آج بھی اکثریت میں لوگوں کو یہ سن کر عجیب لگتا ہے، جب انہیں بتایا جاتا ہے ہم صرف ایک لیپ ٹاپ کو استعمال کرکے دنیا کے کسی بھی مُلک میں اپنی دکان کھول سکتے، وہاں اپنا سامان رکھ سکتے، گاہک سامان خریدیں گے، آپکے پیسے دیں گے، آپ انہیں سامان دیں گے،
وہ سامان کی واپسی یا تبدیلی بھی ہوگی،
بلکل ویسے ہی جیسے آپکی گلی کی نکر پر چاچے صدیق کی دکان ہے۔۔
ہم ویسی دکانیں اپنے گاؤں میں اپنے گھر میں بیٹھ کر UK, USA Australia Europe وغیرہ میں بناتے اور چلاتے ہیں۔۔
کیونکے دنیا بدل گئی ہے اور کاروبار کے طریقے بھی بدل گئے ہیں۔۔۔
ایسی خاتون کو دوست نہ بناؤ جس کا معاملہ حد سے بڑھا ہوا ہو (یعنی دین سے غافل ہو)"
ایک بہن بیان کرتی ہیں:
"میں ایک بار اس (خاتون) کے ساتھ بیٹھی، وہ پورے وقت صرف کپڑوں، سونے (زیورات)، فرنیچر، سیر و تفریح (سفروں) اور خریداریوں کے بارے میں ہی باتیں کرتی رہی۔ یہاں تک کہ مجھے اس کے
👇
پھیپھڑوں کی صحت کا جادوئی نسخہ! 🔥
پیاز، لیموں اور لہسن کا یہ مشروب پھیپھڑوں کو بالکل صاف کر دیتا ہے۔
تمہارے پھیپھڑے کتنے صحت مند ہیں؟ ویڈیو دیکھ کر آزما لو!👇
📢 *انتہائی اہم معلومات: بجلی کے بلوں پر سبسڈی کا نیا سرکاری قانون!*
تمام عوام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے ایک نیا فیصلہ سامنے آیا ہے، جس سے عام عوام (خاص طور پر غریب طبقہ جو صرف بل لیتا ہے اور جا کر جمع کروا آتا ہے) شدید متاثر ہو سکتا ہے۔ عام لوگوں کو ان ہیرا پھیریوں کا علم نہیں ہوتا، اس لیے اس پیغام کو غور سے پڑھیں۔
🛑 *مسئلہ کیا ہے؟*
- اس ماہ کے بجلی کے بلوں پر، جن صارفین کے *200 سے کم یونٹ* استعمال ہوئے ہیں، ان کے بل پر گورنمنٹ نے ایک *QR Code* دیا ہے۔
- اس کوڈ پر لکھا ہے کہ گورنمنٹ آپ کو 200 سے کم یونٹ استعمال کرنے پر سبسڈی دے رہی ہے۔
- *شرط:* اگر آپ اس سبسڈی کو آئندہ بھی جاری رکھنا چاہتے ہیں، تو آپ کو یہ کوڈ اسکین کر کے اپنی معلومات کی تصدیق کرنی ہوگی۔
⚠️ *عمل نہ کرنے کا نقصان (ظلم کی انتہا):*
- اگر آپ یہ عمل نہیں کریں گے، تو آپ کی 200 یونٹ والی *سبسڈی اگلے ماہ سے ختم* کر دی جائے گی۔
- سبسڈی ختم ہونے کی صورت میں، پہلے ہی یونٹ سے آپ پر وہی ریٹ لاگو ہوگا جو 201 یا اس سے زائد یونٹ والے کو لگتا ہے۔
- یاد رہے کہ اگر یہ ریٹ ایک بار لگ گیا، تو اگلے *6 ماہ تک* یہی بھاری ریٹ لگتا رہے گا۔
- *نوٹ:* باقاعدہ بل پر یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ اگر تصدیق نہیں کریں گے تو 200 یونٹ والی سبسڈی ختم کر دی جائے گی۔ ہزاروں غریب لوگ ایسے ہوں گے جن کو اس چیز کا علم ہی نہیں ہوگا اور اگلے ماہ سے ان کا بل اچانک بہت زیادہ آنا شروع ہو جائے گا۔
📲 *اسکین اور تصدیق کرنے کا طریقہ (بہت آسان):*
ہر وہ بل جس پر 200 سے کم یونٹ استعمال ہوئے ہیں، اس پر *2 QR Code* ہوں گے۔ آپ نے درج ذیل طریقے سے عمل کرنا ہے:
- *کوڈ اسکین کریں:* بل پر موجود *اوپر والے کوڈ کو* (جس پر سبسڈی کا ذکر ہے) اپنے ٹچ موبائل کے کیمرے یا QR اسکینر سے اسکین کریں۔
- *ویب سائٹ پر جائیں:* اسکین کرتے ہی موبائل آپ کو براہِ راست متعلقہ سرکاری ویب سائٹ پر لے جائے گا۔
- *ڈیٹا چیک کریں:* وہاں موجود اپنا ڈیٹا (معلومات) دیکھیں اور فارم کو OKAY کریں۔
*او ٹی پی (OTP) کوڈ درج کریں:* تصدیق کرنے پر آپ کے موبائل سم نمبر پر ایک کوڈ (SMS) آئے گا، وہ کوڈ وہاں لکھیں اور *Verify* پر کلک کریں۔
- *مراحل مکمل:* ایسا کرنے کے بعد اسکرین پر *VERIFIED* لکھا ہوا آ جائے گا، جس کا مطلب ہے آپ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔
📊 *ریٹ کا فرق (مثال کے طور پر):*
- *سبسڈی کے ساتھ (موجودہ ریٹ):* ابھی 100 یونٹ تک تقریباً 10 روپے فی یونٹ ہے، اور 101 سے 199 یونٹ پر تقریباً 14 روپے ہے۔
- *سبسڈی ختم ہونے کے بعد (نیا ریٹ):* اگر اسکین والا کام نہیں کریں گے تو پہلے ہی یونٹ سے *رہائشی بل پر 25 سے 27 روپے* اور *کمرشل پر 38 روپے* فی یونٹ کا ریٹ لگے گا۔
🤝 *آپ سے اپیل:*
تمام بھائیوں سے گزارش ہے کہ اپنے بلوں پر یہ کام خود بھی کریں اور اپنے آس پاس موجود غریب، سادہ لوح اور ان پڑھ لوگوں کی بھی مدد کریں تاکہ کسی کا نقصان نہ ہو۔ اس معلومات کو ہر جگہ پہنچائیں تاکہ سب کا بھلا ہو سکے!
🌳مشہور زمانہ چھ کلموں کی کوئی حقیقت نہیں💎
🌳یاد رکھیں کہ
یہ ترتیب اور تعداد قرآن میں تو ھے ھی نہیں اور کسی حدیث سے بھی ثابت نہیں
کلمہ
☝صرف لاالہ الا اللہ
برصغیر پاک وہند میں شش کلمے کے نام سے چند دعائیہ کلمات اور تسبیحات بہت پابندی سے بچوں کو یاد کروائے جاتے ہیں،
اس تحریر میں ہم آپ کے سامنے ان کلمات کی "حقیقت" بیان کرنے کی کوشش کریں گے،
چھ کلمے جو عوام میں بہت مشہور ہیں :
👈پہلا کلمہ طیب
صرف یہ احادیث سے ثابت ہے
👈دوسرا کلمہ شہادت کہا جاتا ہے
جو ایمان کا لفظی اقرار ہے
👈تیسرا کلمہ تمجید کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے
👈چوتھا کلمہ جس کو توحید کہا جاتا ہے؛
👈پانچواں کلمہ اِستغفار
👈چھٹا کلمہ ردِّ کفر
📌خلاصہ .
چھ کلموں کو بر صغیر میں علماء نے مشہور کیا کیونکہ عوام عربی سے ناواقف تھے لہذا ان کو مختصر الفاظ میں دعائیں سکھا دیں، لیکن ان پر دوام اور سختی سے عمل پیرا ہونے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ جس طرح سورتوں کی فضیلت میں غلو سے کام لیا گیا،
بدعات ایجاد کی گئیں۔
نتیجتاً قرآن کو لوگوں نے نظر انداز کیا۔
اور ثابت شدہ فضائل سے بھی محروم ہوگئے۔
بلکل اسی طرح یہ چھ کلمے یاد کروانے میں شدت اور فضیلت میں غلو سے کام لیا گیا کہ ہمارے بچوں کی اکثریت قرآن کی حقیقی تعلیم سے دور ھو گئی ۔ان میں سے زیادہ تر صرف عربی میں بعض قرانی الفاظ پر مشتمل الله کی تعریف پر منبی کلمات ہیں .جن کے معنی بھی بچے نہیں جانتے بس رٹا لگاتے ہیں .
ان .کلموں کا کوئی شرعی ثبوت مذکورہ ترتیب اور مذکورہ اسماء کے ساتھ نہیں ملتا. ۔
لوگوں میں یہ چیز باور کرائی جارہی ہے کہ نعوذ باللہ جس کو یہ چھہ کلمے یاد نہیں اس کا ایمان کمزور ہے ۔ کلمے یاد ہونا نہ ہونا ایمان کا پیمانہ نہیں نہ ہی اسکی کوئی فضیلت ہے ۔ اسکو عوام پر تھونپ دینا نری جہالت کے علاوہ کچھ نہیں۔۔
اسی طرح خودساختہ درود اور دعائیں بھی لوگوں میں عام ہیں ،
جیسے
👈درود ماہی
👈درود تنجینا
👈درود لکھی
👈دعائے نور
اور بھی بے شمار جھوٹ پر جھوٹ
ہر ہفتے ایک نیا درود بازار میں دستیاب ہوتا ہے
اللہ سبحانہ و تعالی ہر گمراہ کو ہدایت عطاء فرمائے
آمین یا رب العالمین
منیر نیازی کہتے ہیں کہ ابا جی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا
اچانک انہوں نے مجھ سے پوچھا:
"حیض کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ "
میں نے اپنے دل میں الحمد للہ پڑھ کر اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ ہم بھی اب اپنے آپ کو ان آزاد خیال لوگوں میں شمار کر سکتے ہیں جو اپنے گھر میں ہر قسم کے موضوع پر کھل کر بات کر سکتے ہیں
ساتھ ہی مجھے وہ سارے بیتے سال یاد آ گئے جو میں نے ابا جی کے رعب اور دہشت کے ساتھ اس گھر کے گھٹن زدہ ماحول میں گزار دیئے تھے
منیر نیازی نے مسکراتے ہوئے کہا:
" ابا جی، حیض اک ایسے سرکل کا نام ہے جس سے ہر جوان عورت مہینے میں ایlک بار گزرتی ہے "
ابا جی نے پھر پوچھا:
" تو پھر عورت اس حالت میں کیا کرتی ہے؟ "
منیر نیازی نے کہا:
" ابا جی ، عورت اس حالت میں نہ نماز پڑھتی ہے اور نہ ہی روزہ رکھتی ہے "
ابا جی نے اس بار قدرے سخت اور اکھڑے ہوئے لہجے میں کہا:
" پُتر ! اس کا مطلب یہ ہے کہ تجھ میں اور اُس حیض والی عورت میں کوئی فرق نہیں ہے ! "
اردو کلاسیک
کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟
ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو:
جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا۔
خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟
کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟
یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟
یا ڈھیر سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا : پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے۔
اس سلسلے میں مال کا نام مت لیجیے،
بہت ساری مالدار عورتیں جن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے۔
خوشحال شادی شدہ زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں ہے، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے دسیوں بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے۔
بہت ساری خواتین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں، دن بھر کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں شوہر کی بدسلوکی کی شکایت رہتی ہے۔
انٹرویو لینے والی خاتون صحافی کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا :
پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے ؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا : جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں۔
ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہوجاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے
نامہ نگار خاتون نے پوچھا : ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں،
اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں
ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہوجائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے۔
جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے تو میں کہتی ہوں
پوری ہو گئی آپ کی بات ؟
پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں
کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔
میں کمرے سے نکل جاتی ہوں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہوں۔
خاتون صحافی نے پوچھا : اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟
بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں۔
اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے،
یہ دودھاری ہتھیار ہے،
جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی۔
صحافی نے پوچھا : پھر آپ کیا کرتی ہیں؟
بوڑھی خاتون بولیں۔
میں دو تین گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے۔
حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے
پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں
وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟
میں کہتی ہوں : نہیں۔
اس کے بعد وہ اپنی سخت کلامی پر معذرت ظاہر کرتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے۔
انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا : اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟
بوڑھی خاتون بولیں : بالکل، میں کوئی اناڑی تھوڑی ہوں، مجھے اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے۔
کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کرلوں اور جب وہ پرسکون ہو تو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟
خاتون صحافی نے پوچھا : اور آپ کی عزت نفس (self respect) ؟
بوڑھی خاتون بولیں۔
پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے۔
جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو۔
اور ہماری شادی شدہ زندگی پرسکون ہو۔
دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔
جب مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں تو پھر کیسی عزت نفس؟؟
منقول
اگر آپ کو یہ پسند ہے ➜ یہاں جائیں👇🏻
🤖 اگر آپ کو ٹیکنالوجی پسند ہے، تو ٹوکیو جائیں
🏛️ اگر آپ کو تاریخ پسند ہے، تو روم جائیں
🍜 اگر آپ کو اسٹریٹ فوڈ پسند ہے، تو بنکاک جائیں
🕉️ اگر آپ کو روحانیت پسند ہے، تو واراناسی جائیں
👗 اگر آپ کو فیشن پسند ہے، تو میلان جائیں
❤️ اگر آپ کو رومانس پسند ہے، تو پیرس جائیں
💵 اگر آپ کو مالیات پسند ہے، تو نیویارک جائیں
✨ اگر آپ کو لگژری پسند ہے، تو دبئی جائیں
🎨 اگر آپ کو آرٹ پسند ہے، تو فلورنس جائیں
🎬 اگر آپ کو سینما پسند ہے، تو لاس اینجلس جائیں
🎶 اگر آپ کو پارٹی پسند ہے، تو ایبیزا جائیں
⛰️ اگر آپ کو قدرتی مناظر پسند ہیں، تو سوئٹزرلینڈ جائیں
🏰 اگر آپ کو آرکیٹیکچر پسند ہے، تو بارسلونا جائیں
👑 اگر آپ کو شاہی خاندان پسند ہے، تو لندن جائیں
💡 اگر آپ کو جدت پسند ہے، تو سان فرانسسکو جائیں
🦁 اگر آپ کو سفاری پسند ہے، تو کینیا جائیں
🏔️ اگر آپ کو ایڈونچر پسند ہے، تو نیپال جائیں
☕ اگر آپ کو کافی پسند ہے، تو کولمبیا جائیں
🏝️ اگر آپ کو ساحل پسند ہیں، تو مالدیپ جائیں
🎭 اگر آپ کو کارنیوال پسند ہیں، تو ریو ڈی جنیرو جائیں
🏜️ اگر آپ کو اہرام پسند ہیں، تو قاہرہ جائیں
⛩️ اگر آپ کو مندروں میں دلچسپی ہے، تو کیوٹو جائیں
🗿 اگر آپ کو اسرار پسند ہے، تو ماچو پچو جائیں
🐒 اگر آپ کو جنگلی حیات پسند ہے، تو ایمیزون رین فارسٹ جائیں
🕌 اگر آپ کو روایات پسند ہیں، تو استنبول جائیں
🌋 اگر آپ کو آتش فشاں پسند ہیں، تو آئس لینڈ جائیں
🏖️ اگر آپ کو سرفنگ پسند ہے، تو بالی جائیں
🕌 اگر آپ کو صحرائی ثقافت پسند ہے، تو مراکش جائیں
⚽ اگر آپ کو فٹبال پسند ہے، تو بیونس آئرس جائیں
🍷 اگر آپ کو وائن پسند ہے، تو ٹسکینی جائیں
🛕 اگر آپ کو وراثتی مقامات پسند ہیں، تو انگکور واٹ جائیں
🌆 اگر آپ کو اسکائی لائنز پسند ہیں، تو ہانگ کانگ جائیں
🧘 اگر آپ کو مراقبہ پسند ہے، تو رشی کیش جائیں
🚂 اگر آپ کو خوبصورت ٹرین سفر پسند ہیں، تو سوئٹزرلینڈ جائیں
🌃 اگر آپ کو نائٹ لائف پسند ہے، تو بنکاک جائیں
🛳️ اگر آپ کو کروز پسند ہیں، تو میامی جائیں
🎡 اگر آپ کو تھیم پارکس پسند ہیں، تو اورلینڈو جائیں
🍺 اگر آپ کو بیئر پسند ہے، تو میونخ جائیں
🛩️ اگر آپ کو ہوابازی پسند ہے، تو سیئیٹل جائیں
📚 اگر آپ کو ادب پسند ہے، تو ڈبلن جائیں
🎭 اگر آپ کو تھیٹر پسند ہے، تو لندن جائیں
🐼 اگر آپ کو پانڈا پسند ہیں، تو چنگدو جائیں
🏄 اگر آپ کو ایڈرینالین پسند ہے، تو کوئینز ٹاؤن جائیں
🎤 اگر آپ کو موسیقی پسند ہے، تو نیش ول جائیں
🎮 اگر آپ کو گیمنگ پسند ہے، تو سیؤل جائیں
🍣 اگر آپ کو سوشی پسند ہے، تو اوساکا جائیں
🍫 اگر آپ کو چاکلیٹ پسند ہے، تو بیلجیم جائیں
🏝️ اگر آپ کو جزیرہ زندگی پسند ہے، تو سیشلز جائیں
🌄 اگر آپ کو سورج نکلنے کے مناظر پسند ہیں، تو بالی جائیں
🎰 اگر آپ کو کیسینوز پسند ہیں، تو لاس ویگاس جائیں
👘 اگر آپ کو ثقافت پسند ہے، تو کیوٹو جائیں
🚙 اگر آپ کو روڈ ٹرپ پسند ہے، تو آسٹریلیا جائیں
🛤️ اگر آپ کو ٹرین کے سفر پسند ہیں، تو جاپان جائیں
🏕️ اگر آپ کو کیمپنگ پسند ہے، تو کینیڈا جائیں
🐪 اگر آپ کو صحرائی سفاری پسند ہے، تو دبئی جائیں
🌲 اگر آپ کو جنگلات پسند ہیں، تو فن لینڈ جائیں
💃 اگر آپ کو رقص پسند ہے، تو ہیوانا جائیں
🛶 اگر آپ کو لگون پسند ہیں، تو بورا بورا جائیں
🐠 اگر آپ کو ڈائیونگ پسند ہے، تو گریٹ بیریئر ریف جائیں
⛷️ اگر آپ کو اسکیئنگ پسند ہے، تو آسٹریا جائیں
🍁 اگر آپ کو خزاں پسند ہے، تو کینیڈا جائیں
🎆 اگر آپ کو آتشبازی پسند ہے، تو سڈنی جائیں
🗽 اگر آپ کو مشہور مقامات پسند ہیں، تو نیویارک جائیں
🎑 اگر آپ کو تہوار پسند ہیں، تو جاپان جائیں
📸 اگر آپ کو فوٹوگرافی پسند ہے، تو پیٹاگونیا جائیں
🦓 اگر آپ کو جنگلات پسند ہیں، تو یوگانڈا جائیں
🍃 اگر آپ کو صاف ہوا پسند ہے، تو نیوزی لینڈ جائیں
🌧️ اگر آپ کو رین فاریسٹ پسند ہیں، تو کوسٹا ریکا جائیں
🍇 اگر آپ کو انگور کے باغات پسند ہیں، تو کیپ ٹاؤن جائیں
🏜️ اگر آپ کو قدیم تہذیبیں پسند ہیں، تو اردن جائیں
🎨 اگر آپ کو جدید آرٹ پسند ہے، تو برلن جائیں
🌓 اگر آپ کو ستاروں کا نظارہ پسند ہے، تو چلی جائیں
🦄 اگر آپ کو فینٹسی مقامات پسند ہیں، تو پراگ جائیں
🌉 اگر آپ کو پل پسند ہیں، تو سان فرانسسکو جائیں
🕌 اگر آپ کو مساجد پسند ہیں، تو ابوظہبی جائیں
🚵 اگر آپ کو ماؤنٹین بائیکنگ پسند ہے، تو کینیڈا جائیں
🦋 اگر آپ کو تتلیوں کے باغات پسند ہیں، تو سنگاپور جائیں
🌺 اگر آپ کو پھول پسند ہیں، تو ایمسٹرڈیم جائیں
🍔 اگر آپ کو فاسٹ فوڈ کلچر پسند ہے، تو نیویارک جائیں
🐬 اگر آپ کو سمندری زندگی پسند ہے، تو ہوائی جائیں
🏞️ اگر آپ کو وادیاں پسند ہیں، تو ایریزونا جائیں
🎻 اگر آپ کو کلاسیکل موسیقی پسند ہے، تو ویانا جائیں
اس وقت پی ٹی آئی کے اس سونگ نے دھوم مچائی ہوئی ہے،ویڈیو آڈیو اور میوزک اے آئی ہے لیکن یہ لکھا کس نے ہے؟ گانے کا نام ہے "یہ لازمی ہے سوال ہوگا جواب ہوگا کبھی تو پورا خواب ہوگا"
کس نے لکھا ہے یہ؟
اس شخص نے یہ مشق کر کے ہزاروں لوگوں کے ہارٹ بلاک کو دور کر دیا۔ اب یہ ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں کی کمر درد کی شکایت بھی 7 دن میں دور ہوگئی۔ اس ورزش سے آسان کوئی اور ورزش نہیں ہو سکتی جس کے کوئی مضر اثرات نہ ہوں۔
پرسنالٹی گرومنگ (Personality Grooming) کی 15 بے رحم اور تلخ حقیقتیں۔
اگر آپ اپنی شخصیت کو واقعی نکھارنا چاہتے ہیں، تو ان میٹھی گولیوں کے بجائے ان کڑوی گولیوں کو نگل لیں۔
۱۔ بدبو دار وجود کی کوئی عزت نہیں
سب سے پہلے نہانا سیکھیں۔ مہنگے کپڑے اور گھڑی پہننے کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ کے منہ سے بدبو آ رہی ہے یا بغلوں سے پسینے کی بو اٹھ رہی ہے۔ لوگ آپ کے کردار تک پہنچنے سے پہلے آپ کی بو سے بھاگ جائیں گے۔ ڈیوڈرینٹ اور ماؤتھ واش آپشن نہیں، مجبوری ہیں۔
۲۔ خیمہ پہننا بند کریں (فٹنگ)
ڈھیلے ڈھالے کپڑے پہن کر آپ ”شریف“ نہیں، بلکہ ”لاپرواہ“ اور ”بے ڈھنگے“ لگتے ہیں۔ درزی کو کپڑا دیتے وقت اسے کہیں کہ کپڑے آپ کے جسم کے مطابق سیے، نہ کہ کسی ہینگر کے لیے۔ کپڑے سستے ہوں کوئی مسئلہ نہیں، لیکن اگر فٹنگ ٹھیک نہیں، تو آپ کی شخصیت صفر ہے۔
۳۔ ریڑھ کی ہڈی سیدھی رکھیں
کندھے جھکا کر اور پاؤں گھسیٹ کر چلنا بند کریں۔ یہ شکست خوردہ لوگوں کی نشانی ہے۔ سینہ تان کر، سر اٹھا کر اور نظریں ملا کر چلیں۔ آپ کی چال بتاتی ہے کہ آپ لیڈر ہیں یا فالوور۔
۴۔ منہ بند رکھیں (کم بولیں)
ہر موضوع پر رائے دینا ضروری نہیں ہوتا۔ جہاں ضرورت نہ ہو وہاں خاموش رہیں۔ زیادہ بولنے والا انسان اپنی عزت اور وقار کھو دیتا ہے۔ جب آپ کم بولتے ہیں، تو لوگ آپ کو سننے کے لیے ترستے ہیں۔ احمق بول کر اپنا بھرم کھول دیتا ہے۔
۵۔ گالی گلوچ، کمزور دماغ کی نشانی
بات بات پر گالی دینا ”کول“ نہیں، بلکہ ”ذہنی پسماندگی“ ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے اور آپ جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے۔ اپنی زبان کو لگام دیں، ورنہ لوگ آپ کو سڑک چھاپ سمجھیں گے۔
۶۔ روتی صورت مت بنائیں
دنیا کو آپ کے دکھوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہر وقت اپنی مجبوریوں اور بیماریوں کا رونا رو کر ہمدردی سمیٹنا بند کریں۔ مظلومیت (Victim Mentality) آپ کی شخصیت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔ مسکرائیں اور مسائل کا سامنا کریں۔
۷۔ کھانے کے آداب (جانور مت بنیں)
کھانا کھاتے وقت چبانے کی آواز نکالنا، منہ کھول کر کھانا یا پلیٹ میں پہاڑ بنا لینا بدتہذیبی کی انتہا ہے۔ اگر آپ ٹیبل مینرز نہیں جانتے، تو آپ کبھی بھی ایلیٹ کلاس یا پڑھے لکھے لوگوں میں نہیں بیٹھ سکتے۔
۸۔ موبائل کو جیب میں رکھیں
جب کسی سے بات کر رہے ہوں اور بار بار فون کی اسکرین دیکھیں، تو یہ اگلے بندے کی تذلیل ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ کی توجہ کا دورانیہ (Attention Span) ایک مچھر جتنا ہے۔ جس سے مل رہے ہیں، اسے پوری توجہ دیں ورنہ مت ملیں۔
۹۔ جوتے آپ کی اوقات بتاتے ہیں
لوگ چہرہ بعد میں دیکھتے ہیں، جوتے پہلے دیکھتے ہیں۔ ہزاروں کا سوٹ پہن لیں لیکن اگر جوتے گندے یا پھٹے ہوئے ہیں، تو سارا تاثر برباد۔ جوتوں کی صفائی آپ کی باریک بینی کا ثبوت ہے۔
۱۰۔ ناخن تراشیں
بڑھے ہوئے اور میلے ناخن صرف بیماری نہیں پھیلاتے، بلکہ یہ بتاتے ہیں کہ آپ ذاتی صفائی میں کتنے سست ہیں۔ یہ چھوٹی سی چیز آپ کی پوری گرومنگ پر پانی پھیر سکتی ہے۔
۱۱۔ ”میں“ سے باہر نکلیں
گفتگو میں ہر وقت ”میں نے یہ کیا، میں وہ ہوں“ کرنا بند کریں۔ نرگسیت (Narcissism) دوسروں کو آپ سے دور کر دیتی ہے۔ دوسروں کی بات سنیں اور ان میں دلچسپی لیں۔ خود پرستی کا بت توڑ دیں۔
۱۲۔ توند کم کریں
باہر نکلا ہوا پیٹ دولت کی نہیں، بیماری اور بے ضبطگی کی نشانی ہے۔ اگر آپ اپنے جسم کو کنٹرول نہیں کر سکتے، تو آپ زندگی میں کچھ کنٹرول نہیں کر سکتے۔ فٹنس صرف صحت نہیں، بلکہ ایک ”اسٹیٹمنٹ“ ہے کہ آپ محنتی ہیں۔
۱۳۔ وعدہ خلافی چھوڑ دیں
اگر آپ وقت پر نہیں پہنچ سکتے، تو آپ کی زبان کی کوئی قیمت نہیں۔ ”ٹریفک جام تھا“ کا بہانہ بنانا بند کریں۔ وقت کی پابندی نہ کرنا دراصل دوسروں کے وقت کی چوری ہے۔
۱۴۔ مطالعہ کریں، ورنہ دماغ سکڑ جائے گا
اگر آپ کے پاس ڈگری کے علاوہ کوئی علم نہیں، تو آپ ایک بورنگ انسان ہیں۔ حالات حاضرہ، تاریخ اور نفسیات پڑھیں۔ خالی دماغ کے ساتھ اچھی ڈریسنگ بھی آپ کو صرف ایک ”پتلا“ بناتی ہے۔
۱۵۔ ”ناں“ کہنا سیکھیں
ہر کسی کے لیے دستیاب رہنا بند کریں۔ جو ہر کسی کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ آخر میں خود ذلیل ہوتا ہے۔ اپنی حدود (Boundaries) مقرر کریں اور فضول کاموں کو سختی سے ”ناں“ کہیں۔
شخصیت بازار سے خریدی گئی کریموں سے نہیں، بلکہ ڈسپلن، صفائی اور شعور سے بنتی ہے۔ شیشے میں دیکھیں اور خود کو ٹھیک کریں، اس سے پہلے کہ دنیا آپ کو مسترد کر دے۔
#
جاوید_تیموری