یہ علاج پاکستانی ڈاکٹرز کیوں نہیں ��تاتے ؟
پہلی بات کیونکہ پاکستان میں 100 میں سے 50 پرسنٹ ڈاکٹرز سرے سے ھوتے ھی نہیں ھیں اور جو ڈاکٹرز ھوتے ھیں یا تو انکو یہ علاج معلوم ھی نہیں یا وہ یہ علاج اسلیے نہیں بتاتے کیوں۔۔۔
"پنجاب چلا گیا ان کے پاس، آدھا پنجابی کلچر ہے پاکستان میں،انڈیا میں شاید ہی ایسا کوئی کلچر ہوگا جو پنجابی کلچر سے کمپیٹ کرسکتا ہے،کیا نہیں ہے پنجابی کلچر کے پاس؟ سب کچھ ہے،اپنی ہسٹری ہے، ڈانس ہے، میوزک ہے، کھانا ہے، لٹریچر ہے، سب کچھ تو ہے ان کے پاس، تو کیا کمی رہ جاتی ہے پاکستان کے پاس؟ کچھ بھی نہیں،اس کے علاوہ پاکستانیوں نے کیا کیا؟ اردو اپنا لی،آج اردو کو فارن لینگویج دیکھا جاتا ہے، پاکستانیوں کی لینگویج دیکھا جاتا ہے"
Israeli soldiers beat a Palestinian teenager in the West Bank until he fainted amidst his mother's screams for help. 🇵🇸💔
Don't normalize this,
Don't stop sharing this.
وہ ایک ننھا پرندہ ہے جس نے ہر زخم کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔ لوگوں نے اس کے ہاتھ پاؤں تو چھین لیے، مگر اس کے چہرے کی وہ خوبصورت مسکراہٹ نہیں چھین سکے جو زندگی کی امید اور حوصلے سے بھرپور ہے۔❤️
Filistin'de bir Ortodoks Yahudi:
"Osmanlı İmparatorluğu döneminde Filistinliler bizim en iyi komşularımızdı; birlikte huzur içinde yaşardık, yemek pişirirdik.
Siyonizm bu barışı yok etti."
🚨🇺🇸 USA ALERTS ISRAEL AFTER CEASEFIRE BREAk
JD Vance warns Netanyahu:
“Don’t play games with us — you risk losing everything. Trump is your last ally, the whole world already hates you.” 🇮🇱
🚨BREAKING : Israeli forces killed child Julia Khaled Dawoud Al-Balawi in Gaza.
Another child added to the long list of young victims of the Israeli genocide.
Do you know why this little girl is crying?
Israel killed her entire family in Gaza, leaving her alone.
Her tears are a testimony to a crime the world chose to watch in silence.
اگلے مہینے لے لوں گی بیٹا… ابھی پیسے نہیں ہیں۔ 🥹
میرا نام رفیق ہے۔
عمر اڑسٹھ برس۔
میں پچھلے پچیس سال سے ایک ہی کام کر رہا ہوں—گھر گھر جا کر گیس کے سلنڈر اور تیل پہنچانا۔
ایک ہی راستہ، ایک ہی گلیاں، ایک ہی دروازے… اور وہی لوگ، جن کے چہروں کی جھریاں بھی اب مجھے یاد ہو چکی ہیں۔
سردی ہمارے ہاں بھی کوئی مذاق نہیں۔
یہ وہ موسم ہے جہاں امیر کے گھر میں ہیٹر چلتا ہے… اور غریب کے گھر میں سانس بھی دھواں چھوڑتی ہے۔
میں جان جاتا ہوں… کون واقعی آرڈر کر رہا ہے، اور کون مجبوری میں ٹال رہا ہے۔
جیسے وہ بوڑھی اماں… صغرا بی بی۔
پہلے ہر مہینے سلنڈر منگواتی تھیں۔
پھر دو مہینے ہو گئے۔
پھر تین۔
ایک دن میں نے دیکھا، ان کے کمرے کی کھڑکی کے شیشے کے اندر دھند جمی ہوئی تھی۔
یہ دھند نہیں ہوتی… یہ سردی کی چُبھن ہوتی ہے۔
میں نے دروازہ کھٹکھٹایا۔
اندر سے ہلکی سی آواز آئی:
“کون؟”
“میں ہوں، رفیق۔ اماں، سلنڈر ختم ہو گیا لگتا ہے۔”
دروازہ آدھا کھلا۔
اندر کی ٹھنڈ باہر سے زیادہ کاٹ رہی تھی۔
انہوں نے شال کو اور مضبوطی سے لپیٹا۔
“اگلے مہینے لے لوں گی بیٹا… ابھی پیسے نہیں ہیں۔”
میں نے سیدھا جواب دیا:
“اماں، اگلا مہینہ آپ کا انتظار نہیں کرے گا۔ سردی پہلے آ جائے گی۔”
وہ مسکرائیں… وہی مجبور سی مسکراہٹ جو غربت اکثر چہرے پر سجا دیتی ہے۔
“میں گزارا کر لوں گی۔”
گزارا…
یہ لفظ غریب کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتا ہے۔
میں نے کچھ نہیں کہا۔
بس واپس مڑا، گاڑی سے سلنڈر اتارا… اور اندر رکھ دیا۔
انہوں نے پیچھے سے آواز دی:
“بیٹا! پیسے؟”
میں نے ہاتھ ہلا دیا۔
“جب ہو جائیں تو دے دینا… یا نہ بھی دو تو کوئی بات نہیں۔”
اگلے دن وہ رو رہی تھیں۔
دکان پر فون آیا۔
“رفیق بیٹا… میں یہ پیسے نہیں دے سکوں گی۔”
میں نے ہنستے ہوئے کہا:
“اماں، آپ نے مجھے کبھی خالی دعا دی ہے؟ وہی کافی ہے۔”
اس دن کے بعد مجھے ایک عادت سی پڑ گئی۔
جہاں لگا کہ کوئی آدمی ٹال رہا ہے… میں خود ہی دے آتا۔
کبھی کہہ دیتا “آدھا ڈالا ہے”
کبھی لکھ دیتا “چیکنگ کے لیے آیا تھا”
مالک نے کبھی حساب کی باریکی نہیں دیکھی۔
اور میں نے کبھی کسی کے چولہے کی سردی برداشت ��ہیں کی۔
اس ایک سردی میں شاید میں نے اپنے جیب سے ہزاروں روپے لگا دیے۔
کمیشن گیا۔
بچت گئی۔
مگر ایک چیز بچ گئی…
لوگوں کے گھروں کی گرمی۔
مارچ کے آخر میں صغرا بی بی آئیں۔
ہاتھ میں کچھ پیسے تھے۔
“بیٹا، یہ لے لو۔ ��یں کسی کی مقروض نہیں رہنا چاہتی۔”
میں نے کہا:
“اماں، رکھ لیں۔ آپ کو زیادہ ضرورت ہے۔”
انہوں نے ضد کی۔
پھر آہستہ سے تین ہزار میرے ہاتھ میں رکھ دیے۔
“یہ اگلے کسی کے کام آئیں گے۔”
وہ دن… شاید میری زندگی کا موڑ تھا۔
میں نے وہ پیسے اپنی جیب میں نہیں رکھے۔
میں نے انہیں اپنی گاڑی کے ایک ڈبے میں رکھ دیا۔
اور دل میں ایک نیا حساب کھول لیا۔
جسے ضرورت ہو، اسے دے دو۔
جو واپس کرے، وہ اسی ڈبے میں ڈال دو۔
یوں ایک چھوٹا سا سلسلہ شروع ہو گیا۔
آج اس ڈبے میں کافی رقم رہتی ہے۔
کبھی کوئی مزدور آ جاتا ہے، کہتا ہے:
“بھائی، بچوں کو سردی لگ رہی ہے…”
میں خاموشی سے سلنڈر رکھ آتا ہوں۔
ک��ھی کوئی بوڑھا کہتا ہے:
“مہینے کے آخر میں دوں گا…”
میں کہتا ہوں:
“آپ مہینہ دیکھیں، میں سردی دیکھتا ہوں۔”
اب سننے میں آتا ہے کہ دوسرے ڈرائیور بھی یہی کرنے لگے ہیں۔
کوئی اپنے طور پر، کوئی چھپ کر۔
شاید نیکی بھی پھیلتی ہے… بس آواز نہیں کرتی۔
میں اڑسٹھ سال کا ہوں۔
اب بھی سردیوں میں گاڑی چلاتا ہوں، دھند میں، بارش میں، ٹھنڈی ہواؤں میں۔
لوگ کہتے ہیں:
“اب چھوڑ دو کام، آرام کرو۔”
مگر میں جانتا ہوں…
یہ کام صرف روزی کا نہیں رہا۔
یہ اب ایک ذمہ داری بن گیا ہے۔
میں نے زندگی سے ایک بات سیکھی ہے:
گرمی نعمت نہیں… ضرورت ہے۔
اور کوئی ماں، کوئی دادی، کوئی بچہ… صرف اس لیے نہ کانپے کہ اس کی جیب خالی ہے۔
سردی کو پرواہ نہیں ہوتی کہ تمہارے پاس پیسے ہیں یا نہیں۔
مگر ہمیں ہونی چاہیے۔
اگر تم کسی کا چولہا جلا سکتے ہو… تو دیر مت کرو۔
کیونکہ بعض اوقات…
انسان روٹی سے پہلے حرارت کا محتاج ہوتا ہے۔
We are still alive in Gaza… 🥹🇵🇸
Despite everything, we are still trying to hold on.
If you see this photo, please don’t scroll past in silence.
Write anything — even a single dot means so much to us and reminds us that we are not alone. 🥹💔🙏
https://t.co/GgJnyqqCPa…
جب سے پاکستان کے جے ایف17 سعودی عرب پہنچے ہیں، سعودی عر�� بھی اسرائیل کو انکھیں دیکھانے لگ گیا ہے،
ورنہ امریکا کے دباؤ پر اسرائیل کے لئے نرمی اور تجارت کی باتیں ہوتی تھی۔
تازہ بیان،
اسرائیل غزہ والوں کو بھوکا مار کر، بمباری کر کے کہتے ہو ،"وہ خود چلے جائیں گے"،
شہزادہ فیصل بن فرحان
سعودی عرب غزہ باسیوں کو انکی زمین سے نکالنے اور انکو بھوکا پیاسا مارنے کو مسترد کرتا ہے
دو ٹوک بیان