محسن نقوی جیسے رپورٹر ، شہباز شریف جیسے غبی ، عمران خان جیسے کرکٹر لوفر وغیرہ اگر اسٹبلشمنٹ میں اتنی جگہ بنا لیتے ہیں کہ وزارت اعظمی تک پہنچ جاتے ہیں یا اس کے قریب قریب ، تو مولانا فضل الرحمن جیسے زیرک سیاستدان کیلئے کیا مشکل ہے جو اعلیٰ صدارتی عہدہ نہ لے لیں —- بس مسئلہ اتنا سا ہے کہ کچھ لوگ اپنا ایک معیار رکھتے ہیں اپنی ایک حد مقرر کرتے ہیں اپنی اقدار و روایات رکھتے ہیں —- وہ کسی بھی مفاد کے لئے اپنی روایات اقدار اور معیار سے خود کو نہیں گراتے اور یہی وجہ ہوتی ہے کہ اعلیٰ عہدوں تک کم ظرف پہنچ جاتے ہیں لیکن اعلیٰ نسل اور صفات کے لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں — !
مولانا فضل الرحمن نام ہے “معیار” کا اور اسی وجہ سے ہمیں ان سے محبت ہے !
(مرشد)✍🏻 @Murshid_222
اسلام کو ختم کرنے میں رکاوٹ مولوی ہے
انگریز کو مولوی نے چیلنج کیا اور اسے بھاگنے پر مجبور کیا
پاکستان میں انگریز کے پٹھوؤں کے مقابلے میں فضل الرحمٰن کھڑا ہے۔
علماء کے ذہنوں جمعیت علماء کے متعلق اشکالات پیدا کیے جاتے ہیں
فضل الرحمٰن بھی مدرسے کا طالبعلم ہے اسی چٹائیوں پر پڑھا ہے
مولانا کی علماء اور مفتیانِ کرام سے گفتگو
مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے بیان دیا ہے اور اب بھی جواب ٹھوک کے دے رہے ہیں،
انشاءاللہ وہ اپنا جواب دیتے رہیں گے۔
اس لیے کہ اسٹیبلشمنٹ ایک کمزور پچ پہ ہے۔
اور اگر کسی بھی جلسے میں کسی ایک لوز بال کو یا کسی ایک فقرے کو پکڑ کے وہ یہ سمجھیں کہ سارے معاملات کو وہ پلٹ دیں گے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔
اسٹیبلشمنٹ تو خود شیشے کے گھر میں بیٹھی ہوئی ہے، وہ دوسروں پہ پتھراؤ کرے گی، تو پتھر تو شیشے کے گھر پر بھی آئے گا۔ لیاقت بلوچ
#قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار
#مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ
#لشکر_نہیں_امن