ھارورڈ، آکسفورڈاور کیمبرج یونیورسٹی میں سٹوڈنٹ یونین کیوں نہیں ھیں؟ کیونکہ تعلیم پر سیاست کرنا چھوٹے اور گھٹیا اذھان کا کام ھے۔
وہ لوگ مارس پر پہنچ گئیے اور ھم تعلیمی اداروں کو گندی سیاست کی بھینٹ چڑھانے پر تلے ھوۓھیں
#StudentsMarchExposed
@UsamaFactCheck@yousaf1788@CMShehbaz If it's true then:
Why not Indo-Pak water treaty reinstated?
Why IMF LOAN has not been written-off?
Why Kashmir Dispute has not been resolved?
Why FDI is slimming in their regime?
Why US & UAE are not granting the visas to Pakistani?
Keep on living in idiotic fantasies,
@MuzzammilAslam3 بےغیرت غدار ٹاؤٹ انسان! تم اب تک صرف بھونک ھی رھے ھو، عملی کام کا وقت آیا تو گل اور شہزاد کو کاٹنے پر آ گئے۔ سر پلس بجٹ پر کیا تیر مار لیا تم نے؟
مریم نواز کی گورننس بہت اچھی ہے :راوی
مریم نواز کی گورننس میں بچوں کو انجیکشن لگا کر HIV کروا دیا جاتا ہے مریم نواز خود وہاں پر جاتی ہیں BBC چھےمہینے بعد جاتا ہے پھر وہی سب کچھ ہو رہا ہوتا ہے جو وہاں کا MS تھا اسے اٹھا کر دوسرے ہیلتھ محکمے کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے: اطہر کاظمی
@SHABAZGIL یہ بد بخت گلاسڑا @KlasraRauf بدبودار شخص پورے سرائیکی وسیب کے لیے بدنما داغ ھے
اس جیسا جاھل گٹر آدمی سرائیکیوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا لہٰذا اسکو ہم سے نتھی مت کریں۔ ہماری طرف سے 804 مرتبہ اسکی پیدائش پر لعنت
@AhmadFarhadReal یہ بد بخت گلاسڑا @KlasraRauf بدبودار شخص پورے سرائیکی وسیب کے لیے بدنما داغ ھے
اس جیسا جاھل گٹر آدمی سرائیکیوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا
@SohailAfridiISF اسکے علاوہ سہیل آفریدی نے محسن نقوی کو بہن کا رشتہ دینے کی آفر بھی کی۔
لعنتی! اگر تو خان کی رھائی کے لیے نہ آواز آٹھا سکتا ھے نہ تحریک چلا سکتا ھے تو پھر استعفی کیوں نہیں دے دیتا
@SohailAfridiISF
بنگلادیش کے خلاف سیریز میں بدترین ناکامی اور پھر ہوم پچز پر پی ایس ایل میں مایوس کن کارکردگی کے باوجود طلعت حسین کے صاحبزادے شامیل حسین کو آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سکواڈ میں شامل کر لیا گیا جبکہ پی ایس ایل میں متاثر کن اور شامیل سے بہت بہتر کارکردگی دکھانے والے ہونہار سمیر منہاس کو جگہ نہیں ملی۔بھارت میں ٹنڈولکر کا بیٹا ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکتا لیکن پاکستان میں ایک صحافی کے بیٹے کو ٹیم سے نکالنے کی کسی میں جرات نہیں کیوں کہ صحافی کسی کا منظور نظر ہے۔پہلے صرف حکومت گیٹ نمبر 4 بناتا تھا لگتا ہے اب ٹیم کی سلیکشن بھی وہیں سے ہوتی ہے۔
📢 Imran Khan sab owned two properties in “One Constitution Tower” which were declared in his Tax returns
Imran Khan sold his Apartment in Diplomatic Enclave Islamabad in 2015
& his 530 Kanal inherited agricultural land in Khanewal, in TY-2022 to pay for these two properties
Details
1. Commercial shop:
• Imran Khan sold his 530 Kanal Agricultural Land (inherited) in Mian Channu, Khanewal, in Tax Year 2022 for 159,175,000 (15 Crore, 91 Lac Rs)
• The Commercial Shop in One Constitution Tower was purchased with an amount of 125,817,000 (12 Crore, 58 Lac Rs) in Tax Year 2022.
2. Residential flat:
• Down payment was paid in 2015 after selling his apartment in Diplomatic Enclave Islamabad (which he had owned since 1989)
• Down payment of 11,970,000 (1 crore, 19 Lac) was paid in 2015
• Remaining amount was paid in installments and completed in Tax Year 2022
• Final payment was made from the proceeds of the Khanewal land sale
• Total cost of apartment was 34,000,000 (3 Crore, 40 Lac Rs)
All of Imran Khan’s assets and their money trails are declared‼️
@ShazadAkbar اور جب اس ناخلف کھوتے @AzazSyed کا اپنا میڈیکل ھوا تو پتہ چلا کہ پورا محلہ کٹہرے میں کھڑا تھا
پتہ نہیں کون لوگ اس بے ھودہ انسان کو سنتے ھیں
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمانہ معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں جس کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزیرائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
عمران خان دور میں پیٹرول کی ساری قیمت 150 روپے لیٹر تھی۔ اب کیوں کہ تجربہ کار حکومت میں ہیں تو پیٹرول پر صرف لیوی کا وعدہ 160 روپے فی لیٹر ہے
ذمہ دار، تجربہ کار 🥳
گندی نالی کا کیڑا، جب عمران خان کی حکومت تھی تو پیٹرول 5 روپے مہنگا ہونے پر ہائے غریب مر گیا کا شور مچا رہا ہوتا تھا، اور اب مسخرہ 400 روپے لیٹر پر بسوں میں گھوم رہا ہے۔
بجلی ہے نہی مگر بل ڈبل۔ اگر آپ نے سولر لگا لیا تو پھر بھی آپ کو روکا جا رہا ہے یا جرمانہ ڈالا جا رہا ہے۔ آسان الفاظ میں مسلہ سمجھیے۔ یہ دنیا کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہوا ہے اور ابھی بھی جاری ہے کیونکہ حکومتی خاندان اس چوری میں شامل ہیں۔ زرا اس کو آسان الفاظ میں سمجھیے۔ مثال سمجھئے کہ تیس سے بتیس روپئے میں آئ پی پی کارخانے لگائے گئے۔ اس میں انہوں نے صرف نو روپئے لگائے جس کا بیشتر حصہ بھی آسان شرائط پر ایڈوانس کے طور پر دیا گیا۔ باقی رقم ساری سرکاری قرضہ تھی۔ مگر ان کو گارنٹی دی گئ کہ ان سات روپئے سالانہ منافع کے طور پر ملیں گیں چاہے وہ زرا بجلی بھی نہ بنائیں۔ یعنی وہ ساری لاگت جو کہ رعائتی دی گئ اک سال میں پوری کر چکے۔ تقریبا بغیر پیسہ لگائے پاکستان کو گروی رکھ دیا گیا کہ ان کمپنیوں کو تیس سال تک ہم منافع دیتے رہیں گیں۔ چین کا نام استعمال ہو رہا ہے تا کہ کوئ بول نہ سکے مگر قوم کو تیس سال سے زیادہ ان کو ہر سال سات روپئے دینے ہیں۔ بغیر بجلی بنائے۔ اس طرح کا فراڈ تاریخ میں نہی ملتا۔ یعنی سارا پراجیکٹس فراڈ رھا کیونکہ زیادہ تو کمپنیاں شریفوں اور زرداریوں کی یا ان کے رشتہ دار اور پارٹنرز کی ہیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا فراڈ ہے۔ جس کی وجہ سے ہر پاکستانی تڑپ رہا ہے۔ نہ بجلی ہے اور بل ڈبل۔ مگر اس مافیا کو ہاتھ نہی ڈال سکتا کیونکہ اس کا نام ہے حکومتی پارٹی۔ کر لو جو کرنا ہے۔ خبردار اگر سولر لگایا۔ کیونکہ پھر ان کو دو ہزار ارب یعنی سات بلین ڈالر کیسے جائے گا بغیر بجلی بنائے۔ تاریخ میں ایسا فراڈ نہی ہوا۔ جس پر کوئ بولتا بھی نہی اور کچھ کرتا بھی نہی۔ بس عوام سے امید کرتے ہیں کہ کھوتے ہیں چپ کر کے بل دہے جائیں گیں۔ کچھ شرم کرو
سوشل میڈیا پر سب کُچھ ڈال کر اپنے کرتوت مت چُھپائیے، 1999 میں میاں نوازشریف کا تختہ ایک غدار فوجی آمر جنرل مُشرف کے ہاتھوں اُلٹنے کے بعد آپ کے اخبار میں ہی خبر لگی تھی کہ “وزیرِاعظم نوازشریف اور وزیرِاعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے بیڈروم سے مردانہ طاقت کی ادویات ملی۔” اِسی طرح نوے کی دہائی میں خبریں اخبار جس قسم کی خبریں لگاتا تھا وہ بھی سوشل میڈیا سے پہلے کے دور کی بات ہے۔
کیا آپ کو پتہ ہے کہ چین ایران سے تیل لینے کیلئے سمندر پر دس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ایران پہنچتا ہے اور پھر دس ہزار کلومیٹر واپسی کا سفر، کل ملا کے ایک بحری جہاز کو بیس ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے
اور بھارت کو ایران سے تیل لانے پر 6000 کلومیٹر کا دونوں طرف کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے
جبکہ پاکستان کو ایران سے تیل لینے کیلئے صفر کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا کیونکہ ایران پاکستان گیس پائپ کو مکمل کرکے اس سے تیل اور گیس ایک ہی پائپ لائین سے لیا جا سکتا ہے،
پاکستان کی بد قسمتی دیکھیں کہ کبھی اس قدرتی فائدے سے مستفید نا ہو سکا کیونکہ امریکہ کی اجازت نہیں ہے، وہ امریکہ جسکی دو جنگیں ہم نے لڑیں، وہ امریکہ جو آج ایران جنگ سے باہر نکلنے کیلئے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے،
ایسی ناکام فارن پالیسی کا کون مصنف تھا؟ 78 سال امریکہ کی غلامی میں ضائع کر دیئے لیکن اپنی سرحد سے تیل نا لے سکے، ہاں سمگلنگ خوب چل رہی ہے
Everyone can see horizon, few can see beyond
Stay Tuned on International Affairs
Beyond The Horizon with Ahmad Jawad
#ReleaseAndTreatImranKhan
Imran Khan’s son @Kasim_Khan_1999 latest interview clip:
“All we are asking for is that our father be given his bare necessities. At least give him humane conditions.”