@soulat_pasha ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
@soulat_pasha ظلمت کو ضیا صرصر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر دیوار کو در کرگس کو ہما کیا لکھنا
اک حشر بپا ہے گھر میں دم گھٹتا ہے گنبد بے در میں
اک شخص کے ہاتھوں مدت سے رسوا ہے وطن دنیا بھر میں
اے دیدہ ورو اس ذلت کو قسمت کا لکھا کیا لکھنا
@soulat_pasha اس بزم ساحری میں جہالت کا ذکر کیا
خود علم کے حواس بھی رہتے نہیں بجا
اوہام جب دلوں میں بجاتے ہیں دائرا
عقلوں کو سوجھتا ہی نہیں رقص کے سوا
تاریخ جھومتی ہے فسانوں کے غول میں
بوڑھے بھی ناچتے ہیں جوانوں کے غول میں