بناسپتی گھی، آر بی ڈی پام آئل سے بنتا ہے، کرونا دور میں اس کے نرخ دگنے ہوئے تو گھی سازوں نے گھی اور ککنگ آئل سے نرخ اڑھائی گنا کر دئیے۔ کرونا کے بعد آر بی ڈی کے نرخ تو واپس آ گئے، لیکن گھی اور خوردنی تیل کے نرخ اسی جگہ پر ساکن ہیں، ایک گھی مل والا مل چلنے کے تین ماہ میں اپنی ٹوٹل انوسیٹمنٹ نکال لیتا ہے، اتنا منافع تو ہیروئن سمگلنگ میں بھی نہیں۔
آواز اٹھائیے یا لٹتے رہئے
A new era in cardiac care begins in Punjab.
Inaugurated today, Jinnah Institute Of Cardiology, a state-of-the-art hospital featuring 3-Tesla MRI, 640-slice CT, advanced operation theatres, cutting-edge Cath Labs, a Hybrid Cath Lab convertible into an OT, world-class heart-lung technology, and a team of some of the world’s most experienced specialist doctors and nurses.
This hospital will Insha’Allah raise the standard of cardiac healthcare not only in Punjab but Pakistan to an entirely new level.
میری بیوی کو سات دن سےڈینگی بخار ھے اور اسکے پلیٹ لیس تقریبا ختم ھونےوالے ہیں صرف سولہ ہزارہیں اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ھےخدارا میری مدد کرو اس وقت وہ لاھور یونیورسٹی ھسپتال میں ایڈمٹ پلیٹ لیس بہت مہنگے ہیں اب میری جیب بھی جواب دےچکی ھے،🙏
@MaryamNSharif@SalmanRafiquePK
نالہ ڈیک ہر سال سیالکوٹ سے لیکر شیخوپورہ تک سینکڑوں دیہات میں تباہی مچاتا ہے اس دفعہ بھی بہت نقصان ہوا ہے ایک شہری نے چند تجاویز دی ہیں
میری حکومت وقت سے اور ملک کی مستقل گورنمنٹ بیورو کریسی سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ نالہ ڈیک کو مزید چوڑا اور گہرا کیا جائے اور اسکے دونوں اطراف کے بند (پشتے) اونچے اور چوڑے بناۓ جائیں دونوں اطراف کے پشتوں پر سڑک بنائی جائے بے شک کچی سڑک بنادی جائے دونوں اطراف کار آمد درخت لگائے جائیں اور ڈیک نالہ کی تمام کچی سڑک کو بیٹ ایریاز میں تقسیم کرکے محکمہ جنگلات اور محکمہ انہار کے ملازمان کی منظم گشت ڈیوٹیاں لگائی جائیں جو درختوں اور پشتوں (بندوں) کی اپنے اپنے تقسیم شدہ علاقہ کی حد تک ذمہ دار ہو درخت نہ صرف کٹاؤ سے بچائیں گے بلکہ درخت ہر 10 سال بعد نیلام کرکے خاطر خواہ آمدن بھی ہو سکتی ہے دونوں اطراف کے پشتوں پر ان گنت درخت لگائے جا سکتے ہیں اور جس زمیندار کے رقبہ کے ایریا سے پشتوں کی مٹی اٹھائی جائے اس زمیندار کے خلاف اور مٹی اٹھانے والے کے خلاف مقدمہ کا اندراج کیا جائے اور مٹی کی قیمت سے زیادہ جرمانہ بھی وصول کیا صرف عائد نہ کیا جائے اور اس علاقہ کی نگرانی پر مامور ملازمان کے خلاف بھی سخت محکمانہ کارروائی کی جائے
ان اقدامات سے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبہ،دیہات اور شہر نالہ ڈیک کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں گے صرف منظم طریقہ supervision کی ضرورت ہے اسکے علاوہ کوئی زیادہ ایکسٹرا فنڈ بھی نہ درکار ہیں
درج بالا اقدامات سے انشاءاللہ ضرور نالہ ڈیک کی زد میں آنے والا زرعی رقبہ جات،دیہات اور شہر محفوظ رہیں گے آپ کی بےبس رعایا آپ کو دل سے دعا دے گی
دعا کا طالب :-
عدنان احمد کمبوہ
لکیری شجرکاری (Linear Plantation)
لکیری شجرکاری میں درختوں کو سیدھی اور مسلسل قطاروں میں لگایا جاتا ہے.
پنجاب میں ہمیشہ سے سڑکوں، نہروں ، برساتی نالوں ، بیلوں ، شاہراہوں اور ریلوے ٹریکس کے کناروں کے علاوہ زمینوں کی حدبندی پر درختوں کی طویل قطاریں لگائی جاتی رہی ہیں.
لکیری شجرکاری کے نتیجے میں سجی سبز راہداریاں نہ صرف فضا اور ماحول کو خوبصورت بناتی ہیں بلکہ مٹی کے کٹاؤ اور سیلاب کو روکنے،فضائی آلودگی میں کمی لانے،مقامی حیاتیاتی تنوع کو فروغ دینے اور ماحول کو زیادہ سرسبز و شاداب بنانے میں معاون ہوتی ہیں.
پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے شدید چیلنجز کا سامنا ہے .
حکومت کو یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی سڑک ، نہر اور ریلوے ٹریک درختوں کی قطاروں سے خالی نہ ہو تاکہ آنے والے کل کو محفوظ بنایا جاسکے.
@GovtofPunjabPK@MaryamNSharif@GovtofPakistan
میں تب بھی پروموٹر تھی اب بھی پروموٹر ہوں۔ محکمہ کا مثبت امیج میری ذمہ داری ہے ۔
البتہ میں امید کرتی ہوں کہ سکرٹری سکول جناب مدثر ریاض صاحب اور منسٹر ایجوکیشن اس بات کا نوٹس لیں گے کون انتقام میں اتنا پاگل ہو گیا ہے کہ سکرٹری صاحب کے آرڈر پر نمبر لگنے کا انتظار نہیں کیا اور اس کو سوشل میڈیا پر وائرل کیا ہے
۔@muddassirmalik1@RanaSikandarH@inausheenadnan
ہزارہ موٹروے تو غالباً صوبائی حکومت نے بنائی ہے۔
کے پی کے میں کہاں پہ بننی چاہئے ؟
آپ کی بات نہیں کر رہا مجموعی طور پہ خودکش بمباروں کی سہولت کاری ختم کرو۔
نواز۔شریف نے موٹروے بنائی ہی افغانستان اور سنٹرل ایشیا کنیکٹ کرنے کےلئے تھی۔
اس سڑک سے بھی لاہور سے پشور مزدوری اور کاروبار کرنے والے پختونوں کا فائدہ ہے
یہ جنوبی کوریا کے چے جونگ ان ہیں۔ یہ وہاں ٹیکنیکل ایجوکیشن پروگرام کے سربراہ ہیں لیکن اس وقت یہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اپنی ٹیم لے کر آئے ہیں اور بچوں کا امتحان لے رہے ہیں تاکہ ان بچوں کے جنوبی کوریا کی جامعات میں مفت تعلیم کا بندوبست کر کے انہیں جابز دلوائی جا سکیں۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے گورنمنٹ ایم اے او کالج میں جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند طلبہ کے لیے ایک خصوصی امتحان منعقد کیا گیا جس میں تقریباً 250 طلبہ نے شرکت کی۔ یہ امتحان کورین زبان سیکھنے والے ان طلبہ کے لیے تھا جو مستقبل میں جنوبی کوریا جا کر تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
امتحان جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کی ٹیم کی نگرانی میں منعقد ہوا جو سوال نامہ تیار کرنے سے لے کر امتحانی عمل کی نگرانی تک تمام مراحل خود انجام دیتی ہے۔
گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور کی پرنسپل ڈاکٹر عالیہ رحمان خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پنجاب حکومت اور جنوبی کوریا کی ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے اشتراک سے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت پاکستانی طلبہ کو پہلے کورین زبان سکھائی جاتی ہے جس کے بعد وہ جنوبی کوریا میں دو سالہ ڈپلومہ پروگرام میں داخلے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ کو انگریزی کے ساتھ ساتھ کورین زبان سیکھنا ہوتی ہے اور زبان کے لیول ٹو امتحان میں کامیابی کے بعد انہیں ٹانگ وانگ یونیورسٹی میں داخلہ مل سکتا ہے۔ یہ پراسس مکمل مفت ہوتا ہے۔۔
اس حوالے سے ڈاکٹر عالیہ رحمان خان بتاتی ہیں ’جو طلبہ امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہیں انہیں مکمل طور پر مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے جبکہ مخصوص نمبر حاصل کرنے والے طلبہ بھی جنوبی کوریا میں مفت تعلیم کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ گزشتہ بیچ میں ہمارے چار طلبہ مکمل سکالرشپ پر جنوبی کوریا گئے تھے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’پچھلی بار 25 پاکستانی طلبہ کے ویزے لگے تھے اور وہ خود ان کے ساتھ جنوبی کوریا گئی تھیں تاکہ انہیں یونیورسٹی اور ہاسٹل میں سیٹل ہونے میں مدد فراہم کی جا سکے۔‘ ان کے بقول ’وہاں طلبہ کو صرف تعلیم ہی نہیں دی جاتی بلکہ انہیں جز وقتی ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں جس سے بہت سے طلبہ اپنی اگلی تعلیمی فیس کا انتظام خود کر لیتے ہیں۔ یونیورسٹی طلبہ کو ملازمت کے مقامات تک لے جانے اور واپس لانے کی ذمہ داری بھی نبھاتی ہے۔ وہاں جا کر مجھے یہ محسوس ہوا کہ وہ ہمارے بچوں کو اپنے بچوں کی طرح سمجھتے ہیں۔‘
ان کے مطابق کورین زبان سیکھنے کے لیے انٹر میں 70 فیصد یا اس سے زائد نمبر درکار ہوتے ہیں جس کے بعد زبان سکھائی جاتی ہے اور پھر ویزے کا عمل شروع کروا کر بچوں کو کوریا بھیجا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عالیہ رحمان نے ایک دلچسپ واقعہ بھی سنایا۔ ان کے مطابق ’ایک پاکستانی طالبہ نے اپنی پہلی تنخواہ ملنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے تحفہ خریدا کیونکہ اس کے خیال میں جنوبی کوریا میں یونیورسٹی انتظامیہ نے والدین کی طرح ان کی دیکھ بھال کی تھی۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’اس وقت پنجاب کے علاوہ سندھ اور خیبرپختونخوا سے بھی طلبہ اس پروگرام میں شامل ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں بغیر کسی فیس کے کورین زبان سکھائی جا رہی ہے۔‘
ٹانگ وانگ یونیورسٹی کے صدر اور جنوبی کوریا کے ٹیکنیکل ایجوکیشن پروگرام کے سربراہ چے جونگ اِن نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’یہ منصوبہ پاکستانی سفارت خانے، حکومت پاکستان اور حکومت پنجاب کے تعاون سے بطور پائلٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا تھا۔‘ ان کے مطابق ’پاکستانی طلبہ کورین زبان سیکھنے کے بعد سٹڈی ویزے پر جنوبی کوریا جا سکتے ہیں جہاں انہیں تعلیم کے ساتھ کام کرنے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا ہے ’ہماری یونیورسٹی میں غیر ملکی طلبہ کو 40 فیصد سکالرشپ دی جاتی ہے جبکہ باقی 60 فیصد فیس حکومت ادا کرتی ہے۔‘ چے جونگ اِن کے مطابق اب تک جنوبی کوریا پہنچنے والے پاکستانی طلبہ کی کارکردگی انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے۔’میں سمجھتا ہوں کہ مختلف ممالک سے آنے والے طلبہ کے مقابلے میں پاکستانی طلبہ نے بہترین نتائج دیے ہیں اور انہیں وہاں کسی خاص مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’لاہور میں ایم اے او کالج، کوئن میری کالج، سائنس کالج اور ہوم اکنامکس کالج میں کورین زبان سکھانے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ہر چھ ماہ بعد امتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب طلبہ سکالرشپ کے ساتھ جنوبی کوریا میں تعلیم کا موقع فراہم کیا جاتا ہے
ہوں نے بتایا کہ ’لاہور میں ایم اے او کالج، کوئن میری کالج، سائنس کالج اور ہوم اکنامکس کالج میں کورین زبان سکھانے کے مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں ہر چھ ماہ بعد امتحان لیا جاتا ہے۔ کامیاب طلبہ سکالرشپ کے ساتھ جنوبی کوریا میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔‘
ادیب یوسفزئی
#freeducation #southkorea #punjab