پختون ماں جنگ کا ایندھن بننے کیلئے پیدا بچہ پیدا کرتی ہے
دیر میں اس معصوم کو بندوق اٹھانے پر جو شاباشی مل رہی ہے وہ آئندہ کی نسلوں کو بندوق اٹھانے پر اکسائے گی
ساتھ کھڑے ناکام اہلکار اپنی ناکامی کا ملبہ اس معصوم پر ڈال رہے ہیں
یہاں کھڑے بزرگوں کی ذمہ داری تھی کہ اس بچے کو بندوق کی جگہ لیپ ٹاپ اور کتاب دیتے
اس پولیس اہلکار کا فرض تھا کہ اس بچے سے بندوق چھین کر اسے کتاب تھماتا
لیکن
وہ اپنی ناکامی کو ان چند ہزار کے نوٹوں میں چھپانے کی ناکام کوشش کررہا ہے
FM @araghchi congratulated Pakistan’s Deputy PM and FM on the 79th Independence Anniversary, extending his greetings to the friendly neighboring government and people of Pakistan. #Iran#Pakistan
✉️ On August 14, President #Putin congratulated President @AAliZardari & PM @CMShehbaz on Pakistan's #IndependenceDay:
💬 I am confident that we will continue our constructive joint efforts to further expand the full range of #RussiaPakistan cooperation.
https://t.co/ntVm7gi7sJ
Warmest congratulations to the people of Pakistan on their National Day! Wishing Pakistan peace, prosperity and continued progress. Egypt looks forward to further deepening our historic friendship and strengthening our partnership for the benefit of our two peoples.
ہم ایک آزاد ملک میں پیدا ہوئے، مگر یہ آزادی ہمیں تحفے میں نہیں ملی۔ ہمارے بزرگوں نے اس کے لیے بے شمار قربانیاں دیں۔ یومِ آزادی کی خوشیوں میں اللہ کے بعد اُن کا شکر ادا کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔
ساتھ یہ بھی سوچیں: کیا ہم اُن کی قربانیوں کا حق ادا کر رہے ہیں؟ 🇵🇰
CM KP was asked about the security situation in KP, to which he responded with a Pashto proverb. The closest English translation would be
“I’m concerned about IK’s health, and you’re asking me about the situation in KP.”
@MaryamNSharif
Powerful position should be used to dismantle powerful criminals like in Punjab police @OfficialDPRPP . Make sure you make an example out of them. Too many morally corrupt there.
You, your uncle and father have been in power please make sure you fix at least this.
اپڈیٹ لاہور
انمول کی ماں اور آمنہ کی خالہ کے انکشافات :
تھانہ ٹاؤن شپ لاہور میں پراسرار موت کا شکار ہونے والی لڑکیوں ، آمنہ اور انمول کے کیس میں ایک اور دعویٰ سامنے آگیا ،
دونوں لڑکیاں کزنز تھیں ، انمول کی والدہ کے مطابق انہیں پولیس تھانے لے گئی تو چند گھنٹے بعد ہمیں تھانے بلایا گیا اور پوچھا گیا کہ کیا لڑکیاں نشا کرتی ہیں ؟ ہمارے انکار پر پولیس والوں نے ہمیں کہا کہ اگر آپ بیان دو کہ آپ کی لڑکیاں نشا کرتی تھیں تو ہم انہیں چھوڑ دیں گے ۔۔۔
انمول کی والدہ کے بقول انکی بیٹی اور بھانجی کو تھانے میں شربت پلایا گیا، کیا تھانوں میں پولیس والے ملزمان کو شربت پلاتے ہیں ، ہماری بچیاں کوئی نشا نہیں کرتی تھیں انکا قصور یہ تھا کہ وہ مجبور تھیں اور خوبصورت بھی تھیں ہمیں یقین ہے کہ ہماری بچیوں کو درندگی کا شکار بنایا گیا ہے ،
ہماری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل ہے کہ ایک بار پھر اپنی ریڈ لائن کی خبر لے لاہور کے تھانوں میں بچیوں اور عورتوں کے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو پنجاب کے دور دراز علاقوں کے تھانوں کا کیا حال ہو گا