"سیاست میں حد سے زیادہ مفاہمت پرستی سیاسی نظریے کے موت کا سبب بنتی ہے
خیر بخش نہ صرف اپنے عہد کے بلکہ رہتی بلوچ تاریخ میں ایک ایسے انقلابی لیڈر ��ابت ہوئے کہ انہوں نے اپنے دور کے سب سے بڑے مفاہمت پرستوں کو نظریاتی میدان میں شکست دے تھی
- ڈاکٹر صبیحہ بلوچ
#BabaMarri
#SabihaBaloch
"This country—this state of Pakistan, where Punjabis and Muhajirs claim nationhood—to which nation does it actually belong? Here, only the dictate of the powerful holds sway."
— Baba Khair Bakhsh Marri
#TributeToBabaMarri
Baba Khair Baksh Marri taught that substantive, impactful politics does not rely on superficial narratives or media propaganda, and that movements cannot survive on mere slogan-mongering without concrete action.
#TributeToBabaMarri
نواب خیر بخش مری کی بارہویں برسی کے موقع پر انہیں ان کی فکری و سیاسی خدمات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں
نواب خیر بخش مری کی فکری اور سیاسی میراث آج بھی قومی شعور کی تشکیل میں رہنمائی فراہم کرتی ہے
ان کی جدوجہد نے بلوچ قومی تحریک کو ایک واضح نظریاتی سمت فراہم کی.
این ڈی پی
The killing of the unarmed Umair Baloch in cold blood reflects the deep hatered of the Pakistani forces toward the Baloch nation. It highlights the extent of the repression and animosity faced by Baloch in occupied Balochistan. #UmairBaloch
شہید میر خلیل احمد موسیان�� کی میت خاندان کا حوالہ کیاجائے میر زہری خان موسیانی، شکر خان، ثناء اللہ موسیانی، امید علی خان، دوست محمد، فدا، سلیم، سلمان، الٰہی بخش، ارشاد احمد و دیگر افراد کو رہا کیاجائے۔
#Baloch #Balochistan #StopBalochGenocide
شہید عمیر جان کی بہن چیختی، چلاتی اور فریاد کرتی رہی۔ وہ گاڑی سے اتر کر اپنے معصوم بچوں کو دکھاتی رہی کہ "ہم سویلین ہیں، ہم پر گولی نہ چلاؤ"، مگر ریاستی جبر کے نشے میں مست اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔ نہ ایک عورت کے سر پر موجود دوپٹے کا احترام کیا گیا، نہ بچوں کی معصومیت کا خیال رکھا گیا، اور نہ ہی انسانی جان کی حرمت کو مدنظر رکھا گیا۔
عمیر جان گولیوں سے چھلنی ہو کر شدید زخمی حالت میں پڑے تھے۔ جب ان کی مدد کی جانی چاہیے تھی، جب انسانیت کا تقاضا تھا کہ انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جاتی، تب درجنوں مسلح اہلکار ان کے قریب پہنچے مگر زندگی بچانے کے بجائے گاڑی کے ٹائر پنکچر کر دیے گئے، گاڑی کا آئل ضائع کر دیا گیا، اور یہ کہہ کر بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا کہ "راستے بند ہیں، نہ ایمبولینس ملے گی اور نہ کوئی گاڑی، کہیں جا کر بیٹھ جاؤ۔"
اس بے بسی کے عالم میں ایک بہن اپنے زخمی بھائی کے زخم اپنے دوپٹے سے باندھنے کی کوشش کرتی رہی۔ عصر کے وقت پیش آنے والا یہ سانحہ مغرب تک پہنچ گیا، مگر مدد کے لیے کوئی نہ آیا۔ عمیر جان درد اور اذیت میں اپنی آخری سانسیں لیتے رہے، زبان پر کلمۂ طیبہ جاری تھا، جبکہ ان کی بہن قطرہ قطرہ پانی ان کے منہ میں ڈال کر انہیں سنبھالنے کی کوشش کرتی رہی۔ خوف اور دہشت کا ایسا ماحول مسلط تھا کہ پورے علاقے سے کوئی شخص مدد کے لیے نہ نکل سکا، نہ کوئی گاڑی میسر آ سکی اور نہ ہی زخمی کو ہسپتال پہنچانے کا کوئی راستہ بنایا گیا۔
گھنٹوں تک درد سے تڑپنے کے بعد عمیر جان زندگی کی بازی ہار گئے۔ مگر ظلم کی داستان یہاں ختم نہ ہوئی۔ رات بھر ان کی میت کو وہاں سے نکالنے اور تدفین کے انتظامات کرنے کی اجازت تک نہ دی گئی۔ یہ ایسا المیہ ہے جس نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا۔ ایک ایسا ظلم جس کی مثالیں تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں تلاش کی جاتی ہیں۔
عمیر جان کے گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ خوشیوں کے چراغ روشن ہونے والے تھے، مگر ظالموں نے اس گھر کو ماتم کدہ بنا دیا۔ ایک بوڑھی ماں کے بڑھاپے کا سہارا چھین لیا گیا، بہنوں کے سروں سے بھائی کا سایہ اٹھا لیا گیا، اور ایک خاندان کو عمر بھر کے لیے ایسا زخم دے دیا گیا جو کبھی نہیں بھر سکے گا۔
یہ واقعہ صرف ایک فرد کی شہادت نہیں، بلکہ اس سوال کی علامت ہے جو ہر صاحبِ ضمیر انسان کے دل میں اٹھتا ہے: اگر ایک شہری اپنی شناخت، اپنی بے گناہی اور اپنے بچوں کی معصومیت دکھانے کے باوجود محفوظ نہیں، تو پھر انصاف، قانون اور ریاستی ذمہ داری کے دعووں کی ح��ثیت کیا رہ جاتی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے زور پر خاموشیاں تو مسلط کی جا سکتی ہیں، مگر مظلوموں کی آہیں اور ناانصافی کی داستانیں کبھی دفن نہیں ہوتیں۔ عمیر جان کا نام بھی انہی داستانوں میں زندہ رہے گا جو ظلم کے خلاف گواہی دیتی ہیں اور انصاف کا مطالبہ کرتی ہیں۔
I participated in the @FreeBaluchMovt protest outside 10 Downing Street, London, to show solidarity and raise awareness about human rights issues, enforced disappearances, and the impact of Pakistan’s nuclear tests in Balochistan.
#Balochistan#DeNuclearisation#stopbalochgenoci
London- Baloch Protest : 28 May 2026
#DenuclearisePakistan
Balochistan's national anthem sung in front of #10DowningStreet.
The Free Balochistan Movement (on X @freebaluchmovt) organised a protest in London against nuclear test by Pakistan in Balochistan in 28 May 1998. The protesters gathered outside 10 Downing Street today to mark 28 May, the day of Pakistan’s nuclear tests in the Republic of Balochistan, as a Black Day.
Nearby, Kurdish activists held their own separate protest calling for a free Kurdistan and freedom for Ocalan. We stood together in solidarity against oppression and in support of the right to freedom. The FBM's protest is also, joined by PTM (Pashtun Tahafuz Movement) Baloch Republican Party and Balkch civil society in London.
The protestors chanted slogans Free Balochistan. Free Kurdistan. Justice for Pashtun activists #FreeOcalan #DenuclearisePakistan
@hyrbyair_marri@irg_media@republic@ABPNews@aajtak@TimesNow@TNNavbharat@raj_indianews@WIONews@ZeeNews@MEMRIReports@kanpurtak
Testing nuclear weapons on occupied marginalized land without the consent of its indigenous people isn't a scientific achievement it’s environmental racism Today we remember the day Chaghi was turned into a radioactive wasteland by invaders
#28MayBlackDay
The Free Balochistan Movement organized a peaceful demonstration today, May 28, 2026, in front of the Dutch Ministry of Foreign Affairs in The Hague.Context of the DemonstrationThe Date: May 28 marks the anniversary of Pakistan's 1998 Chagai-I nuclear weapons tests conducted in the Ras Koh Hills of #Balochistan.The Target Venue: Activists gathered at Rijnstraat 8, The Hague, from 12:30 PM to 2:00 PM.The Core Message: Protesters used the slogan #NoToPakistaniNukes (and #DeNuclearisePakistan) to condemn the testing on Baloch soil, highlighting decades of environmental radiation, local health crises, and lack of civilian consent.
#NoToPakistaniNukes
@hyrbyair_marri@DutchMFA
#Berlin#Germany: Free Balochistan Movement held a protest demonstration at Berlin gate Germany on Saturday. The protesters highlighted the aftermath of Pakistan’s nuclear tests in Balochistan on 28 May 1998. They demanded #DeNuclearisation of #Pakistan.
پروفیسر غمخوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے شعور، زبان اور ثقافت کی بقا کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کا نوشکی میں دن دہاڑے بہیمانہ قتل صرف ایک فرد کی جان لینے کا واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ بلوچ ادب، فکری شعور اور قومی شناخت پر براہِ راست حملہ ہے۔ ان کی ادبی جگہ، “راسکوه ادبی دیوان”، جو شاعری، مکالمے اور علمی گفتگو کا مرکز تھی، مسمار کی گئی، انہیں ہراساں کیا گیا، اور ان کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کر کے سبی منتقل کیا گیا، تاکہ ان کی علمی آواز کو خاموش کیا جا سکے۔ آخرکار ریاستی حمایت یافتہ قاتلانہ دستوں (جو ڈیتھ سکواڈ کے نام سے جانے جاتے ہے) نے انہیں شہید کر دیا۔
یہ قتل بلوچستان میں جاری ایک وسیع اور منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جسے علمی و فکری نسل کشی کہتے ہیں۔ طاقتور ادارے اور قبضہ مافیا اس وقت سب سے زیادہ خوفزدہ ہوتے ہیں جب پرامن استاد، شاعر اور دانشور نوجوان نسل کو قومی شعور، مادری زبان اور تاریخی حقیقت کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایسے افراد نہ صرف موجودہ جبر کے لیے خطرہ ہوتے ہیں بلکہ وہ ایک روشن فکری مزاحمت کی بنیاد بھی رکھتے ہیں۔
بلوچستان میں جاری یہ منظم علمی نسل کشی محض جسمانی قتل تک محدود نہیں۔ اس کا مقصد بلوچ زبان، ادب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کو جڑ سے اکھاڑنا اور قوم کو فکری طور پر مفلوج کرنا ہے۔ ریاستی مشینری اور پروکسی ملیشیاؤں کے ذریعے اہل علم، شاعر اور ادیب دن دہاڑے نشا��ہ بنائے جاتے ہیں، تاکہ نوجوان نسل خوفزدہ ہو کر قلم و کتاب سے دور ہو جائے اور قومی و فکری مزاحمت کی کوئی بنیاد باقی نہ رہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کے قتل سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچ دانشور اور شاعروں کو صرف ان کے قلم اور خیالات کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ الگ الگ سانحات نہیں بلکہ بلوچستان میں علمی نسل کشی کے طویل اور منظم تسلسل کی کڑیاں ہیں، جس میں پروفیسر صبا دشتیاری، پروفیسر رزاق، استاد سر زاہد آسکانی، رفیق اومان اور عبدالرؤف سمیت کئی نامور شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔یہ حکمت عملی محض تشدد نہیں بلکہ ایک نفسیاتی اور فکری حربہ ہے، جس کا مقصد معاشرے کے مورال کو توڑنا اور تعلیمی اداروں کو خوف کا آماجگاہ بنانا ہے۔ بالادست قوتیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ خون کی بہاؤ سے نظریات نہیں مرتے بلکہ شہید دانشور کی فکر اور قلم کی سیاہی اور بھی مضبوط ہو جاتی ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات کے قتل کی شدید مذمت کرتی ہوں ،اور اس وا��عے کی شفاف، آزادانہ اور فوری تحقیقات کی جائیں۔ بلوچستان میں جاری علمی نسل کشی کے تمام پہلوؤں پر عالمی توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ دنیا اس منظم اور خوفناک مظالم سے آگاہ ہو۔ مزید برآں، ریاستی اداروں کی جانب سے فکری اور ادبی مزاحمت کو دبانے کی منظم پالیسی کا خاتمہ ضروری ہے، تاکہ بلوچ دانشور آزادانہ طور پر علم اور ادب کی خدمت کر سکیں۔
تاریخ نے واضح کر دیا ہے کہ قلم، علم اور فکری مزاحمت کو کبھی گولی یا خوف سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پروفیسر غمخوار حیات کی قربانی بلوچ قوم کے شعور، زبان اور ثقافت کی بقا کے لیے ایک مقدس علامت بن چکی ہے، اور یہ قربانی ہر آنے والی نسل کے لیے مزاحمت، تعلیم اور قومی شناخت کے دفاع کی مثال قائم کرتی رہے گی۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
18مئی2026
ہدہ جیل کوئٹہ