new police act changes everything for the worse by giving all promotion powers directly to the chief minister which completely destroys merit and internal accountability
خیبر پختونخوا پولیس ایکٹ کے بعد پولیس کی حالت کچھ یوں ہوگی، کیونکہ جب پولیس افسران کی تمام ترقیاں وزیراعلیٰ کے اختیار میں ہوں گی تو پولیس کی خودمختاری اور میرٹ کہاں باقی رہے گا
شرم کا مقام ہے ویسے ہی کہ پولیس کے ساتھ ایسا کیا جا رہا ہے خیبر پختون خواہ میں یہ حالات آگئے ہیں کہ وزیراعلی پولیس پر اپنی حکومت چلائیں گے، اب وزیراعلی ترقیاں کریں گے؟
آئین کو روندو، عدالت کو نظر انداز کرو، گورنر کو رسمی شکایت دے کر واپس بھیج دو، اور پھر اعلان کرو کہ پولیس آزاد ہو گئی ہے۔ حقیقت میں پولیس کو اپنے ہاتھ میں کرنے کے لیے یہ سب کیا گیا ہے اور یہی اصل کہانی ہے۔
جس صوبے کی پولیس وزیر اعلی کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہو وہاں عوام کو انصاف کیسے ملے گا؟ یہ منظر ثابت کرتا ہے کہ پولیس ایکٹ دراصل پولیس کو حکمران کا ذاتی محافظ دستہ بنانے کا منصوبہ ہے۔
ہماری سرزمین کی خوبصورتی یہی ہے کہ یہاں ہر کلچر کو یکساں عزت و احترام حاصل ہے۔ وزیراعلیٰ کا یہ پیغام اس اتحاد اور بھائی چارے کا عکاس ہے جو ہم سب کو جوڑے رکھتا ہے۔
پشتون کلچر ڈے کے موقع پر بلوچستان سمیت دنیا بھر میں آباد پشتون برادری کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پشتون ثقافت اپنی مہمان نوازی، رواداری، بہادری، بھائی چارے اور انسان دوستی کی شاندار روایات کے باعث ہماری مشترکہ تہذیبی میراث کا اہم حصہ ہے۔ بلوچستان مختلف اقوام، زبانوں اور ثقافتوں کا حسین امتزاج ہے اور یہی تنوع ہماری اصل قوت ہے۔آئیں اپنی ثقافتی روایات اور اقدار کو نئی نسل تک منتقل کرتے ہوئے امن، اتحاد اور باہمی احترام کو مزید فروغ دیں۔
محترم وزیرِ اعلیٰ صاحب، آپ کی قیادت اور رہنمائی میں صوبے کا نظامِ صحت مستحکم بنیادوں پر آگے بڑھ رہا ہے۔ پرائمری ہیلتھ کیئر کی ڈیجیٹلائزیشن، DHIS2 کا مؤثر نفاذ، مصنوعی ذہانت کا استعمال اور یونیورسٹی آف اوسلو کے HISP سینٹر کے ساتھ مفاہمتی یادداشت اسی ویژن کا عملی اظہار ہے۔
آپ کی مسلسل نگرانی سے صحت کی خدمات کی رسائی، معیار اور شفافیت میں بہتری آ رہی ہے۔ محکمہ صحت آپ کی ہدایات پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔