ناروے میں ٹیکسی اور بسوں کے لیے فاسٹ ٹریک ہیں جس پر عام گاڑی نہی چل سکتی ہے ناروے کی اسمبلی نے ایک قانون پاس کر دیا کہ دوراں اجلاس ممبران اسمبلی اس ٹریک کو استعمال کر سکتے ہیں اس کے بعد طوفان آ گیا لوگوں نے سڑکوں پر اراکین اسمبلی روکے ان کے گریباں پکڑے کہ تم لوگ آسمان سے اترے ہم سے زیادہ ٹیکس دیتے کہ تم وہ سہولت لو جو ہم کو میسر نہی چند دن میں معافی مانگ کر قانون واپس ہوا
عوام جاگ رہی ہو تو سیاستداں ڈاکہ نہی مار سکتے ہیں
پاکستانیوں کا ٹیلنٹ چیک کریں.... دونمبر کاموں میں کوئی ثانی نہیں دور دور تک....
چوری کی گیس پلاسٹک تھیلیوں میں بھر کر بجلی بنانے والا منظم گروہ پکڑا گیا. چوری شدہ گیس سے بڑے جنریٹرز چلا کر 300 گھروں اور 100 دکانوں کو بجلی بیچی جارہی تھی۔
ملزمان رحمت اللّٰہ، حیات مسعود اور سلیم مسعود غیرقانونی پائپ لائنوں کے ذریعے گیس چوری کر کے دو گیس جنریٹرز کے ذریعے بجلی پیدا کرتے اور اس بلڈنگ کے تقریباً 300 فلیٹس اور 100 دکانوں کو بجلی فروخت کرتے تھے.
ملزمان صارفین سے تقریباً 20 ہزار روپے ایڈوانس جبکہ 2 ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہے تھے۔
خدانخواستہ چھتوں پر رکھی بڑی تھیلیوں میں بھری گیس کسی بم کی طرح پھٹ جاتی تو بہت تباہی ہو سکتی تھی لیکن مجرمانہ ذہنیت کے لوگ اور چوری کی بجلی استعمال کرنے والے عوام کو بھی اسکی کوئی پرواہ نہیں تھی.
نوٹ: ملزمان رحمت اللّٰہ، حیات مسعود اور سلیم مسعود کے خلاف مقدمہ درج ہو گیا ہے،
پاکستان کو اب افغان طالبان کی مرکزی لیڈرشپ کا"سر"لینا ہو گا
اور
بھارت میں اپنی
"پرانی پالیسی"کو شروع کرنا ہو گا۔
بلوچستان میں
4 روز میں 42 قانون نافذ کرنے والے جوانوں کی شہادت
کوئی چھوٹا واقعہ نہیں۔
خدارا۔۔۔بڑے فیصلے کیجئے
(اسد آر چوہدری)
خیبر پختون خواہ کے ارکان صوبائی اسمبلی کو ہر رہیڑی سے مفت پکوڑے اٹھا کر کھانے کا جبری حق ہو گا اور وہ اپنی اپنی تشریفات پیچھے کو نکال کر ہر پبلک مقام پر ڈانس بھی کرسکیں گے اور حرکتوں کی خبر دینے والے صحافیوں کو عمر قید کی سزا بھی دی جا سکے گی۔ پاس کئے گئے بل کی مجوزہ ترمیمات کا خلاصہ
کے پی حکومت عوامی تنقید کے بعد بل واپس لینے پر تیار ہو گئی ہے داد دیجئے نون لیگ کو آج تک الیٹ کی مراعات وزیروں کی نو سو فیصد تنخواہ سپیکر چئیرمین سینٹ کی چیپڑ پھاڑ تنخواہ ججوں کی پینشن میں سات سات لاکھ کا اضافہ سمیت کسی کام سے کبھی پیچھے نہی ہٹی ہے بھلے جتنی مرضی تنقید کر لو یہ تو اراکین اسمبلی کے بزنس ٹکٹ تک پچیس سے بڑھا کر تیس کر چکے ہیں
اس حوالے سے ایک کشمیری militant سے بات ہوئی۔۔۔ کہنے لگے جس دن مجھے ایک کشمیری کی جان لینے کا ٹاسک ملا میں نے بندوق چھوڑ دی۔ اس کربناک سچائی کو سن کر میرا دل ڈوبنے لگا۔ عسکریت تباہی ہے، صرف اور صرف تباہی۔ میں ماہ رنگ بلوچ کے دھرنے میں یہی بات بتانے گئی تھی۔
جن یوٹیومروں نے حسنین ڈار کو رضا ڈار قرار دیا
اور جنہوں نے علی ڈار کو باس قرار دیا
اگر ان حرامخور ڈالر مافیا عمرانزادوں کے خلاف کاروائی ہوتی ہے تو اس سے بڑھ کر خوشی اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی اور کم از کم اس عمل سے فیک نیوز ڈس انفارمیشن پروپیگنڈہ اور جھوٹ کو روکنے میں مدد ملے گی
لیکن نواز لیگ کا ماضی دیکھتے ہوئے مورخ کو رائی کے دانہ جتنی بھی امید نہیں ہے کیونکہ رائے ثاقب کھرل کو بیلٹ پیپر فیک سٹوری کرنے پر کچھ اپنوں نے ہی بچوا لیا تھا
پاکستان کے تین بڑے صوبوں میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے سندھ میں پی پی ہے پنجاب میں نون لیگ اور پشتون صوبے میں پی ٹی آئئ ہے اور ہر صوبے میں حکمران جماعت کا عوامی وسائل اور پیسوں سے الیٹ کو نوازنے اور فائدہ اٹھانے کا رویہ ایک جیسا ہے
جماعت کوئی بھی ہو عوام کے پیسے کو باپ کا مال سمجھ کر لوٹتی ہے سب نے عوام کو پسماندہ رکھا ہوا ہے
جب بھی کوئی معاملہ درپیش آیا اِن یوٹیومروں نے جھوٹ پھیلایا پروپیگنڈہ کیا فیک نیوز ڈس انفارمیشن کا بازار گرم رکھا لیکن آج تک اِن ڈالر خوروں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوسکی اور اُن غلیظ کرداروں نے ہمیشہ جھوٹ پھیلایا لیکن پنجاب ، وفاقی حکومت ہمیشہ خاموش رہی
میاں صاحب آج کی پکائیے فیر
پاکستان میں کوئی طاقت ور ٹیکس دینے پر تیار نہی اب کے پی اسمبلی کے ممبران نے قانون بنا دیا ہے کہ وہ تاحیات کوئی ٹیکس نہی دیں گے اب آپ بتائیں یہ ٹیکس کون دے گا ؟
آپ دیں گے بجلی کے بلوں مہنگے پیٹرول اور گیس پر فکسڈ ٹیکس کے ذریعہ یہ اربوں ڈالر کے قرضے یوں نہی چڑھے ہیں
سوچ رہی ہوں 20 سال کا نوجوان پستول لے کر گھوم رہا تھا، اس کے عزائم یقیناً بہت خطرناک تھے۔ لڑکیاں بہت جلد بھروسہ کر لیتی ہیں۔ اسٹورز پر کام کرنے والے اکثر بچیاں بہت پریشان حال گھرانوں سے آتی ہیں۔ معمولی تنخواہ، لمبی ڈیوٹی، ٹرانسپورٹ کی کوئی سہولت یا الاؤنس نہیں۔
عمر 20سال~لاہور سے ایبٹ آباد تک
لاہور میں دو غیرملکی خواتین کو بیرون ملک سے پاکستان ویزے لگو کر بلا کر اغوا، تشدد جیسی کاروائی میں ایک بیس سالہ نوجوان رضا ڈار کا نام لیا جارہا ہے تو اسلام آباد میں گروپ کیپٹن کے قتل کے ملزم سعد عباسی کی عمر بھی بیس سال بتائی جارہی ہے جس کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔
اگر لاہور پاکستان کی ایک امیر ترین فیملی کا بیس سال نوجوان ہے جو اس عمر میں لاکھوں ڈالرز کرپٹو میں لگا رہا ہے تو دوسری طرف ایبٹ آباد کا غریب خاندان کا اس عمر کا ہی نوجوان ہے جو اسلام آباد میں ایک اسٹور پر بیس تیس ہزار روپے تنخواہ پر کام کرتا تھا۔
ایک کے پاس پانچ لاکھ ڈالرز تھے تو دوسرے نے بیس تیس ہزار تنخواہ میں سب سے پہلے پستول خرید کر اپنی جیب میں رکھ لیا۔
ایک کو ڈالروں اور خاندان کی حکمرانی کا زعم تھا تو دوسرے کو پستول کا گرم لوہا ہر وقت گرمائے رکھتا تھا۔
آپ صرف بیس سال کی عمر میں ان دونوں کے کارنامے اور حوصلہ تو دیکھیں کہ کیسے آسانی سے یہ سب کر گزرے ہیں اور ان کے مجرمانہ ذہن کی کارستانی دیکھیں۔
ایک نے بیس سال کی عمر میں پلان بنا کر بیرون ملک سے خواتین بلا کر اپنے ہی گھر میں اغوا کرا لیں تو دوسرے نے دن دہاڑے موٹر بائیک پر لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کی اور بندہ مار ڈالا۔
لاہور میں کھیلے گئے اس پورے کھیل میں ایک طرف ملک کی ساکھ تباہ ہوئی، بدنامی ہوئی تو اسلام آباد میں گروپ کیپٹن کا پورا خاندان تباہ ہوگیا۔
نہ پورے پاکستان کا لاہور والے واقعے میں قصور تھا نہ اسلام آباد میں گروپ کیپٹن یا اس کی فیملی کہیں سے قصور وار تھی۔ ان دونوں کے کارناموں کی قیمت ایک طرف ملک کی ساکھ نے ادا کی ہے تو دوسری طرف گروپ کیپٹن کا خاندان عمر بھر قیمت دے گا۔
ویسٹرن/کائو بوائز فلموں میں ایسے واقعات دیکھتے تھے تو سمجھتے تھے یہ سب فلموں کی کہانیاں ہیں، شاید سکرین پر کیمروں کا ٹرک ہے۔
اب یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا ہے تو یقین نہیں آرہا۔ یہ دو خطرناک کارنامے صرف دو بیس بیس سالہ لڑکوں نے سر انجام دیے ہیں۔ ایک امیر خاندان تو دوسرا غریب خاندان کا لڑکا ہے لیکن طبیعت، مزاج اور تشدد کی جبلت ایک ہے۔ وہی بات کہ انسانی لالچ اور اور انسانی تشدد کا کوئی اختتام نہیں۔
لیو ٹالسٹائی کی کہانی یاد آتی ہے کہ ایک انسان کو ساری عمر کی لالچ , ماردھاڑ کے بعد آخر پر دفن ہونے کے لیے کتنی زمین درکار ہوتی ہے؟
تحریر/رئوف کلاسرا
#RaufKlasra
پاکستان میں جج بیٹھیں گے تو خود کو تاحیات مفت مراعات دے لیں گے اراکین اسمبلی بیٹھیں گے وہ اپنی تنخواہیں چھ سو فیصد بڑھا لیں گے افسر شاہی اپنی کلاس کو نواز دے گی صحافی اپنے جتھے کو مراعات دلوا لیں گے بس عام بندہ کا تیل سب مل کر نکلوائیں گے
کے پی کے ارکان اسمبلی پر مراعات کی بارش
خیبر پختونخواہ کے رکن اسمبلی کو 8 اسلحہ لائسنس ملیں گے ۔
تمام ٹول ٹیکسوں سے استثنیٰ ملے گا ۔
رکن اسمبلی اور اس کی شریک حیات کو تاحیات سرکاری پاسپورٹ (بلو پاسپورٹ) ملے گا ۔
خصوصی بی کیٹگری سیکیورٹی ملے گی ۔ بعض حالات میں اے کیٹیگری بھی مل سکتی ہے ۔
سرکاری سرکٹ ہاوسز، ریسٹ ہاوسز اور ڈاک بنگلوں میں قیام مفت ہوگا۔
اتنی جامع وضاحت جو ن لیگ کو آفیشلی دینی چاہیے تھی وہ والنٹیئر دے رہے۔۔
ندیا آپ تیار رہیں ۔۔۔
کیونکہ ابھی آپ پر انکشافات کی بارش ہونے والی ہے کہ آپ راتب خور ہیں اور یہ تھریڈ آپ نے پیسے لیکر لکھا ہے۔
ٹیریان وائٹ کی مما کا انجن کھول کر فٹ کرنا ذاتی فعل ہے
پلے بوائے زندگی گزارنا ذاتی فعل ہے
بوتھم کے ساتھ جوا کھیلنا ذاتی فعل ہے
زینت امان سے رنگ رلیاں منانا ذاتی فعل ہے
سمندر کنارے صرف جھانکیے میں تتلیوں کے ساتھ بوس و کنار وٹامن ڈی کا حصول ہے اور ذاتی فعل تھا
مُرادسعید کی دال والی آندر پھاڑنا ذاتی فعل ہے
ریحام کے سامنے فل باڈی ویکس ذاتی فعل تھا
عائلہ ملک کے ساتھ کالا باغ ڈیم میں چھلانگ لگانا ذاتی فعل تھا
یار کی بیوی سے حجرہ میں یبن گٹیٹا کرنا اور لطیف کے سامنے چاٹی میں سے لسی نکالنا اور لسی اس وقت تک “ رڑکنا “ جب تک چٹیائی باہر نہ ڈل جائے ذاتی فعل تھا
ہاجرہ خان کتاب مطابق لیبری ڈور کا منہ دیوار جانب کروانا ذاتی فعل تھا
افشاں لطیف کو دو ماہ تک حبس بے جا میں وزیراعظم ہاؤس میں مقید رکھنا ذاتی فعل تھا
ڈی پی او پاکپتن کو پنکی پیرنی کی لڑکی کو آدھی رات کو روکنا اور پھر مانیکا کے ڈیرے پر معافی کیلئے بھجوانا بھی ذاتی فعل تھا
بھانجے کا ہسپتال پر حملہ ہونے کا ذمہ دار ماما نہیں ہے لیکن علی ڈار اپنے بھانجے کا جواب دہ بھی ہے اور اسحاق ڈار کو اپنے “ دوترے “ کے جرم پر پھانسی چڑھایا جائے
واہ بھئی واہ
کوئی مہذب ملک ہوتا تو پہلا سوال تو یہ ہوتا کہ بیس اکیس سال کے بچے کے پاس پندرہ لاکھ ڈالرز آئے کہاں سے یہ 42 کروڑ کے قریب رقم بنتی ہے بتا رہے وہ لڑکا خودمختار ہے تو یہ اس کی واحد انویسٹمینٹ تو نہی تھی صرف ایک کاروباری ڈیل تھی اس کے پاس ٹوٹل کتنا پیسہ ہے اتنی کم عمری میں کیسے کمایا کتنا ٹیکس دیتا ہے کیا یہ وائٹ منی تھی ریکارڈ میں شو تھی ؟
جب خواجہ آصف نے رولاکوٹی پہاڑیوں کو اوقات دکھائی تو وہی گالم گلوچ ہوئی لیکن خواجہ نے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا اور اب اسی دہشتگردکمیٹی کے برطانوی پہاڑیے ابصارعالم کے پیچھے ہیں لیکن یہ شاید نہیں جانتے کہ ابصارعالم نے باجوہ فیض کو وہاں نہیں لکھا
کشمیر کے مسلہ پر میں زیادہ نہی لکھتا بطور کشمیری جو کچھ ہو رہا اس کا دکھ بھی بہت ہے پاکستانی کشمیر ایک پرسکون علاقہ تھا اب جو وہاں بد امنی پھیلائی گئ جو ایکشن اور ریکشن کا سلسلہ چلا اس کا حتمی نقصان کشمیر کے عام لوگوں کو ہو رہا اور ہو گا بھی بدقسمتی سے کشمیر میں موجود پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں نے معاملات کو سنبھالنے میں رتی بھر رول ادا نہی کیا ہے گزشتہ دن بھی جو کچھ کشمیر میں ہوا وہ افسوسناک ہے جس کسی نے یہ کام شروع کروایا ہے اس نے کشمیریوں سے نیکی نہی کی ہے سٹیٹ سے لڑا کر لاکھوں کشمیریوں کی زندگیاں مشکل کر دی ہیں
اللہ کرے یہ معاملات جلد سدھر جائیں
مریم صاحبہ اگر واقعی انصاف قائم کرنا چاہتی ہیں تو اب سی سی ٹی ختم کر دیں وہ جو آپ کے مشیر اور سوشل میڈیا سپاہی لکھ رہے کہ عدالت کو فیصلہ کرنے دیں قانون اپنا راستہ خود لے گا تو یہ قانون اور عدالت کا حق غریب کو بھی دیجئے ان کو کیوں کہیں اپنا کیس پیش کرنے سے پہلے ہاف فرائی اور فل فرائی کر دیا جاتا ہے ؟
اس کیس میں یہ بھی تو اثر اندازی ہی ہے نا کہ ان کے ساتھ وہ نہی ہونے دیا گیا جو ان جرائم میں باقی ملزمان کے ساتھ ہوتا ہے