تین معاملات اہم ہیں۔
1۔ ریجیم گورنرراج لگاکرپھنس چکاہے۔ وہ سبکوگرفتارکرکےمن مانی شرائط پرمزاکرات چاہےگا۔ اہم لوگ گرفتاری سےبچیں۔
2۔ عمران خان،خاندان،اسیران کی رہائی کےمطالبےپرآجائیں۔ رسائی یادوائی کافی نہیں۔
3۔ عام عوام کےکولیٹرل ڈیمیج بننے یاوزیراعلی تبدیل کرنےپرراضی ناہوں۔
جس دن اسحاق ڈار اور محسن نقوی آن ریکارڈ کہ رہےتھے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو تو KP میں ایمرجنسی نہیں لگائیں گے
اسی دن گیم واضح ہو گئی تھی۔ سہیل سے انہیں کیا مسلہ تھا۔
پورا سال ڈرون پر خاموشی۔
فوج آپریشن پر 22 ارب سہیل نے دئیے۔ اور فوجی آپریشن چلتے رہے۔
بجٹ پاس کر دیا۔
معدنیات نکالے جا رہے تھے۔
جیو ARY ایکسپرس پر انٹرویو ہو رہے تھے۔
خان قید تنہائی میں رہا۔ گیارہ ماہ خاموشی۔
خان کی بہنیں قید میں۔
پولیس ایکٹ پاس نہ ہوا۔
دفعہ 144 کوئی قانون سازی نہیں
چادر چار دیواری پر کوئی قانون سازی نہیں۔
کے پی میں پہلے دن سے آخری دن تک انکے افسران لگے رہے۔
کیا کیا ایک سال میں جو وہ ہٹانا چاہتے تھے۔ یہ فرمائشی بیان تھے۔ اور کچھ نہیں۔
جو دلائل نیب کے وکیل نے نوٹس ملنے پر آئینی عدالت میں دینے تھے وہ دلائل چیف جسٹس آمین الدین نے نیب وکیل کو نوٹس دئیے بغیر خود ہی اپنے فیصلے میں دیتے ہوئے بشری بی بی کی سزا معطلی کی درخواست مسترد کر دی۔
مدعی (حکومت) غائب جج چست
جب جرنیل کسی قانون کو نہیں مانتے تو ہم کیوں مانیں ؟
درحقیقت یہ اب ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے
اٹھاؤ ڈنڈا اور توڑ دو خوف کے بت
انشاءاللہ فتح تمہاری ہوگی
اسحاق ڈار اور محسن نقوی آن ریکارڈ کہ رہےتھے کہ سہیل آفریدی کو ہٹا دو تو KP میں ایمرجنسی نہیں لگائیں گے
اور دو سال مروت اور اس کی بکواس کو سپورٹ کرنےوالے ٹارزن یہ منجن بیچ رہے ہیں کہ
“سہیل آفریدی نے جان بوجھ کر حکومت ختم کروائی”
اس مروتی بریگیڈ کے مطابق ان کےعلاوہ ہر شخص غدار ہے
انہوں نے ہر اہم موقعے پر عاصم منیر اور اس کے ٹولے کی بجائے ظلم سہنے والے لوگوں پر ہی توپیں کھولی ہوتی ہیں
کون سا آرمی چیف ایک سیلز میں کی طرح بریف کیس میں پتھر لیکر بیچنے کیلیے نکلتا ہے؟ ہمارا آرمی چیف رئیر ارتھ منرل کے نمونے لیکر گیا یہ شرمناک بات تھی اور قوم کےساتھ پاکستان کیساتھ مذاق تھا۔ ایمل ولی خان
پختونخواہ میں ایک ایس ایچ او شہید ہوا ہے۔ آرمی چیف اور اس کا سالا اس کا جنازہ پڑھنے جائیں گے؟ کیونکہ سہیل آفریدی کو ہٹائے جانے کی ایک وجہ جنازے نہ پڑھنا بھی بتائی گئی۔
"وزیر اعظم صاحب! آپ لوگوں نے اسے اغوا کیا ہے۔ اس کے ساتھ آپ نے ایم پی ایز کو اغوا کیا ہے، اس کے ساتھ آپ نے ایم این ایز کو اغوا کیا ہے۔ آپ اغوا کار ہیں، آپ دہشت گرد ہیں! آپ نے ایک منتخب پارلیمنٹ، جو کہ کروڑوں انسانوں کی نمائندہ ہے، اس پر حملہ کیا ہے۔
8 فروری کو جو الیکشن ہوئے، آپ خدا کو حاضر ناظر جان کر، دل پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائیں، کیا یہ الیکشن حقیقت تھے؟"
قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا قومی اسمبلی سے خطاب جو قومی اسمبلی نے سینسر کر دیا تھا۔
ایک بات سب اچھی طرح سمجھ لیں 4 سال سے یہ بات کر رہا ہوں کہ ملک پہ فوج کا 100 فیصد کنٹرول ہے کوئی سویلین حکومت کہیں نہیں ہوتی سب فوج خود چلاتی ہے ہر ایک فیصلہ فوج خود کرتی ہے یاد کریں جب عمران خان نے کہا تھا کہ باجوہ سپر کنگ بنا ہوا تھا ہم جو فیصلہ کرتے تھے یہ نہ چاہتا تو کام رک جاتا تھا۔ میں نے اسی لئے کافی عرصے سے نواز شریف زرداری وغیرہ پہ فوکس ختم کردیا ہے آج فوج انہیں کہے کہ عمران خان کو سجدہ کرو یہ کردیں گے اسلئے فوکس کریں۔۔۔ سمجھیں کہ لڑائی ایک ظالم ترین ادارے سے ہے جو ہمارا استحصال کر رہا ہے سویلین کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے ہمیں یہ جگہ خود بنانی ہے سامنے بندوق ہے لیکن ہمارے پاس تعداد ہے ہم نے اپنی سٹرینتھ پہ کھیلنا ہے اگر ہم انکی سٹرینتھ پہ کھیلیں گے تو شکست کھائیں گے انکو ہم نے ہماری پچ پہ لانا ہے سب یکسو ہوجائیں خدا کیلئے سب ایک ہوجائیں یہ پاکستان توڑنے جارہے ہیں اور ہمیں پاکستان بچانا ہے ان شاء اللہ!