ایک عام سا شہری ہوں۔عام سا انسان ہوں۔ اسلام آباد میں رہتا ہوں۔۔ کتابیں پڑھنا اور بولنا سب سے محبوب مشغلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ سوشل ورک کرتا ہوں۔۔تعلیم میرا جنون ہے۔۔
اسد علی طور 🔥🔥🔥
جموں کشمیر میں JAAC کی موومنٹ کو کالعدم قرار دیکر بہت خطرناک کام کیا گیا ہے۔ یہ پاکستان میں ایک نیا پیٹرن آیا ہے ہر وہ شخص جماعت یا تحریک جو عوام میں مقبول ہو اسکو کالعدم قرار دے دیا جاتا ہے انکو غدار اور ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ 27 جولائی کو الیکشن ہیں انکا مطالبہ تھا کہ مخصوص نشستیں جو 12 ہیں انکو ختم کیا جائے کہ کیوں 4 صوبوں سے لوگ 100 100 ووٹ لیکر یہاں کےممبر بن جاتے ہیں اور وہ ٹاوٹ بن کر حکومت گرانے یا بنانے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسکے خلاف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے 9 جون کو اب انکے مارچ کو روکنے کے لیے 16 ہزار پولیس والے ملک کے مختلف صوبوں سے وہاں بھیجے جا رہے ہیں ۔ یہ سب تو انڈیا کرتا یے مقبوضہ کشمیر میں تو ہم کیا کر رہے ہیں؟ یہ تو بہت خطرناک ہے۔ پالیسی ساز کو نہی پتہ چلتا کہ وہ تو چلا جائے گا لیکن اسکا خمیازہ قوم آئندہ کئی سال بھگتتی رہے گی۔
#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان
آزاد کشمیر میں جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اگر غدار تھی تو پچھلے سال پوری وفاقی حکومت نے اس کے ساتھ معاہدہ کیوں کیا ؟ معاہدے کے نکات پر 3 ماہ میں عمل کا وعدہ کیا مگر 8 ماہ تک ان پر عملدرآمد نہ کیا گیا ۔ کمیٹی نے احتجاج کا الٹی میٹم دیا تو اسے دھشتگرد قرار دے دیا ۔ جس افلاطون نے اس کمیٹی کو دھشتگرد قرار دینے کا فیصلہ کیا اس نے کشمیریوں کے دل میں ہمارے لیے نفرت کا بیج بویا ہے۔ اس کا فوری عوامی خواہشات کے مطابق سدباب کریں یا پھر ایک طویل سردردی کے لیے تیار رہیں
اس تمغہ امتیاز والے وزیر کی دیدہ دلیری چیک کر لیں اب تو باقاعدہ شرم و حیا اتار کر فرعون بن گے ہیں کہہ رہے کہ جس مہینے میں آپ بجلی کم استعمال کریں گے اس میں فکسڈ کاسٹ زیادہ لگے گی یعنی آپ بجلی استعمال کریں نا کریں بل آپ کو دینا ہے
ہے نا بدمعاشی ؟
چونکہ بند بجلی گھروں کا خرچہ بھی حکومت نے دینا ہے اس لیے شہباز شریف حکومت کا اعلان ہے
بجلی استعمال کریں نا کریں بل آپ کو پورا دینا ہو گا اب بات استعمال شدہ یونٹ کی نہی رہ گئ ہے
ہنی ٹریپ سوشل میڈیا پر عام چلن ہے مجھے پہلی بار حقیقی طور پر سڑک کنارے بھی تجربہ ہو گیا ہے۔ دو دن قبل میں فیلڈ ورک بھگتا کر لگ بھگ شام چار بجے غازی روڈ ڈی ایچ اے کے کنارے گاڑی لگائے ایک ریڑھی والے سے چاٹی کی لسی منگوا کر پی رہا تھا اور گاڑی میں بیٹھا موبائل چیک کر رہا تھا۔ پیاس لگی ہوئی تھی۔ میٹھے مشروبات میں پیتا نہیں اور چاٹی کی لسی پر نظر پڑی تو سوچا ٹرائی کیا جائے۔ میں موبائل پر ای میلز کے جواب میں بزی تھا کہ اچانک شیشے پر دستک ہوئی۔ میں نے چونک کر دیکھا تو چوبیس پچیس سال کی لڑکی ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ پکڑے اور ویل ڈریس ہوئے پورے میک اپ میں کھڑی تھی۔
شیشہ ڈاؤن کیا تو بولی “ سوری، لیکن کیا آپ مجھے آگے کسی چوک میں ڈراپ کر دیں گے ؟۔ کافی دیر سے ان ڈرائیو کے انتظار میں کھڑی ہوں گاڑی نہیں آ رہی اور رکشہ نہیں مل رہا۔ آپ مجھے آگے کسی چوک میں رکشے والے کے پاس ڈراپ کر دیں پلیز۔ شکل سے آپ ڈیسنٹ لگ رہے ہیں اس لیے ریکوئسٹ کی ہے۔” میں نے اسے غور سے دیکھا بظاہر وہ اپر مڈل کلاس کے حلیے میں تھی۔ ڈریسنگ اچھی تھی۔ میک اپ پراپر تھا اور لگ رہا تھا وہ کسی کے ہاں دعوت پر جا رہی ہے۔ ہاتھ میں پھولوں کا گلدستہ تھا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کرنا مناسب ہو گا۔ اجنبیوں کو میں راہ چلتے لفٹ دینے کے حق میں نہیں میرے ایک دو تجربات اچھے نہیں رہے۔ اس نے دیکھا کہ میں جواب نہیں دے پا رہا تو سوری کہہ کر دو قدم پیچھے ہٹ کر یوں کھڑی ہو گئی جیسے پریشان ہو۔
میں نے پھر سوچا کہ حال حلیے سے ڈیسنٹ لگ رہی ہے لوگوں کی مجبوری بن جاتی ہے، اگلے چوک تک کی ہی تو بات ہے اسے کسی رکشے والے کے پاس اتار دیتا ہوں۔ میں نے اسے کہا چلیں بیٹھ جائیں آپ کو کسی رکشے والے کے پاس ڈراپ کرتا ہوں۔ وہ فوراً تھینک یو کہہ کر آئی اور فوراً اگلی سیٹ پر آ بیٹھی۔ عموماً ایسا ہوتا نہیں۔ خواتین کو اگر باامر مجبوری کسی اجنبی سے لفٹ لینا پڑ بھی جائے تو وہ پیچھے بیٹھیں گی اس کے برابر والی پسنجر سیٹ پر تو ہرگز نہیں۔ خیر، میں نے یہ بات نوٹ کی اور گاڑی چلا دی۔ گاڑی چلتے ہی بولی آپ کا بہت شکریہ بس کسی ایسے چوک میں ڈراپ کریں جہاں رکشے کھڑے ہوں۔ میں نے پھر کہا کہ جی ہاں وہی دیکھ رہا ہوں۔ اور میں واقعی راہ چلتے رکشے ڈھونڈ رہا تھا۔
پھر ایک منٹ گزرا اور بولی“ آپ کو کیا بتاؤں کوئی ایسے کسی سے لفٹ تو نہیں لیتی ناں، مجھے اپنی سب سے پکی دوست کی طرف جانا ہے گلبرگ میں اور لیٹ ہو رہی ہوں۔ کچھ مل نہیں رہا تھا تو گھبرا کر آپ سے ریکوئسٹ کر دی۔ آپ چاہیں تو مجھ سے اماؤنٹ لے لیں”۔ یہ کہہ کر اس نے پرس کھولا۔ میں نے یہ دیکھ کر کہا مِس پیسوں کی بات نہیں، آپ کو اتارتا ہوں دو منٹ میں وہاں سے رکشہ مل جائے گا۔”
اتنی دیر میں چوک آ گیا جہاں بہت سے رکشے آ جا رہے تھے۔ میں نے بریک لگا دی۔ اترتے ہوئے بولی“ سو سو مچ تھینکس، بلیو می آپ بہت اچھے انسان ہیں۔ آجکل کسی پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر مائنڈ نہ کریں تو ہم رابطے میں رہ سکتےہیں۔ آپ مجھے بہت سنجیدہ سے لگے ہیں۔ میرے ٹیچر بھی ایک آپ جیسے تھے۔ میں ایم کام کی سٹوڈنٹ ہوں۔”۔ اب یہ دوسرا الارم تھا کہ وہ مجھ سے فون نمبر مانگ رہی ہے اور مجھے ایکدم کلئیر ہو چکا تھا کہ یہ ہنی ٹریپ ہے۔ اس ٹریپ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے میں نے اپنا واٹس ایپ نمبر دے دیا کہ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ اس نے موبائل میں نوٹ کیا۔ موبائل بھی اس نے سیمسنگ گلیکسی ایس 25 رکھا ہوا تھا۔ وہ اتری اور چلی گئی۔ میں نے گاڑی چلاتے بیک مرر سے ضرور دیکھا کہ کسی رکشے والے سے بات کر رہی ہے یا نہیں۔ وہ ایک رکشے کے اندر بیٹھ گئی تھی۔
باقی راہ میں یہی سوچ کر ہنستا آیا کہ کیا کیا آئیٹمز کیسے کیسے شکار گھیرتی ہیں۔ انعام رانا کو کال ملائی۔ اسے سارا واقعہ سنایا۔ رانا بولا کہ ہاں یہ ہنی ٹریپ ہے ذرا دھیان سے رہنا۔ ہو سکتا تو ٹارگٹ نہ ہو وہ تجھے بالکل نہ جانتی ہو۔ اس کا طریقہ واردات ہی یہ ہو گا کہ مہنگی گاڑی والے کسی کو دیکھ کر اپروچ کرنا۔ یہ میں آپ کو بتا دوں کہ حال حلیہ واقعی اپر مڈل کلاس کا تھا۔ یعنی کوئی بھی عام انسان ٹریپ ہو سکتا ہے۔ اب میں اس انتظار میں رہا کہ یہ خود رابطہ کرے گی۔ پرسوں شام سات بجے کے پاس پاس میسج آیا “
کیا کر رہے ہیں آپ؟
فری ہیں تو ڈی ایچ اے فیز تھری زی بلاک والے گلوریا جینز آ جائیں۔”
اب ظاہر ہے مجھے مزید کسی الجھن میں نہیں پڑنا تھا۔ اس کو جواب دیا کہ سوری آپ کا میسج نہ آئے اور بلاک کر دیا۔ دو گھنٹے بعد ایک اور نمبر سے میسج آیا “ آپ تو ڈر ہی گئے۔ چلیں آپ کی مرضی”۔ میں نے اسے بھی بلاک کر دیا۔
یہ آج کچھ فرصت ملی تو سوچا آپ لوگوں کو آگاہ کروں کہ ذرا آپ بھی دماغ کی بتی جلا کر رہا کریں اور لاہور کی سڑکوں پر کوئی لڑکی یا خاتون ایسے اپروچ کرے تو یہ ہرگز نہ سمجھ لیجئے گا کہ آپ شہزادہ سلیم ہیں اور وہ انار کلی😂منقول
ملک کے عوام کا جو حصہ زکوٰۃ کا مستحق اور حق دار ہے حکومت اس سے بھی ہر لیٹر پٹرول پر 117 روپے لیوی وصول کررہی ہے۔ یہ ظلم کی انتہا ہے کہ جن لوگوں کے لیے آج محدود تنخواہ میں اپنا ماہانہ خرچ پورا کرنا ناممکن ہوگیا ہے ان سے اذیت ناک اندازہ میں ٹیکس وصولی کی جارہی ہے۔ صرف رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں 1200 ارب روپے سے زائد لیوی وصول کی جاچکی ہے جب کہ 30 جون تک یہ ظالمانہ وصولیاں 1700 ارب روپے پہنچنے کا امکان ہے۔ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت کو آئینی حدود سے متجاوز اس لیوی کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔
🚨ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے،
انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا کوئی ایک راہنماء بھی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا
مشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے،
حب شریفین میں اتنے مست تھے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجھکتے
انکی وفات پر چند تعزیتی پیغام آئے اور وہ ہمیشہ کےلئے یادوں سے فراموش کردیئے گئے۔
عرفان صدیقی کاتب شریفین رہے،
نواز شریف نے اپنے کل سیاسی کریئر میں جتنے بھی جملے ادا کئے ان میں سے 60 فیصد عرفان کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے،
وہ بے دام غلام تھے
جو آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے یہاں تک کے وفات ہوگئی مگر پارلمان کا سیشن اہم تھا، انکو بیمار ہی بتایا جاتا رہا
ناں تو نواز شریف نا ہی شہباز شریف نے ان کے جنازے میں شرکت کی حتی کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا
ان تین تصویروں میں ایک پیغام مشترک ہےآپ تب تک اہم ہیں جب تک ضرورت ہیں
غلام ابن غلام 🔥🔥💯
کاش کہ جناب وزیراعظم صاحب ان غریبوں کے خلاف سی ڈی اے کے ایکشن کو روکنے کے لئے بھی کوئی کمیٹی بناتے ون کانسٹی ٹیوشن میں ہمارے کئی دوست رہتے ہیں اور ہماری وہاں کے رہائشیوں سے کوئی دشمنی نہیں لیکن یہ رپورٹ دیکھ کر ایسا لگا کہ اسلام آباد میں دو قانون چلتے ہیں ایک قانون غریبوں کے لئے اور دوسرا امیروں کے لئے ہے
اسلام آباد پولیس نے شہری کو ترنول پھاٹک کو آبنائے ہرمز سے تشبیہ دینے پر گرفتار کرلیا۔شہری ملکی مفاد میں راستوں کی بندش برداشت کررہے ہیں توان کی تکلیف کوبھی سمجھاجائے۔مزاحیہ پوسٹ پربھی گرفتاری پر تاثرجائے گا کہ شہری ملکی مفاد نہیں بلکہ خوف سے خاموش ہیں
کینڈا کے صوبے Ontario کے وزیر اعلیٰ ڈَگ فورڈ نے مریم نواز کی طرح اپنے لئے ایک لگژری جہاز 28.9 ملین ڈالرز میں خریدا، جیسے ہی خبر آئی تو کہرام مچ گیا۔ اپوزیشن، میڈیا اور عوام نے وزیر اعلیٰ کے بخیئے اُدھیڑ دیئے، قوم نے کہا کہ ہمارے مسائل کچھ اور ہیں لیکن تم اپنے پُر تعیش سفر کیلئے جہاز کیسے خرید سکتے ہو، کسی نے کہا کہ جیسے ہم اکانومی کلاس میں سفر کرتے ہیں تم بھی ویسے ہی کرو، کسی نے کہا کہ ہمیں تم جیسا عیاش وزیر اعلی نہیں چاہیے، کسی نے کہا کہ تم عوام کے ٹیکسوں کے پیسے پر ایک rockstar کی طرح نہیں رہ سکتے، اپوزیشن نے اس جہاز کو gravy plane کا نام دے دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ وزیر اعلی نے ڈھٹائی، ضد اور بے شرمی دکھانے کے بجائے فوری طور پر جہاز کو بیچنے کا حکم دے دیا ہے
یاد رکھیں کہ Ontario میں فی کَس آمدن 49000 ڈالرز ہے جبکہ پاکستان میں فی کَس آمدن صرف 1650 ڈالرز
کینیڈا کے صرف ایک صوبے Ontario کا GDP تقریباً 909 ارب ڈالرز ہے جبکہ پورے پاکستان کا 400 ارب ڈالرز سے بھی کم
یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان سے کئی گنا امیر صوبے Ontario کا وزیر اعلی اس جیسے کئی جہاز خرید سکتا ہے لیکن اسکی قوم نے اسے ایک پر بھی معاف نہیں کیا۔ اور ایک ہم ہیں کہ حکمرانوں کی عیاشیوں، انکے شاہانہ طرز زندگی اور قومی خزانے پر انکی ٹھاٹ باٹ کو کتنے آرام سے ہضم کر لیتے ہیں
سائرہ بانو نے پیپلز پارٹی کو آئینہ دکھا دیا۔۔یہ اسکول ہے کاغذوں میں درج ہے۔۔اس اسکول میں ٹیچرز بھی ہیں تنخواہیں بھی آتی ہیں۔بس اسکول کی حالت آپ لوگ ذرا دیکھ لیں۔۔یہ ہے سندھ کی ترقی
@Saira_Banokhan
مرتضی وہاب۔۔ میرے چھوٹے بھائی!
آج مرتضی وہاب نے میرے ٹوئٹ پر جواب دیا۔
ان کا جواب اور میری گذارشات دونوں اس وڈیو میں۔
اور محترم عبد المعز جعفری کی قانونی رائے بھی!
@Jaferii
حق دو کراچی کو!
@murtazawahab1
مرتضی وہاب۔۔ میرے چھوٹے بھائی!
آئین کا آرٹیکل ۱۹آزادئ اظہار رائے دیتا ہے ۔
آپ کو ایسی آئین سے متصادم باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔
@murtazawahab1
حق دو کراچی کو! ✋🏻
کراچی کو صاف کرو
@Dr_mfh_1972 ينبغي لأبوظبي أن تعيد النظر في الموقع الذي اختارت أن تقف فيه على مسار التاريخ. لقد كانت باكستان، على الدوام، سندًا صادقًا للدول الإسلامية والعربية، ووقفت إلى جانبها في مختلف المحطات والتحديات. غير أن أبوظبي اليوم تبدو وكأنها تمنح ثقتها للهند بدلًا من التعويل على عمقها الإسلامي.
کراچی کی ابتر حال سڑکوں،سیوریج کےزبوحال نظام اور 50 سالہ کھنڈر ٹرانسپورٹ کوسرےسے رد کرنےاور اسےاپنےخلاف پراپیگنڈہ کہنےوالوں کوکب شرم آئےگی؟
یہ اردوبازار ہے۔یہاں طالب علم و والدین کتابیں خریدنے آتےہیں۔ سامنےکالج واسپتال ہے۔کیاحال کردیاہے #PPP نے #کراچی کا؟
گورنر خیبر پختونخواہ فیصل کریم کنڈی 25 کروڑ کی شاندار رولز رائس کار میں سفر کرتے ہیں
"پاکستانی عوام کیلئے یہ ملک کوڑے سے بھرا ٹرک ھے"
غریب عوام ایک وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں. جبکہ ظالم حکمران غریب عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے عیش و عشرت کر رہے ہیں.