ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے کہ ایا ہمیں جشن آزادی یعنی 14 اگست منانا چاھئیے یا نہیں ؟
میرا اپنا ذاتی خیال ہے لازمی نہیں کہ ہر کسی نے متفق ہونا ہوگا جشن کا مطلب خوشی ( celebration ) اور آزادی کا مطلب تو ہم سب جانتے ہے تو کیا ہم آزاد ہے کہ ہم جشن منائے
میرا خیال ہے کہ بالکل نہیں کیونکہ ہمیں ملک تو ملا ہے لیکن آزادی نہیں ملی آئین قانون تو ہے لیکن عمل در آمد نہیں طاقتوار کیلئے ایک جب کہ غریب کیلئے دوسرا قانون ہے اور اب تو خان صاحب اس کے پرخچے اُڑا دئے چاھے وہ عدلیہ ہو ، اسٹیبشلنٹ ہو ، بیوروکریسی ہو ، فوج ہو ، الیکشن کمیشن اور نام نہاد جمہوری سیاسی جماعتیں ہو سب کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے
عوامی نیشنل پارٹی کے بانی خان عبدالغفار خان ( باچا خان ) کہتے ہے کہ ہمیں ملک ملا ہے لیکن ہم آزاد نہیں ہے اور اس نے پاکستان میں دفن ہونا بھی پسند نہیں کیا اس نے وصیت کی تھی کہ مجھے آزاد ملک افغانستان میں دفنایا جائے اور ایسے ہی ہوا اس کا مقبرہ افغانستان میں ہے تو اسے غدار ڈکلئیر کر دیا گیا کہ یہ پاکستان کا مخالف ہے غدار ہے اج اس کی باتیں سچ ثابت ہو رہی ہے
مجھے اظہار رائے کی آزادی نہیں ہے میں پر امن احتجاج نہیں کر سکتا اگر پر امن احتجاج کروں تو ڈی سی کے ذریعے میرا نام 3mpo میں ڈال کر پولیس کے ذریعے گرفتار کیا جاتا ہے اگر میں ہاتھ نہیں اتا تو نا میرا گھر محفوظ اور نا میرے گھر کہ افراد یا رشتہ دار محفوظ نہیں ہے اور خود آئین کے روند کر 90 دن میں الیکشن نہیں کروائے رہے جس پر ارٹیکل 6 لاگو ہوتا ہے جس کی سزا سزائے موت ہے کچھ نہیں ہوتا اور میں احتجاج کروں تو ایف آئی آر کاٹ دی جاتی ہے ملک کے مقبول ترین لیڈر کے فالوور پوری دنیا میں آباد میں ہے پر قاتلانہ حملہ ہو جاتا ہے وہ اپنی مرضی کا ایف آئی آر نہیں کروا سکتا اور اس کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ اس نے Absolutely not کہا تھا یہ میرا ملک ہے اس کے فیصلے یہاں ہونگے ہم پر کوئی دوسرا ملک اپنے فیصلے مسلط نہیں کر سکتا ہم امن چاھتے ہے کسی دوسرے ملک کے جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے یہ سب سے بڑا گناہ ہے ملک کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ آرڈر دیتی ہے کہ 14 مئی کو پنجاب میں الیکشن کراؤ اس کے آرڈر کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے اور جب ان کا اپنا مفاد ہو تو یہی عدالت رات کے12 بجے پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر کے آرڈر کو کالعدم کرتی ہے اور من عن اس پر عمل کیا جاتا ہے یہ سب کچھ کون کروا رہا ہے پوری قوم بخوبی جانتی ہے اور ہر ایک کے زبان پر ہے کہ یہ جو نا معلوم ہے یہ ہمیں معلوم ہے لیکن ڈر کے مارے کھل کر بات نہیں کرتے لیکن علم سب کو ہے
الغرض کیا اس طرح ہمیں غلام رکھ ہم آزادی کا جشن منا سکتے ہے جہاں آئین قانون تو ہے لیکن عمل در آمد نہیں ہے مجھے ایک الگ ملک تو دیا گیا ہے لیکن میں فیصلے کرنے میں آزاد اور مختیار نہیں ہوں اس لئے میں 14 اگست کو آزادی کا جشن نہیں منا سکتا بلکہ میں عہد کرتا ہوں کہ جو جدوجہد آزادی کی تحریک خان صاحب اس ملک کیلئے شروع کیا ہے اس جدوجہد کا حصہ بنونگا اور وقت تک جدوجہد کرونگا جب تک میرا ملک پاکستان حقیقی معنوں آزاد اور خود مختیار نہیں ہوتا آئین اور قانون اپنی اصل شکل میں بحال نہیں ہوتا میرے ملک کے فیصلے ملک کے اندر نہیں ہوتے کیونکہ یہ میرا ملک ہے اور میں اس کا مالک ہوں پاکستان میرا ملک تھا ہے اور رہے گا ان شاءاللہ ۔۔
نوٹ : اپنی پکچر دینے کا مقصد میرے سینے پر سجا سبز ہلالی پرچم جو ہر وقت میرے سینے پر سجا رہتا ہے جس سے مجھے بے حد پیار اور محبت ہے پاکستان تھا ہے اور تاقیامت رہے گا ان شاءاللہ ۔۔
سندھ کے حالات سمجھنے کے لیے یہ ویڈیو دیکھنا ضروری ہے،آنے والی صدیوں میں یہ ویڈیو یورنیورسٹیوں میں کیس سٹڈی کے طور پر دیکھائی جائے گی۔سندھ کا حال اور حکمرانوں کے شوق۔کیا کسی آسودہ حقیقی جمہوریت میں بھی کوئی جمہوری لیڈر عوام کے سامنے اپنی دولت کی ایسی برہنہ نمائش کی جرت کرسکتا ہے۔