خبر تو تب ہوتی کہ اگر گیارہ سو ارب روپے کرپشن معاف کرکے چوروں کو ائیرپورٹ پر ضمانتیں جاری کرکے 17 سیٹوں کے ساتھ ملک پر مسلط کرنے والا سسٹم چل جاتا۔
اسکا فیل ہونا کوئی خبر نہیں۔
وزیر داخلہ فوج کا ، وزیر خزانہ فوج کا ، افغان و کشمیر پالیسی فوج کے ہاتھ میں ، سرمایہ کاری کا ادارہ فوج نے بنایا ، ضلعی افسران کو فوج کے سیکٹر کمانڈرز کنٹرول کرتے ہیں ، الیکشن فوج نے چھینا آئینی ترامیم فوج نے کیں۔ آج ناکامیوں کا اعتراف بھی فوج کا ہے۔
عرض کیا تھا یہ جیت نہیں سکتے ہم ہار نہیں سکتے۔
عمران خان نے جیل میں بیٹھ کر فارم 47 کے اس نظام کو اپنی موت آپ مار دیا ہے عمران خان کی ہمت حوصلے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے اور کمپرومائز نہ کرنے کی پالیسی نے اس نظام کے گھٹنے ٹکوا دیئے ہیں،لڑائی لڑنے کا ڈھونگ تو نواز شریف زرداری نے بھی کیا مگر جیت عمران خان کے حصے میں آئی۔۔۔عمران خان نے کہا تھا یہ اعصاب کی لڑائی ہے اس لڑائی کا میں ماسٹر ہوں۔۔کچھ کن ٹٹے بھگوڑے آئے تھے عمران خان کو کمپرومائز پر تیار کرنے مگر اس میں بھی وہ ناکام رہے
سو ارب ڈالر کا انقلاب۔۔
کرپٹو کا انقلاب۔۔
اڑان پاکستان کا انقلاب۔۔
امریکہ کو قیمتی معدنیات بیچنے کا انقلاب۔۔
پاکستان اب قرضہ لے گا نہیں، دے گا۔۔ یہ والا انقلاب۔۔
بیرون ممالک سے کروڑوں کی سرمایہ کاری کا انقلاب۔۔
اور اب چار سال بعد
"آپ مانیں نہ مانیں، نظام گر چکا ہے"
👏👏👏
بریکنگ
لاہو رکی سڑکوں پر عمران خان کی تصاویرز کے سپرے پینٹ جگہ جگہ شروع ۔۔۔نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنی شناخت چھپا کر خان کی تصاویر کو ہر جگہ لگا رہیں ہیں۔ تحریک شروع کردی ہے
جس جس بات سے عمران خان کا نام لیکر یہ دوسروں کو ڈراتے تھے... الحمد للہ وہ سارے کام یہ خود اپنے ہاتھوں سے سرانجام دے رہے ہیں —
واقعی عزت و ذلت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے
تقسیم در تقسیم ہوئۓ ملک میں کسی ایک لیڈر پر ملک کے طول وعرض میں اعتماد ہونا ایک نعمت ہے۔ جہاں لورالائی کا ناراض نوجوان بھی اگر ووٹ دینے کا سوچے تو مہر لگا دے۔ باجوڑ ، چترال اور ٹنڈوجام سے بھی محبت مل جاۓ۔ اور لاہوری بھی اس کو چاہتے ہوں۔ پر افسوس اس موقع کو ضائع کیا جا رہا ہے۔