वाह दिल खुश कर दिया अल्लाह जज़ाएखैर दे मुफ्ती साहब को
उन बदबखतों के मुंह पर तमाचा है जो कहते थे मुफ्ती तारिक़ मसूद सिर्फ 4 शादियां और लतीफे के अलावा कुछ नहीं आता
سورۂ حشر کی آخری تین آیات دل کو اللہ کی معرفت سے منور کر دیتی ہیں۔
ان میں اللہ کی عظمت، قدرت، رحمت اور اس کے بے شمار اسمائے حسنیٰ کا ذکر ہے۔
یہ آیات ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اصل بادشاہی صرف اللہ کی ہے، وہی خالق، محافظ، رحمن اور رحیم ہے۔
جب دل اللہ کو اپنا رب مان کر اس پر توکل کر لے تو خوف کم، امید مضبوط اور روح کو سکون ملتا ہے۔
فَسُبْحَانَ اللّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
تحذير : خطر الجوال في الموقع القتالي
احذر - جوالك يكشفك للناظور الليلي والحراري وكاشف الإشارات اطفئ جوالك قبل 500 متر من الموقع
الامتثال للتعليمات مسؤولية وطنية
حماية الموقع = حماية الأرواح
لیجیے اللّٰہ وسایا صاحب کی وضاحت
اللّٰہ وسایا صاحب برملا برائت کا اظہار فرما رہے ہیں
جبکہ زیر نظر کتاب جس میں باغی کا لفظ ذکر ہے جس کو لیکر سپاہ والے اعتراض اٹھا رہے،اللّٰہ وسایا صاحب فرما رہے ہیں یہ کتاب میری نہیں ہے،یہ کتاب تو مولانا عبد الرشید نعمانی صاحب کی ہے
اور جو میری اصل تالیف ہے اس میں کہیں بھی یہ لفظ میں نے استعمال نہیں کیا۔۔۔
پاکستان کے وزیراعظم نے دنیا کی بے بس ترین اور مظلوم ترین قوم پر ڈھائے جانے والے انسانیت کو شرمندہ کر دینے والے مظالم اور ان کے سامنے دنیا کی بے بسی کی جو منظرکشی کی، اس پر آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
کاش اقوامِ عالم اسرائیل سے ان مظالم کا حساب لینے کی ہمت پیدا کریں۔
جب وزیراعظم شہباز شریف 24 کروڑ پاکستانیوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے تھے تو کیمرہ فلسطینی وفد کی طرف گیا۔ تالیاں بجاتے دونوں چہروں پر پاکستان سے امید اور اعتماد کا احساس صاف محسوس ہو رہا تھا۔
اللہ پاکستان کی قیادت کی مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے جاری کوششوں کو کامیاب کرے۔ آمین۔
خدانخواستہ آپ بطورِ مسلمان کیا ان گندے غلیظہ جسموں سے اٹھنے والے بدبو کے بھبکؤں میں سانس بھی لے سکتے ہیں؟ کجا یہ کہ ان خنزیروں کو نعوذ للٰہ خانہ کعبہ پر قبضے کی اجاذت دی جائے ۔
برطانوی اخبار "دی آبزرور" (The Observer) کا 29 ستمبر 1985ء کا شمارہ:
"اسرائیل ایران کے لیے سب سے قابل اعتماد ہتھیاروں کا ذریعہ ہے، جس کی تجارت کی مالیت سالانہ 500 ملین سے 800 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔"