اگر حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے ہی نہیں ماننے تو پھر ایک کام کریں نا سپریم کورٹ کو تالا لگا دیں اور اسے بند کر دیں۔
عوام کو آخر کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کیا یہ کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلوں اور عدالتی وقار کو کوئی اہمیت نہیں دیتی؟
اور جو ججز حکومت کی مرضی کے مطابق فیصلے نہیں کریں گے، کیا اب ان کی کردارکشی شروع کر دی جائے گی؟ جس طرح جسٹس منصور علی شاہ کے خلاف مہم چلانے کی کوشش کی گئی، کیا اب دوسرے ججز بھی اسی طرزِ عمل کا نشانہ بنیں گے؟
ٹرینڈ الرٹ 🚨
انصافینز سب یہ ٹرینڈ #ContemptOfCourt شروع کریں اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کریں کہ حکومت پر فوری طور پر توہین عدالت لگائیں۔
سوشل میڈیا اس پر بھرپور آواز اٹھائیں
جو کوئی بھی ایک قیدی کی صحت اور اُس کے چاہنے والوں کے جذبات کے ساتھ کھیل رہا ہے وہ قابل مذمت اور قابلِ افسوس ہے۔۔۔ کچھ چیزیں سیاستوں سے ماورا ہونی چاہئیں۔ خان صاحب کو علاج کا آئینی اور قانونی حق بلا حیل و حجت ملنا چاہئے۔
کیسے بے شرم لوگ ہیں۔۔۔ عمران خان حکومت میں جن کے لیڈر کو جعلی رپورٹس پر باہر کے اسپتالوں سے علاج کروانے کی اجازت دی گئی تھی، وہ کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کے پاکستانی اسپتال سے علاج کروانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، لیکن وہ اِن میں نہیں ہوتی۔
"میرا اپنے پارٹی عہدیداران کو پیغام ہے کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔ "عمران خان
#ImranKhan
Link : https://t.co/VWMZdd47kw
“میری طرف سے تمام اہل وطن کو گزشتہ عید مبارک ۔
میرا اللہ کی ذات پر کامل ایمان ہے۔ ظلمت کا کوئی بھی حربہ مجھے توڑ نہیں سکتا۔ اس ملک پر چھائے اندھیرے بہت جلد اختتام پذیر ہوں گے اور ہماری جدوجہد رنگ لائے گی۔ مجھے اللّہ پر پورا یقین ہے کہ میں سرخرو ہو کر باہر آؤں گا اور آئندہ عید انشاءاللہ اپنی قوم کے ساتھ کروں گا۔
میں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کر رہا یہ جو کچھ کر رہا ہوں صرف اپنی قوم کی فلاح کی خاطر کر رہا ہوں۔ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں۔ میں نہ پہلے کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نہ اب کسی صورت جھکوں گا۔ میں اپنے نظریے پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا اور اپنی قوم کی جنگ آخری دم تک لڑوں گا۔
اردلی حکومت کی مکمل کوشش ہے کہ مجھے قید میں رکھا جائے کیونکہ ان کو اپنے اقتدار کی فکر ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جس دن میں جیل سے باہر آ گیا ان کا جعلی اقتدار زمین بوس ہو جائے گا۔ اسی لیے یہ مسلسل مجھے توڑنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
میری سیاسی ملاقاتیں بھی نہیں کروائی جاتیں کیونکہ ان کو یہ خوف ہے کہ سیاسی ملاقات میں ہم اپنا لائحہ عمل دیں گے اور اس سے ان کو اپنی کرسیوں کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
میرے بچوں سے سات ماہ میں صرف دو بار بات کروائی گئی ہے اور اب دوبارہ کئی ہفتوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ عید پر میری بچوں سے بات کروانی تھی مگر وہ بھی نہیں کروائی گئی۔ میری کتابیں تک روک لی گئی ہیں۔ میرے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل کو میری بارہا درخواست کے باوجود میرے معائنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہ سب بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر ��ے کیا جا رہا ہے لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے اس لیے کوئی پوچھنے والا نہیں-“
سابق وزیراعظم عمران خان