یہ نیچے بس کا نمبر نوٹ کریں اور نیکی سمجھ کر پوسٹ شئیر کریں تاکہ اس بس کے مالک تک خبر پہنچے
یہ بس ساھیوال سے پشاور جاتی ھے
اور تقریباً رات 10 بجے بنگلہ گوگیرہ پہنچتی ھے
میں وھاں سے اس بس پر پشاور جانے کیلئے بیٹھا
میں اس وقت اسی بس میں سفر کر رہا ہوں۔ نماز فجر کا وقت ہو گیا، کئی مسافروں نے ڈرائیور سے درخواست کی گاڑی روک دے تاکہ ہم فرض نماز ادا کر لیں، لیکن اس بدبخت منحوس ڈرائیور اور کنڈیکٹر نے صاف انکار کر دیا اور کہا بس نہیں رکے گی۔
افسوس!
جس ملک کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر رکھی گئی، وہاں روٹی، چائے اور سگریٹ کے لیے تو بسیں آدھا گھنٹہ رک جاتی ہیں، لیکن جس نماز کے لیے اللہ نے ہمیں پیدا کیا، اس کے لیے 5 منٹ نہیں ملتے؟
ڈرائیور صاحب اور بس کمپنی کے مالکان سے گزارش ہے:
یہ سواریاں آپ کے رزق کا ذریعہ ہیں۔ اگر یہی مسافر آپ کی گاڑی میں اللہ کو ناراض کر کے سفر کریں گے تو اس سفر میں برکت کیسے آئے گی؟ حادثات کیسے رکیں گے؟
میرا مطالبہ ہے:
1. تمام ٹرانسپورٹ کمپنیاں اپنے ڈرائیوروں کو پابند کریں کہ نماز کے وقت گاڑی ضرور روکی جائے۔
2. ہر بس میں نماز کا وقفہ قانون کا حصہ بنایا جائے۔
اگر آپ میری بات سے متفق ہیں تو اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ یہ آواز ان مالکان تک پہنچے۔
*نماز پہلے، سفر بعد میں!*
#نماز_کا_احترام_کرو
پھر نہ کہنا خبر نہ تھی ۔۔۔۔
عمران خان جس زوم لنک پر تھے،اس پر ٹوٹل چھ لوگ تھے ،تین کمرہ عدالت میں واضح اور ایک عمران خان اڈیالہ سے ،
دو اور بھی سسٹمز پر عمران خان والی لائیو سٹریم جارہی تھی ،جو یقیناً عدالت میں ہی ہوگی ،
عمران خان کی اصل تصاویر تو آئی ہی نہیں ہیں ،
اگر کسی نے عمران خان کی قہقہے اور مسکراہٹوں والی تصویر بنا رکھی ہو اور اس نے لیک کردی تو اب تک جو کہرام برپا ہوا ہے ،اس سے زیادہ بربادی مچے گی ،
اس لیے وفاقی حکومت آج جمعے کے بابرکت دن امام بری اور گولڑ�� شریف میں جبکہ چھوٹی سرکار داتا دربار پر خصوصی دعائیں کروائے کہ وہ تصاویر لیک نہ ہوں 😂
یقین کریں کہ وہ تصاویر آ گئیں تو پوری حکومت کے پلیٹ لیٹس گر جانے ہیں،کانپیں ٹانگ جانی ہیں اور نک دے کوکوں شوکوں کا پروگرام وڑ جانا ہے🤣
تازہ ترین
طلبا نے ابھی بتایا کہ وہ اپنی رہائش گاہوں میں محصور ہیں ، بدامنی اور تشدد کے انت��ائی واقعات ہوئے ہیں، اب بلڈنگز کے مالکان رہائیشیں خالی کروارہے ہیں، توڑ پھوڑ اور سامان باہر پھینک رہے ہیں، پاکستانی حکومت اعلیٰ سطح پر معاملہ اٹھائے ورنہ ہزاروں طلبا کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے
جو شخص ۳بار
“بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ”
کہے تو اسےصبح تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی،اور جو شخص تین مرتبہ صبح کےوقت اسےکہے تو اسےشام تک اچانک کوئی مصیبت نہ پہنچے گی۔
(ابوداؤد ،۵۰۸۸)
*ایسی مثالیں بہت ہونی چاہیے*
مفتی سید عدنان کاکاخیل صاحب مدظلہ ان دنوں اپنے شاگردوں ، مریدوں اور خلفاء کی بڑی جماعت کے ساتھ اندرون سندھ کا طوفانی دورہ فرما رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں گزشتہ کل ان کی میرپور خاص آمد ہوئی جہاں اہل حق کے قدیمی مرکز مسجد بیت المکرم میں ایک بہت مؤث�� و دلپزیر اصلاحی مجلس کا بھی انعقاد ہوا۔ خاص بات یہ تھی عوام الناس کے علاوہ شہر کا شاید ہی کوئی قابل ذکر عالم دین یا شیخ طریقت ایسا ہو جو اس مجلس میں شریک نہ ہوۓ ہوں۔ تمام مدارس کے مہتممین ، شیوخ الحدیث ، مفتیان کرام ، آئمہ مساجد اور خطباء شریک تھے۔ وفاق المدارس کے مسوول ، جمیعت علماء اسلام کے امیر ، ختم نبوت اور دیگر تنظیموں کی علاقائی قیادت بھی موجود تھی۔ جس مسجد میں یہ مجلس ہوئی یہ تبلیغی جماعت کا اس شہر میں پہلا مرکز تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مفتی صاحب کا اپنے رفقاء سمیت رات کا قیام حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کی خانقاہ میں تھا۔ خانقاہ کے ناظمین کے اصرار پر فجر کی نماز کے بعد اصلاحی مجلس ہوئی جس میں خانقاہ و مدرسہ اشرف المدارس کے تمام اساتذہ و طلبہ اہتمام سے شریک ہوۓ۔ محترم مفتی صاحب کے سلسلہ طریقت اور حضرت حکیم صاحب رحمہ اللہ کی مجالس کا طریقہ کار بالکل جدا جدا ہے مگر یہ دیکھ کر بہت اچھا لگا کہ ایک شیخ طریقت اپنے متعلقین کی بڑی جماعت کے ساتھ ایک دوسرے شیخ طریقت کی خانقاہ میں مہمان ہیں اور میزبان پوری فراخدلی اور وسیع الظرفی کے ساتھ مہمان کی مجالس میں شریک ہیں۔ میں اس وقت حضرت مفتی صاحب کے فہم و فراست کی داد دینے پر مجبور ہو گیا جب انہوں نے مجلس ذکر کرانے والے اپنے مرید سے فرمایا کہ آج کی مجلس میں تمام کلام حضرت والا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ کا ہی پڑھا جاۓ۔ اپنے شیخ و مرشد کا کلام کالی پگڑی پہنے ایک انتہائی خوش الحان نوجوان سے سن کر اہل خانقاہ خوب محظوظ ہوۓ۔ باہ��ی محبت و احترام اور یکجہتی و یگانگت کا یہ خوشنما منظر دیکھ کر میری آنکھیں بھیگ گئیں۔ کاش ایسی بہت ساری مثالیں اور بھی قائم ہوں کہ امت کو اس وقت ان مناظر کی سخت ضرورت ہے۔
( منقول )
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ڈال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)