مجھ پر غداری کا ایک مقدمہ صرف اس بات پر کیا گیا کہ میں نے جنرل فیصل نصیر کو ڈرٹی ہیری بولا تھا جو مجھ پر قاتلانہ حملہ کروانے کا زمہ دار ہے، اس کا یہ مطلب ہے کہ یا جنرل فیصل نصیر قانون سے اوپر ہے یا پھر اس کو لائیسنس دیدیا ہے کہ کسی کو بھی قتل کر دے۔ عمران خان
عمران خان نے اس سوال کا جواب خوشی خوشی دے دیا،
جو سوال پوچھنے کی جرات کوئی صحافی مریم نواز، نواز شریف، زرداری یا شہباز شریف سے نہیں کر سکتا۔
جب انسان سچا ہو تو اسے نہ انٹرویو دینے میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے، نہ ہی وہ انٹرویو کے دوران اینکر کو کہتا ہے کہ یہ بات انٹرویو سے نکال دو۔
عمران خان جمائمہ سے شادی کرنے لندن آئے تو میرے گھر ٹھہرے ان کے پاس 1 چھوٹا سا بریفکیس تھا جب کھولا تو اس میں بغیر استری کئے صرف 2 جوڑے نکلے میں نے خان صاحب سے کہا آپ ایک ارب پتی لڑکی سے شادی کرنے آئے ہیں تو یہ کیا ہے؟
عمران خان نے کہا چیکو تم بدلو گے نہیں انسان باہر سے نہیں اندر سے پہچانا جاتا...
جب انکے کپڑے لٹکا رہا تھا تو میری آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے...
عمران خان کا دوست :-
کہاں پہنچے؟
ویسے کوئی خبر شبر نہیں ہے مگر ایک احساس ضرور ہے کہ عمران خان یہ بازی لے گیا ہے، پاکستان بھی جیتا ہے لانگ ٹرم کے لیے، مگر اس وقت زخمی ہے کیونکہ لوگ بہت پریشان ہیں ، تکلیف میں ہیں اور بہت افسردہ ہیں۔
سپریم کوڑٹ کے فیصلے کے مطابق جس دن عمران خان کو شفاء ہسپتال شفٹ ہونے کی خبریں جب آرہی تھی، اس دن پاکستان بہت خوش تھا مگر وہ خوشی زیادہ دیر چل نہیں سکی۔ عمران خان نے حقیقی آزادی کے لیے اپنی صحت قربان کرنے کو ترجیح دی، ورنہ ماحول بنا ہوا تھا ہسپتال کا۔
فیس سیونگ تو عمران خان دے سکتے ہیں اسٹیبلشمنٹ کو مگر جب نیت خراب لگتی ہے انہیں تو شاید وہ بات چیت ٹھکرا دیتے ہیں۔ عاصم منیر اور ان کی ٹیم یہ چاہتی ہے کہ صحت کی خاطر عمران خان کوئی سمجھوتا کرلیں مگر عمران خان جس زون میں ہیں عوام کو حقیقی آزادی دلوانے کے لیے، اس کا کسی کو بھی اندازہ نہیں۔
ساڑھے چار سال ملک چلانے کی جو ناکام کوشش اسٹیبلشمنٹ نے کی اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ ہر چیز میں ناکامی ہے چاہے وہ معیشت ہو یا ملک کی سیکوریٹی ، کھیل ہو یا گورننس، سب کچھ فیل ہوا اور سب ہی مان چکے ہیں کے سسٹم کولیپس کر چکا ہے۔
جب کبھی یہ سسٹم ریسیٹ ہوکا، اسٹیبلشمنٹ شاید یہی تاثر دے گی کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے۔ مگر یہ بھی سب کو پتہ ہے کہ ریڈ لائین مٹانا کوئی عام بات نہیں۔ عوام نے عمران خان کے ساتھ مل کر یہ بات ثابت کردی کہ ریڈ لائن کوئی جنرل نہیں ، صرف عوام لگا سکتی ہے۔ اور آج کل جنرلز پر سب سے بڑی ریڈ لائین ہے عوام کی طرف سے کیونکہ وہ عوام سے بدلہ لے رہے ہیں ظلم کر کے اور گولی تک چلا چکے ہیں!
نظام کو گھسیٹنا یا پھر عوام کی منشاء کے بغیر کوئی نیا نظام ٹرائی کرنا ہونی کو تھوڑا تاخیر کا شکار ہی کر سکتا ہے ٹال تو نہیں سکتا۔ دنیا کہ ہر کونے سے عمران خان کی صحت اور لمبی عمر کے لیے لوگ دعا کرتے ہیں، وہ پورے زور شور سے سرخرو ہو کر آئے گا کیونکہ اس کے پاس آپ ہیں اس کے پاس عوام ہے اس کے پاس اللہ ہے کیونکہ وہ حق پر کھڑاہے۔ کوئی بیوقف ہی ہوگا جو یہ ساڑھے چار سال کی سائیکل پھر سے چلائے گا، کافی نقصان ہو گیا ہے ملک کا، اب اگر فیصلہ ساز عوام کے خلاف ہی رہتے ہیں تو شاید ان کا اپنا بھی بہت بڑا نقصان ہوگا۔
پوسٹ کا مقصد کچھ حد تک یہ ثابت کرنا تھا کہ کہنا سننا، کرنا سہنا، لڑائی واڑائی، بیانیہ ویانیہ سب کچھ ہوچکا، مگر عوام اور عمران خان جہاں کھڑے تھے چار سال پہلے وہیں کھڑے ہیں۔ جیت اور کسے کہتے ہیں؟
بندر کیا جانے ادرک کا سواد۔ محسن نقوی صاحب، سینیٹ میں آ گئے زرداری صاحب کی سپورٹ سے۔ تو وہ ووٹ شوٹ تو لے کر آتے نہیں ہیں، تو انہیں کیا پتہ نمائندگی کیا ہوتی ہے؟
تو انہوں نے بڑے طنزیہ لہجے میں کہا کہ "نمایندے بھی نہیں روک سکتے" یعنی کہ پارلیمنٹ بھی نہیں روک سکتی، منتخب پارلیمنٹ نہیں روک سکتی۔ اور اگر میں اس کی مزید تشریح کروں، تو محسن نقوی یہ کہہ رہے تھے کہ نمائندے... کس کے نمائندے بھائی؟
اسٹیبلشمنٹ کے نہیں، طاقتور اداروں کے نہیں، کسی طاقتور فردِ واحد کے نہیں۔ نمائندے عوام کے! یعنی کہ 25 کروڑ عوام کے نمائندے نہیں روک سکتے۔ اور دوسرے لفظوں میں، یہ 25 کروڑ عوام بھی نہیں روک سکتے۔
مجھے وہ یاد آ گیا، حبیب جالب کا وہ شعر تھا:
"دس کروڑ یہ گدھے..." مطیع اللہ جان۔۔۔
🚨علی امین گنڈا پور کو سخت Shut up کال
علی امین گنڈا پور جیسے لوگ 27 ستمبر کال کو ناکام بنانا چاہتے ہیں یہ عوام کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں یہ distractions ہیں یہ لوگ اور بہت سارے لوگ نہیں چاہتے کہ عمران خان باہر نکلیں اب ان لوگوں کو خوف لگ گیا ہے کہ عمران خان رہا نا ہو جائیں یہ لوگ جب پارٹی چیئرمین شپ کی بات کرتے ہیں تو پہلے یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا جیل میں خاتمہ ہو ہم منتظر ہیں روازانہ ٹی وی دیکھتے ہیں کہ آج کون بےنقاب ہو گا آپ آگے آگے دیکھتے جائیں
علیمہ خان
وہ جو تم سب وڑنا وڑنا کہتے تھے نا، وڑنا اس کو کہتے ہیں جیسے پاکستان کا سب سے بڑا ہوٹل گروپ وَڑّ گیا ہے
اب یہ گروپ چیئرمین کے گدھے نما بیٹے کا کارنامہ ہے یا چالیس چوروں کا جن کی سربراہی بھورا نامی ایک بدکردار زانی چور کر رہا تھا
اب دیکھتے ہیں کہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے کون نظر آئے گا
🔥🔥🔥
آپریشن کے ایک ہفتے بعد بدھ کے روز اپنی والدہ کے ساتھ میرے والد میاں محمود الرشید سے پہلی ملاقات ہوئی۔ تقریباً 20 سے 25 منٹ کی اس ملاقات میں ابو نے اپنی صحت کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر نے اسٹیچز مزید تقریباً ایک ہفتے بعد کھولنے کا کہا ہے۔
ملاقات کی ایک خوبصورت بات یہ تھی کہ ابو نے کوٹ لکھپت جیل میں خود اُگائی ہوئی بینگن کی سبزیاں ہمیں دیں۔ وہ وہاں مختلف سبزیاں اُگاتے ہیں، خود بھی استعمال کرتے ہیں اور جیل کے عملے کے لیے بھی پکا کر کھلاتے ہیں۔ آج ہم انہی بینگن کی سبزی بنا کر کھا رہے ہیں۔ ❤️
مشکل ترین حالات میں بھی دوسروں کا خیال رکھنا، اپنے ہاتھ سے اُگائی ہوئی چیز بانٹنا اور انسانیت کا دامن نہ چھوڑنا ہی اصل کردار ہے۔ قید و مشکلات کے باوجود میرے والد میاں محمود الرشید کی مثبت سوچ، حوصلہ اور دوسروں کے لیے محبت ہمارے لیے باعثِ فخر ہے۔یہ صرف ایک سبزی نہیں، بلکہ مشکل حالات میں بھی انسانیت، محبت، امید اور ثابت قدمی کو زندہ رکھنے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
بہت سے لوگوں نے ابو کی صحت کے لیے دعاؤں کا کہا تھا۔ الحمدللہ، وہ حوصلے کے ساتھ ہیں۔ صحت کی اس آزمائش نے انکا عقیدہ، نظریہ پہلے سے بھی زیادہ عمران خان کے لیے پختہ کردیا ہے کہ ان تمام مشکلات کے باوجود میرے والد نے بانی چیئرمین عمران خان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں
میں برطانیہ انگریزی سیکھنے آگئی لیکن یہاں آ کر دیکھا سارا برطانیہ اس کی دیوانی ہے جس کی میں بھی دیوانی ہوں۔
اس بے وفا نے آگر تیسری شادی بشری سے کرنی تھی تو کیا میں مر گئی تھی
بشری انصاری نے تو آگ لگا دی 🔥
سینیٹر مشتاق احمد خان کی قید کا 30واں روز: اہلِ خانہ سے پہلی ملاقات میں تشویشناک حقائق سامنے آ گئے۔
30 دن بعد اہلِ خانہ سے ہونے والی ملاقات میں یہ افسوسناک انکشاف ہوا ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کو مسلسل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ انہیں چہل قدمی، کتب، اخبارات اور بنیادی سہولیات تک رسائی سے محروم رکھا گیا، یہاں تک کہ 15 سے 20 دن تک کپڑے بھی فراہم نہیں کیے گئے۔
پاکستان رائٹس موومنٹ (PRM) اس غیر انسانی اور غیر قانونی سلوک کی شدید مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ:
قیدِ تنہائی فوری ختم کی جائے۔
بنیادی انسانی و آئینی حقوق بحال کیے جائیں۔
سینیٹر مشتاق احمد خان کو بلا تاخیر رہا کیا جائے۔
حق اور سچ کی آواز کو زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا!
Thank you, Michael Atherton
@Athersmike , for using your voice to stand up for Imran Khan’s health and human rights. Pakistanis will never forget this. A few military-backed stooges may attack you online, but they are a tiny, desperate minority — millions of Pakistanis respect and appreciate you for having the courage to speak the truth.
One World Cup. Two universities. Three cancer hospitals. Thirty years of political struggle and family sacrifice. Four bullets. Three years in jail. No crime. Still standing. One man. One eye. One mission. Zero surrender.
Imran Ahmed Khan Niazi, what a man. No one can be like you. ❤️
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
پاکستان تحریکِ انصاف کے بزرگ کارکن چاچا شاہ عالم خان کا انتقال ہو گیا، 9 مئی کا ایک اور کارکن اس دنیا سے چلا گیا، مرحوم شاہ عالم خان کو 9 مئی کے جھوٹے مقدمات میں نامزد کر کے 1 سال تک سرگودھا جیل میں ناحق قید رکھا گیا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم شاہ عالم خان کی مغفرت فرمائے درجات بلند فرمائے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین
#May9th_FalseFlag
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw