علی زئی اور احمد علی خان پی ٹی آئی کی مضبوط اور توانا آوازیں ہیں۔ دونوں نے سخت ترین سوالات کیے اور میں نے دیانت داری سے جواب دینے کی کوشش کی۔۔۔ یہ کِلپ مکمل دیکھیے اور بتائیے کہ آخر میری پی ٹی آئی یا خان صاحب سے کیا لڑائی ہے؟
صرف نیگیٹو باتیں مت شئیر کیا کریں، اس ویڈیو کو بھی شئیر کیجیے۔
جب سے جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج شروع کیا ہے پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے آج بھی جماعت اسلامی نے ہڑتال کے کال دی تھی لیکن آج بھی پٹرول مہنگا ہوا اور پھر جماعت اسلامی نے حکومت سے مذاکرات بھی کر لئے ۔۔۔۔۔ یہ کیسی ہڑتال تھی کیسے مذاکرات تھے؟
10 ہزار کی چرس آرڈر کی گئی جو کامیابی کے ساتھ بریانی کے ڈبے میں ڈال کر ڈیلیور کر دی گئی اور تو اور چرس کے پیسے بھی بینک کے ذریعے بھیجے گئے ، پاکستان میں سب کچھ ممکن ہے 👏
عاشق رسول سارے سوئے ہوئے ہیں,
جبکہ مسجدیں بلکل خالی ہے!!
پوری رات عید میلاد النبی کے موقع پر جشن مناتے رہے, اور صبح مسجد میں 10 بندے بھی نماز کے لیے نہیں آئے!!!💔
ہری پور کی آیت نور کے مبینہ ریپ اور قتل کے بعد اب ایبٹ آباد کی پانچ سالہ منت نور کے ساتھ بھی مبینہ زیادتی کی خبر نے ہر حساس دل کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
آیت نور ہو یا منت نور، ہر معصوم بچے کے تحفظ کی ذمہ داری ریاست، اداروں، سکول انتظامیہ اور پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے۔
معصوم بچوں کی خاموش چیخوں کو نظرانداز نہ کریں۔ بچوں کو تحفظ چاہیے، خاموشی نہیں؛ انصاف چاہیے، صرف وعدے نہیں۔
جب میری بچی کی چیخیں نکل رہی تھی
اس نے میری بچی کے منہ میں پلاسٹک کی بوتل گھسائی تھی۔۔۔
جس طرح اس نے پلان کر کے سب کیا ہے
پاگل ایسے نہیں کرتے
ہم نے کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
ڈیڑھ سال کی بچی یہاں محفوظ نہیں
کس چیز کی آزادی منائی ہے؟
اگر کسی ایک بھی درندے کو سب کے سامنے سزا دی جاتی
تو میری بچی آج زندہ ہوتی۔۔۔
ایزل کی والدہ کی گفتگو۔۔۔
ہمارے بیٹے اس یقین کے ساتھ پیدا نہیں ہوتے کہ وہ عورتوں کے جسم پر کوئی حق رکھتے ہیں۔ لیکن کم عمری ہی سے وہ ایسے رویوں اور خیالات سے متاثر ہو سکتے ہیں جو غلبے، عورتوں کو محض جسمانی شے سمجھنے اور تشدد کو معمول بنا دیتے ہیں۔ یہ اثرات خود ہمارے معاشرے، بغیر رہنمائی کے فحش اور نیم فحش مواد، انٹرنیٹ کے بے قابو اثرات، اور گھر میں بدسلوکی اور کنٹرول کے رویوں کو معمول کے طور پر دیکھنے سے آ سکتے ہیں۔
یہ بات اہم ہے۔ والدین اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے پیغامات کو چیلنج کریں، حدود مقرر کریں، اس بات پر نظر رکھیں کہ بچے کیا دیکھ اور پڑھ رہے ہیں، اور لڑکوں کو واضح اور مسلسل طور پر یہ سکھائیں کہ عورتیں بھی انسان ہیں، اور ان کی مرضی، عزت، وقار اور تحفظ کا احترام کرنا ضروری ہے، اینکر مہر بخآری اس موضوع پر بات کر رہی ہیں جن پر والدین بات کرنے سے کتراتے ہیں، سوچیئے سمجھئے۔ ویلڈن مہر بخآری صاحبہ
Funerals have begun for the 14 babies who were killed in a fire at Islamabad’s Institute of Medical Sciences.
Families have accused hospital staff and emergency services of abandoning the infants.
بچوں کی وارڈ میں آتشزدگی سے بچوں کی جان جانے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو استعفی دیں، اتنے بڑے اور اندوہناک واقعہ کی ذمہ دار انتظامیہ کے خلاف سخت کاروائ ہونی چاھئے، صرف معطلی اور ٹرانسفر کوئ سزا نہیں ہو گی۔۔ وفاقی وزیر اس انتہائ دردناک واقعہ پر بر الذمہ قرار نہیں دئیے جا سکتے!
افسوس کہ وفاقی وزرا کئی دن سے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی شان میں قصیدے بیان کر رہے تھے پمز میں آج آگ لگ گئی اور 15 نومولود بچوں کی جان چلی گئی اللّٰہ تعالیٰ ان بچوں کے والدین کو صبر دے اور حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے جن کی غلط بیانیاں ایک تماشہ بن چکی ہیں