنل ریحان نے بھی تصدیق کی کہ قوائد کے عین مطابق تحفے کی دستاویزات مکمل تھیں۔ تمام وکلاء کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ کیس جج کی طرف سے اسی وقت خارج کر دیا جانا چاہیے تھا، اس سب کے باوجود بدنیتی پر مشتمل یہ کیس ابھی تک چلایا جا رہا ہے۔
اسی طرح میرے خلاف دوسرا جھوٹا مقدمہ سائفر کیس، جو کہ پاکستان کی تاریخ کا مہنگا ترین کیس ہے، اور جس پر قومی خزانے سے عوام کے کروڑوں خرچ کیے گئے، ہائی کورٹ میں اتنا کمزور ثابت ہوا کہ بنیادی طور پر یہ ٹرائل کورٹ میں ہی قائم نہیں رہنا چاہیے تھا۔
تیسرا بڑا مقدمہ القادر یونیورسٹی کے خلاف بنایا گیا۔ القادر ایک فلاحی تعلیمی ادارہ ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو بیک وقت سائنسی و مذہبی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ سپریم کورٹ میں فنڈز آنے سے ایک سال قبل قائم کیا گیا تھا- ایک فلاحی ادارے پر بھونڈے سوالات اٹھا کر بے بنیاد کیس قائم کیا گیا جو کہ ٹرائل کورٹ میں ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے ہم جنوری سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں تاریخ لینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اب چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس ڈوگر نے 10 ماہ بعد 16 اکتوبر کو اس کی سماعت مقرر کی ہے۔
توشہ خانہ 2 میں جج ارجمند کی جلد بازی کا مقصد بھی یہی ہے کہ پہلے توشہ خانہ 2 میں سزا دے دی جائے تاکہ اس کے بعد القادر کیس میں ضمانت ہو بھی جائے تو بھی میری رہائی ممکن نہ ہوسکے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گزشتہ بارہ سالوں میں توشہ خانہ سے متعلق تین کیسز اسی جج کے پاس رہے ہیں۔ قانوناً توشہ خانہ سے گاڑیاں گھر نہیں لی جائی ج سکتیں، مگر نواز شریف نے خلافِ قانون توشہ خانہ سے بلٹ پروف مرسڈیز نکلوائی، آصف زرداری نے توشہ خانہ سے ناجائز طور پر 3 گاڑیاں نکلوائیں اور مریم نواز نے توشہ خانہ سے گاڑی نکلوانے کے بعد اسے ٹیکس ریٹرن میں دکھایا اور نہ کہیں ڈیکلیئر کیا۔ یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے اور ان تینوں کیسز کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں مگر ان تینوں کے کیسز لگائے ہی نہیں جارہے جبکہ شفاف طریقے سے حاصل کئے گئے تحائف کے خلاف سیلیکٹو ٹرائل ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے۔
القادر ٹرسٹ کے کیس میں چونکہ زلفی بخاری نے میرے خلاف جھوٹی گواہی دینے سے مسلسل انکار کیا، اس لئے انتقام کی سیاست کے تحت پاکستان میں موجود ان کی جائیداد کو نیلام کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔ یہی لاقانونیت عاصم لاء ہے۔ اس وقت ملک میں عاصم لاء فیصلوں کی بنیاد ہے کہ اسکے حق میں یا خلاف گئے تو آپ کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
جب آپ عاصم لاء کے ساتھ ہوتے ہیں تو آپ پر کرامات ہوتی ہیں، آپ کا گندم کا اتنا بڑا اسکینڈل بھی ہو تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا، آپ توشہ خانہ سے گاڑیاں بھی لے نکلتے ہیں، تو بھی آپ پر کوئی کیس نہیں بنتا۔ شوگر مافیا ہو یا لینڈ مافیا، عاصم لاء کی چھتری تلے ہیں تو آپ کسی قانون کی پکڑ میں نہیں آتے لیکن اگر آپ عاصم لاء کے خلاف جاتے ہیں تو آپ پر بےبنیاد من گھڑت کیس بنائے جاتے ہیں، جیلوں میں ڈالا جاتا ہے، آپ اور آپ کے خاندان پر ہر وہ ظلم کیا جاتا ہے جو اس ملک کی تاریخ میں کسی کے ساتھ نہیں ہوا۔
میں اپنے پاکستانیوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بنیادی اخلاقی اور عدالتی اقدار کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ اگر آپ آج اپنے حقوق اور قانون کی بالادستی کے لیے نہیں اٹھیں گے تو آنے والا وقت تباہ کن ہوگا۔ ناانصافی اور فسطائیت کے باعث معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ پچھلے تین سالوں میں تیس لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک جا چکے ہیں۔ موجودہ نااہل اور جعلی حکومت کی پالیسیوں نے معیشت کو آگے ہی شدید نقصان پہنچایا ہے، ٹیکسٹائل ملیں اپنی برآمدات بند کر رہی ہیں اور غریب عوام تیزی سے غربت کی لکیر کے نیچے جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ “کفر کا نظام چل سکتا ہے مگر ظلم کا نہیں”۔ ہمیں اس ظلم کے خلاف اپنے اور اپنے ملک کے بہتر مستقبل کے لیے خود کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس لیے پوری قوم کا پیغام دیتا ہوں کہ "تیاری پکڑیں"۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا جیل سے پیغام (یکم اکتوبر، ۲۰۲۵)
“آج اورکزئی کے علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر نہایت افسردہ ہوں۔ ملٹری آپریشنز میں ہر طرف صرف پاکستانی ہی شہید ہو رہے ہیں، چاہے وہ عام شہری ہوں، پولیس والے ہوں یا فوجی۔ آج کی شہادتوں میں ایک کرنل اور میجر بھی شامل ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔ تمام شہداء کے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔
ملک پر مسلط مافیا کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اس وقت پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی بدترین صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان میں اس سال دہشتگردی کے ریکارڈ واقعات ہوئے ہیں جن میں جس بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا اس کی مثال ملنا مشکل ہے، جبکہ سال کے اختتام میں ابھی دو مہینے باقی ہیں۔ میں پہلے بھی بارہا کہہ چکا ہوں کہ خیبرپختونخوا سمیت ملک میں دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے چار اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت ناگزیر ہے جن میں خیبرپختونخوا حکومت، قبائلی علاقوں کی عوام، افغان حکومت اور افغان عوام شامل ہیں۔ موجودہ رجیم نے جنگ و جدل کی جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے، وہ حالات کے مزید بگاڑ کی وجہ بن رہی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کو بارہا ہدایات دیں کہ خیبر پختونخوا میں اپنے ہی شہریوں کے خلاف شروع کیے گئے غیرضروری ملٹری آپریشنز کے خلاف کھڑی ہو، ہمارے دور میں ان تمام علاقوں میں امن قائم ہو چکا تھا، لیکن انتہائی دکھ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت میرے امن کے ویژن پر عملدرآمد میں کامیاب نہیں ہوسکی اور اپنے آپ کو وفاقی حکومت اور سیکیورٹی ایجینسیوں کی جنگی پالیسیوں سے ایسے دور نہیں رکھ سکی جس طرح ضرورت تھی۔ ایسے میں خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ میں خیبرپختونخوا کی وزارت اعلیٰ کی ذمہ داریاں سہیل آفریدی کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ڈرون حملوں، جیٹ طیاروں اور مارٹر گولوں کے ذریعے دہشتگردی کے خلاف جنگ کی پالیسی انتہائی بیوقوفانہ حکمت عملی ہے، جس کے باعث ملک دہشتگردی کے منحوس چکر سے کبھی نکل نہیں پایا۔ آج دہشتگردی کے واقعے میں ہونے والی شہادتوں کے بعد ہماری سیکیورٹی فورسز جواباً کاروائی کریں گی جس کے نتیجے میں دوسری جانب سے پھر ردعمل آئے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا۔
ہمارے ساڑھے تین سالہ دورِ حکومت میں دہشتگردی ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر تھی۔ باوجود اس کے کہ اس وقت افغانستان میں بھارت نواز اور پاکستان مخالف اشرف غنی کی حکومت تھی۔ ایسے میں، میں نے ذاتی حیثیت میں افغانستان کا دورہ کیا اور اشرف غنی کو بھی دوطرفہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان دورے کی دعوت دی۔ تعلقات بحالی کی عملی کوششوں اور موثر حکمت عملی کے باعث ملک میں بدامنی کے ایسے واقعات نہیں ہوئے جیسے آج ہورہے ہیں۔
دوسری جانب اقتدار پر قابض موجودہ حکمرانوں نے افغانستان میں نئی بننے والی حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔ بلکہ چالیس سال کی مہمان نوازی کے بعد جس طریقے سے افغان پناہ گزینوں کو بے عزت کر کے ملک بدر کیا گیا وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ بلاول بھٹو ایک سال سے زائد وزارتِ خارجہ کے منصب پر براجمان رہا اور تمام دنیا گھومنے کے باوجود، تاریخ کے اس انتہائی اہم موڑ پر ایک مرتبہ بھی کابل نہیں گیا اور نہ ہی افغان حکومت سے تعلقات کی بہتری کیلئے رابطہ کیا۔
دیرپا قیامِ امن کے لیے ضروری ہے کہ اس معاملے کو بڑے تناظر میں دیکھا جائے، تمام فریقین مل بیٹھ کر افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں۔ میں پُرامید ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت میں تبدیلی سے نئی شروعات ہوں گی۔ عوامی نمائندوں، جرگوں اور قبائل سے معاونت حاصل کی جائے گی، دہشتگردی کے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے تمام فریقین بات چیت کے ذریعے معاملہ فہمی سے دیرپا حل دریافت کریں گے۔ مجھے پوری توقع ہے کہ میری ہدایات کے عین مطابق نئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی میرے ویژن، قبائلی روایات اور عوامی امنگوں کی روشنی میں وفاقی حکومت کو خیبر پختونخوا میں امن کے بہترین فارمولے پر عمل کروانے اور دیر پا امن کے قیام میں بہترین کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوں گے۔”
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (٨ اکتوبر ۲۰۲۵)
I am grateful to submit an amendment to the National Defense Authorization Act to require the U.S. military to bring up the wrongful imprisonment case of Imran Khan and all political prisoners in ALL of their mil-to-mil interactions with Pakistan. Free Imran Khan! 🇺🇸🇵🇰
“پوری قوم کو یہ سوال اٹھانا چاہیے کہ گندم اور چینی سکینڈلز کا کیا بنا؟
محسن نقوی اور نگران حکومت کے دور میں اربوں روپے کا گندم سکینڈل آیا اور موجودہ فارم 47 حکومت کے دور میں چینی کا میگا سکینڈل سامنے آیا، جن کی وجہ سے آٹا اور چینی عوام کی پہنچ سے دور ہو چکے ہیں۔
کیا ان سکینڈلز کی تحقیقات ہوئیں؟ یا اس مارشل لاء میں چوروں کے لیے عام معافی کا اعلان ہے؟”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
(8 ستمبر 2025)