جب دانیال نے انہیں پورا واقعہ سنایا تو ان دونوں کانسٹیبلز کے چہروں پر کوئی حیرت نہیں تھی بلکہ صرف ایک گہرا ملال تھا
ایک بوڑھے کانسٹیبل نے دانیال کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا بابو جی آپ اکیلے نہیں ہیں پچھلے دس سالوں میں اس مخصوص پانچ کلومیٹر کے ٹکڑے پر تیرہ خوفناک حادثات ہو چکے ہیں
اس نے سگریٹ سلگائی اور آگے بتایا، موٹر وے بننے سے پہلے یہاں ایک چھوٹا سا گاؤں ہوتا تھا ایک رات ایک غریب کی بیٹی کی بارات آ رہی تھی لیکن راستے میں ڈاکوؤں نے گاڑی روک کر نہ صرف اس کا سارا جہیز لوٹا بلکہ اس معصوم دلہن پر تیزاب پھینک کر اسے وہیں تڑپتا ہوا چھوڑ دیا وہ لڑکی اسی درد سے وہیں مر گئی جب ہائی وے بنی تو اس جگہ کو صاف کر دیا گیا لیکن اس دلہن کی روح آج بھی ہر عید اور شادیوں کے دنوں میں اپنے لٹے ہوئے نصیب کا بدلہ لینے یہاں آتی ہے۔ جو مسافر آیت الکرسی نہیں جانتے، وہ اپنی گاڑی کا توازن کھو بیٹھتے ہیں اور اگلی صبح ہمیں صرف ان کی لاشیں ملتی ہیں
دانیال اور سمیرا نے اللہ کا شکر ادا کیا وہ رات ان کی زندگی کی آخری رات ہو سکتی تھی لیکن پاک کلام کی برکت نے انہیں بچا لیا آج بھی دانیال جب موٹر وے پر سفر کرتا ہے تو وہ کلو کہار کے اس مخصوص حصے کے آنے سے پہلے ہی اپنی گاڑی کے شیشے بند کر کے آیت الکرسی پڑھنا شروع کر دیتا ہے