Pakistani🇵🇰
Be the change that you wish to see in the world.#Social Media Activist. Keyboard Warrior of Twitter trends. Influencing people by Positive ideas😊
Indian cricket fans were celebrating when India lost and Pakistan’s chances for WC were almost over. Today, they LOST miserably and DAMN it feels good! 😂
#TeamIndia#INDvsENG#BehindClosedDoors
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھیجا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ممکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
اسلام آباد میں زوردار دھماکوں کی آواز ذرائع کے مطابق نور خان ایئربیس کے قریب گلبرگ گرین میں دو ڈرونز کو مار گرایا گیا ہے۔ پاک فضائیہ نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔۔۔۔
“پہلگام واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ میں متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
پلوامہ کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھی ہم نے بھارت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا۔ میری 2019 میں کی گئی پیشن گوئی کے مطابق ایک بار پھر ویسا ہی پہلگام واقعے کے بعد بھی ہو رہا ہے۔ خود احتسابی یا شفاف تحقیقات کی بجائے مودی سرکار نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔
ایک ڈیڑھ ارب کی آبادی والے ملک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے خطے میں اشتعال انگیزی جسے پہلے ہی “جوہری فلیش پوائنٹ” کہا جاتا ہے۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کے پاس ہر وہ صلاحیت موجود ہے جس سے وہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتا ہے، جیسا کہ ایک متحد قوم کی مکمل حمایت یافتہ تحریک انصاف کی حکومت نے 2019 میں دیا تھا۔
میں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔
میں مسلسل یہ بات اجاگر کرتا رہا ہوں کہ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت چلنے والا بھارت نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم، جو آرٹیکل 370 کے غیر قانونی خاتمے کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں، کشمیری عوام کی آزادی کی خواہش کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
نواز شریف یا آصف زرداری جیسے مفاد پرست سیاستدانوں سے بھارت کے خلاف کسی مضبوط مؤقف کی توقع رکھنا محض بیوقوفی ہے۔ وہ کبھی بھارت کے خلاف بولنے کی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ ان کا ناجائز پیسہ اور کاروباری مفادات بیرون ملک ہیں۔ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور انہی مفادات کے تحفظ کے لیے بھارت کی جارحیت اور پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات پر خاموش رہتے ہیں۔ ان کا ڈر صرف یہ ہے کہ اگر انہوں نے سچ بولا تو بھارتی لابیاں ان کے آف شور اثاثے منجمد کروا سکتی ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج پاکستانی قوم ایک جعلی اور دھاندلی ذدہ فارم 47 رجیم کے باعث تقسیم ہو چکی ہے، لیکن مودی کی جارحیت نے پاکستانی عوام کو بھارت کے خلاف ایک آواز میں متحد کر دیا ہے۔ ہم اس جعلی حکومت کو مسترد کرتے ہیں، لیکن من حیث القوم بھارت کی جنگی جنون اور خطے کے امن کو داؤ پر لگانے والے عزائم کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
کسی بھی بیرونی دشمن کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے قوم کا اندرونی طور پر متحد ہونا ضروری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام اقدامات کو روکا جائے جو قوم میں مزید تقسیم پیدا کر رہے ہیں۔ ریاست کی تمام توانائیاں سیاسی انتقام پر صرف ہونا اس نازک وقت میں قوم کی داخلی یکجہتی کو کمزور کر رہا ہے اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو رہا ہے-
— اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)
کاشف عباسی🚨🚨
اگر آپ نے میاں صاحب کو وزیراعظم نہیں بنوانا تھا تو پھر اتنی دور سے ان کبوتر اڑانے کے لیے کیوں بلایا؟
فیصل واوڈا 🚨🚨
عدالتی وقت کے بعد بھی ان کی کیسے سنی گئی اور انہیں ضمانتیں دی گئیں؟ الیکشن والے دن کھیل الٹا پڑ گیا اور سیٹیں تحریک انصاف جیت رہی ہے۔ میاں صاحب اگر اکیلے بھی دوڑ لگا تے تو بھی چوتھے نمبر پر آتے