پی ٹی آئی کے وہ تمام ایم پی ایز جو بلوں میں چھپے ہوئے تھے ، اچانک سلمان اکرم راجہ صاحب کے خلاف ایکٹیو ہو گئے ہیں، 10 دن سے ہر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام پر یہ ایم پی ایز ایسے چپ تھے جیسے دنیا میں ہی نہیں ہیں لیکن اچانک متحرک ہو گئے ہیں
آخری معلومات تک سابق وزیراعلی گنڈا پور گرفتار تھے ۔۔ اس لیے گورنر راج بارے کوئی مذمتی ٹویٹ نہ کر سکے لیکن جیسے ہی سلمان اکرم راجہ نے ٹوئٹ کیا گنڈا پور کو انٹرنیٹ فرائم ہو گیا اور ٹویٹ بھی ہو گئی😁
ملتان میں بچے کو کچلنے والے توقیر کے انکاؤنٹر پر خوش مت ہوں اور نہ ہی اسلام آباد میں لائبہ خودکشی والے کیس میں مجرم کے انکاؤنٹر پر: کیونکہ یہ ان مجرمان کیساتھ آپ کے عدالتی نظام کا بھی قتل ہے کہ اب انصاف گولی سے ملے گا ، پھر جج کیوں بٹھا رکھے ہیں اتنی تنخواہ اور مراعات پر؟
لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں جب مجرم طاقتور ہو تو گولی نہیں چلتی پھر وہ جج کے بیٹے کی گاڑی سے بچیاں کچلنے والا کیس ہو یا پھر رضا ڈار کیس ہو....
نہ وہاں گولی چلی نہ میڈیا ٹرائل : صرف خاموشی
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
راجہ صاحب قوم کسی بھی ایسے وزیراعلی یا پارٹی عہدے دار کو نہیں مانے گی جس کو عمران خان صاحب کی نامزدگی حاصل نہیں ہو گی۔ آپ ڈٹ جائیں۔ اور بھرپور طریقے سے ایسی کسی بھی سازش کا مقابلہ کریں۔ جب تک خان تبدیل نہ کرے وزیراعلی سہیل آفریدی ہی رہے گا اور جنید اکبر صدر۔ میرے بھی سوالات ہیں سہیل سے آپ سے جنید سے لانگ مارچ کو لے کر۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کے خان کے نامزد کئے گئے عہدے داران کو خان کی مرضی کے بغیر ہٹایا جائے۔ یا سازش کی جائے۔ یا ایسی سازش کو سپورٹ کیا جائے-
میرا مشورہ ہے کہ فوری ایک کمیٹی بنائی جائے آپ اس کی صدارت کریں۔ جو بھی خان کے احکامات سے ہٹے اسے پارٹی سے فوری فارغ کریں۔ اس سے پہلے کہ وہ پارٹی کو نقصان پہنچائے۔
نوٹ: چند دن پہلے جب میں نے یہ خبر بریک کی تھے کچھ لوگ یہاں فرما رہے تھے ڈاکٹر گل اب نیا وزیراعلی ڈھونڈ رہے ہی۔ عقل کے اندھو۔ جذبات سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آؤ جو کچھ پچھلے تین مہینے میں ہوا وہ ایک ایک چیز اسی سب کا پیش خیمہ تھی۔ لیکن مصیبت ہے یہاں گروپ ہیں۔ جو مافیا بنے ہوئے ہیں۔ سوال اٹھاؤ انکی توہین ہو جاتی ہے۔
مراد سعید کے گھر پر حملہ انتہائی شرمناک ہے۔ شرم آنی چاہئے حکمرانوں کو مراد کی بزرگ والدہ پر ظلم کرتے ہوئے جو کب سے دہشتگردی کے حملے سے متاثر ہو کر معذور ہو چکی ہیں۔
ظلم کی انتہا۔ اللّه کا بھی کوئی ڈر خوف نہیں۔
مراد سعید کے گھر پر ریڈ ۔ بھائی کو والدہ کو ہراس کرنا۔ گھٹیا ترین حرکت۔ یہ حرامی پن نہیں تو اور کیا ہے۔
فسطائیت کی رات جتنی بھی لمبی ہو انشاللہ سچ کا سورج طلوع ہو گا۔ اور پھر احتساب ہو گا۔ انصاف ہو گا۔
جرنیل اعلیٰ کو لگتا ہے کہ ہر طرف کنفوثن افرا تفری پھیلا کے سب کو مشکوک بنا کے وہ کچھ عرصہ اور حکومت کرلے گا لیکن یہ نہیں جانتا کہ جو نظام اس نے ترتیب دے دیا ہے دنا کی کوئی طاقت اس نظام کو چلا ہی نہیں سکتی یہ ناکام تھا ناکام ہے اور ناکام رہے گا ان شاء اللہ
مشال یوسفزئی کو سمجھنا چاہیے کہ وہ مریم نواز نہیں ہیں۔ مطلب انکے ابا کی پارٹی نہیں ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں معید پیرزادہ وقار خان اور دوسرے سوشل میڈیا والنٹیرز کو دھمکا رہیں ہیں۔ اور دوسری سانس میں اپنے گروپ کے عزائم پیش کر رہی ہیں۔
پچھلے دنوں میری پوچھے گئے سوالات پر سوشل میڈیا کے کچھ دوستوں نے تنقید کی تو کیا اب میں واپس ان سے بد تمیزی شروع کر دوں ؟ سیاست اور پبلک لائف میں لوگوں کا حق ہے آپ پر تنقید کرنا۔ اگر آپ برداشت نہیں کر سکتے تو سیاست اور پبلک لائف میں آنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ وہی سوشل میڈیا کے ایکٹوسٹ جو ہوجاتی تعریف کریں تو واہ واہ۔ تنقید کر دیں تو دھمکیاں۔
یہاں مصیبت ہی یہ ہے۔ سب کے گروپ بنے ہوئے ہیں۔ آپ کسی پر سوال اٹھا دیں وہ آپکو مارنے پڑتا ہے۔ گروپ کا انٹرسٹ مافیا کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔
مثال صاحبہ جس دن خان باہر آ گیا انشاللہ وہ آپکی ایسی ایک بدتمیزی برداشت نہیں کریں گے۔ یہ یاد رکھئیے گا۔
اب بھی کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کیا؟
مالک صاحب ایک پرانے گھاگ صحافی ہیں۔ ابھی کل سیاست میں آئی خاتون کو ایسے اکیلا بٹھا کر موقع دینا پوری کہانی بیان کر رہا ہے۔ ہم نے ماضی میں کبھی فیصل واڈا کو بھی بغیر دوسرے مہمانوں کے اکیلا نہیں بٹھایا تھا۔ میں الیکٹرانک میڈیا کی اس فیلڈ میں 20 سال سے ہوں۔ یہ سب اتفاقیہ نہیں آن ڈیمانڈ ہے۔