پاکستان گلوبل وارمنگ سے مسلسل متاثر ہونے والے ممالک میں ساتویں نمبر ہے ان دونوں تصویروں میں دیکھا جا سکتا ہے پاکستان گلوبل وارمنگ کے نشانے پر ہے ۔ اس ضمن میں اتھارٹیز کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔
#JhelumJalsa
اور کیسے دکھانی ہے وفاداری؟
ٹیکس دیتا ہوں، کرپٹ نظام بھگت رہا ہوں، آپکی سیاسی مداخلت پر خاموش ہوں، علاج پرائیویٹ کرواتا ہوں، بجلی خود سولر سے لیتا ہوں، حفاظت کے لیئے پرائیوٹ چوکیدار ہے، ووٹ چوری ��وا خاموش ہوں، ریاست بندے مار رہی پھر بھی چپ ہوں ، مہنگائی ڈبل ، بےروزگاری ڈبل ہو گئی
@AftabIqbalFan Bohat purana lollipop ha ya Sara Hama ab result mila ga yakeen Kara ga aise baton par ya jb kuch galat huta ha aisa beyan daina ajata last 4 year sa yahi Hu raha ha
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ ��جھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پا��ی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدو��ہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہ�� ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
اسٹیبلشمنٹ چار صوبوں میں مداخلت کر رہی ہے، کیا 36 صوبے بننے کے بعد مداخلت کرنا بند کر دے گی؟ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ��زشتہ 76 سال سے جو لوگ سیاست میں مداخلت کرتے آ رہے ہیں، وہ مداخلت بند کریں تو ہی نظام درست ہو سکتا ہے۔ پھر یہی لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں!مظہر اقبال۔
سب سے بڑی مثال تو جناب خود ہیں۔ اگر کوئی سسٹم ہوتا، اصلی جمہوریت والا، تو آپ ہوتے؟ سائرہ بانو
#pakistan@Saira_Banokhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
کشمیر کے حالات ہمارے سامنے ہیں لیکن حکومتی اتحادی ایک دوسرے پر ذاتی نوعیت کی تنقید میں مصروف ہیں، نہ کشمیر اور نہ ہی کشمیریوں کی بات ہو رہی ہے، عوام کے شعور کی مسلسل توہین کی جا رہی ہے، کیا عوام بھیڑ بکریاں، حالات یہاں تک پہنچے کیسے؟ کیا کوئی جواب دے گا؟ منصور علی خان سے گفتگو
"سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے..."
قائد اعظم ��ونیورسٹی کا پی ایچ ڈی طالب علم اسامہ جمیل راولاکوٹ میں گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالب علم اسامہ جمیل فیصلہ سازوں کے اقتدار بچانے کی حوس کا نشانہ بن گیا۔ جب سے یہ رجیم آئی ہے اس نے پرامن مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے سیدھی گولیوں کا فسطائی نظام شروع کیا ہے،اس کے باوجود چار سال سے عوام ان کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ آج جو خون کا کھیل آزاد کشمیر میں کھیلا جارہا ، یہی کھیل پہلے چھبیس نومبر کو پی ٹی آئی کے خلاف ، مریدکے میں ٹی ایل پی کے خلاف بھی کھیلا جا چکا ہے۔ جب تک پوری قوم متحد ہوکر نہیں نکلے گی ماوں کے بے گناہ بچے ایسے ہی شہید ہوتے رہینگے۔
جب تک پوری قوم متحد ہو کر اس ظلم کے خلاف نہیں کھڑی ہوگی، ماؤں کے بے گناہ بچے یوں ہی قربان ہوتے رہیں گے۔
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
جس طرح فلموں میں ڈائن کا میک اپ بارش میں اتر جاتا ہے اور اندر سے بدصورت ڈائن کی اصل شکل سامنے آ جاتی ہے، ویسے ہی جرنیلوں کے ساتھ ہوا ہے ان کا رنگ و روغن اتر گیا ہے اور اصل روپ اور کردار سامنے آ گیا ہے۔ ڈاکٹر معید پیر زادہ
#RightsMovementAJK#FascismUnderAsimLaw