آواز اٹھائ��ں 🛑
خواتین میں اب صرف ڈاکٹر یاسمین راشد جیل میں ہے، یاسمین راشد کا کوئی سوشل میڈیا ٹیم نہیں اس لئے ہم سب پر فرض ہے ان کی رہائی کے لئے آواز اٹھائیں
🎉 Celebrate 1M Followers on X: 1,000,000 $ONX Giveaway
We just hit 1 million followers on X, and we’re giving away a whopping 1,000,000 $ONX to celebrate! 🎊
Just follow these 3 steps:
1. Join ONUS Tap: https://t.co/YGW6ZSen3t
2. Like & RT this post
3. Flex your $ONX balance
⏳ But hurry, the party’s only on for 7 days! Don’t miss out on scooping up huge $ONX rewards 🎁
عرصہ پہلے کہیں پڑھا تھا کہ زندگی میں کبھی نہ کبھی ایسا وقت آتا ہے جب اللہ آپ کو ہر رشتے ہر تعلق کی اصلیت دکھا کر پوچھتا ہے کہ بتا اب کون ہے تیرا میرے سوا۔ مجھے خوف آتا ہے یہ سوچتے کہ یہ وقت عمران خان کا اور بحیثیتِ قوم ہمارا وہی وقت نہ ہو۔ مگر اس بات کی تسلی بھی ہے کہ اللہ ہے۔
میں نہیں جانتا کسی نے کسی کو دھوکہ دیا یا کسی کے ساتھ دھوکہ ہوا۔ وقت سارے راز کھول دے گا۔ میں جنہیں بہت اچھے سے جانتا تھا وقت بدلنے پر ان میں سے بہت سے، بہت انجان نکلے۔۔ نیتوں کے حال فقط ایک اللہ جانتا ہے، میں کسی کے حق میں ایسا دعوی نہیں کرسکتا۔ ہاں اتنے عرصے کی رفاقت کی بنیاد پر اپنے لیڈ�� کے متعلق اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ نہ اس نے کبھی اس قوم کا سودا کیا ہے نہ کرے گا۔ وہ اپنے مجرم معاف کردے گا اپنی قوم کے مجرموں کو معاف کرنے والا ہوتا تو آج کال کوٹھری میں نہیں مسند پر ہوتا۔
۴ اکتوبر کے احتجاج سے قبل بھی خان صاحب سے ��یدان میں اترنے کی اجازت چاہی جواباً یہی معلوم ہوا کہ آپ کے حوالے سے احکامات میں کوئی ردوبدل نہیں ہے۔ مجھے سیاست میراث میں نہیں ملی، میری سیاسی بقا اپنے لوگوں کے درمیان رہنے میں ہے ان کے ساتھ کھڑے رہنے میں ہے، یہ بھی میرا ایمان ہے کہ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے، میری قوم گواہ ہے، خود کو لاحق واضح خطرات کے باجود امن مارچ، جلسوں، عمران خان کی عدالتی پیشیوں، بنی گالہ اور زمان پارک کے کیمپوں میں حاضر رہا ہوں۔ مگر اب جو حکم ہے سو ہے۔ میں اس حکم کی مصلحت سے واقف نہیں نہ ہی میں خود کو اس تحریک کے لیے لازم و ملزوم سمجھتا ہوں۔ مگر ڈسپلن میرے لیڈر سے میری وفاداری کا تقاضہ ہے۔ ��جھے جتنا بھی ناگوار ہے، لاکھ جبر سہی مگر میں اپنے عہدِ وفا کا پابند ہوں۔
اسی طرح ایک اور پابندی میں نے خود پر خود لگا رکھی ہے، پارٹی کے اندرونی معاملات پر پبلک فارمز پر بات نہ کرنے کی مگر میرا اپنی قوم سے وعدہ ہے میرا کوئی بھی اصول، کسی بھی شخص سے تعلق آپ سے اور عمران خان سے میرے تعلق سے بڑھ کر نہیں ہے۔ مجھ سے منصوب ہر شخص اس بات پر گواہ ہے کہ عمران خان کا نظریہ اور اس کی قوم میری زندگی میں ہر رشتے سے مقدم ہے۔ جس دن مجھے یہ یقین ہوگیا کہ پارٹی قیادت نے عمران خان سے غداری کی ہے آپ مجھے ہر لحاظ ہر مروت سے آزاد پائیں گے مگر اُس دن تک مجھے اور آپ کو اپنا ذہن تمام امکانات کے لیے کھلا رکھنا ہے۔ بدگمانی گھن کیطرح ہوتی ہے۔ اپنی سوچ کو بدگمانی کے سائے سے محفوظ رکھنا ہے۔ اور عین ممکن ہے یہ ہمارے خلاف بطورِ ہتھیار استعمال ہورہی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ طے شدہ حکمت عملی اور خان صاحب کی واضح ہدایات پر عملدرآمد نہیں ہوا مگر میں فی الوقت اسے غفلت گردانوں گا۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں ہم میں سے کوئی بھی عمران خان نہیں ہے، ہم عمران خان بننے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کوشش میں ہم کوتاہیوں کے مرتکب ہوں گے، ان کوتاہیوں کی قیمت کا اندازہ رکھتے ہوئے ��مہ داری کا مظاہرہ لازم ہے، مگر یہ بھی اللہ کی ہی اپنے بندوں کو دی تسلی ہے کہ کیا خبر جس چیز کو تم اپنے لیے برا سمجھو وہی تمہارے حق میں بہتر ہو۔۔
یہ بھی ممکن ہے کہ وہ ہمیں ہر سہارے، ہر بیساکھی سے آزاد ہوکر، کسی سے اپنی امیدیں وابستہ کیے بغیر اپنے بل بوتے پر لڑنا سکھا رہا ہو۔ اور لڑنا تو ہمیں ہے، بہرطور، بہ ہر صورت۔ کیونکہ یہ مسئلہ کسی اور کا نہیں ہمارا ہے۔ یہ ملک کسی اور کا نہیں ہمارا ہے تو پھر کسی سے گلہ شکوہ کیا۔ ہم اس جنگ میں نہ کسی اور کی خاطر اترے تھے نہ کسی اور کے بھروسے۔ ہمارا اور ہمارے لیڈر کا نظریہ اور رہنما صرف اللہ کی وحدانیت کا اقرار اور اس بنا پر غلامی سے انک��ر تھا، ہے اور رہے گا۔ یہی لا الہ ہمارا نظریہ اور یہی لا الہ ہماری مشعل راہ۔
میری قیادت سے بھی درخواست ہے آپ کو خان صاحب نے ڈی چوک احتجاج جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ منگل بدھ کو ملک گیر احتجاج کا پلان دے دیا تھا جس کی تحریری کاپی آفیشلی قوم کے ساتھ شئیر کرکے کال دی جائے۔ اس ضمن میں پارٹی عہدیدار متعلقہ تنظیموں، کارکنان منتخب ممبران سے رابطے کریں۔ خان صاحب کی یہ بھی ہدایت تھی کہ سوشل میڈیا پر پیغام احتجاجی تحریک کے لیے جاری ہوں لیکن عہدیدار، تنظیمیں وغیرہ انفرادی طور پر کارکنان، حلقے کے عوام اور ممبران سے رابطہ کریں۔ سو کارکن اور قیادت ہر سطح پر منظم ہوں۔ اپنا لائحہ عمل طے کریں۔ پلان کریں۔ پر امن رہیں، متحد رہیں، گرفتاریوں سے بچیں۔ گراونڈ کے علاوہ بھی سوشل میڈیا پر اپنا فوکس لامعنی بحثوں پر نہیں اپنے مقاصد پر رکھیں۔ عمران خان، بشری بی بی، دیگر قیادت اور کارکنان کی رہائ۔ آئین و قانون کی بالادستی۔ مینڈیٹ کی واپسی کے علاوہ کوئی اور بحث وقت کا زیاں ہے اور وقت اس وقت ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ وفاداری کا تقاضہ قاعدہ (ڈسپلن) ہے۔ جتنا بھی ناگوار ہو، قائم رکھنا ہے۔ کوئی اور رکھے نہ رکھے، آپ نے رکھنا ہے۔ ۹ مئی کے بعد بھی کوئی مرکزی قیادت منظر عام پر نہیں تھی کیا آپ نے ہار مانی تھی؟ پھر آج مایوسی کا سبب کیا ہے؟ کیا آپ کے لیڈر نے آپ سے غداری کی؟ کیا اس نے آپ کی حمیت کا سودا کیا؟ یا آپ کو اس جدوجہد کے علاوہ ��پنی نسلوں کے لیے کوئی اور راستہ سجھائی دے گیا ہے؟
𝐓𝐨𝐝𝐚𝐲, 𝐓𝐎𝐍 𝐒𝐨𝐜𝐢𝐞𝐭𝐲 𝐥𝐚𝐮𝐧𝐜𝐡𝐞𝐬 𝐚 𝐟𝐢𝐫𝐬𝐭 𝐨𝐟 𝐢𝐭𝐬 𝐤𝐢𝐧𝐝 𝐢𝐧𝐢𝐭𝐢𝐚𝐭𝐢𝐯𝐞 𝐭𝐨 𝐮𝐫𝐠𝐞 𝐅𝐫𝐚𝐧𝐜𝐞 𝐭𝐨 #FREEDUROV.
An Open Letter Mini App in Telegram.
Anyone who values privacy and freedom of speech should sign this letter to French authorities. We hope to reach hundreds of millions of signatures.
We urge the French authorities to:
1️⃣ Free Mr. Pavel Durov from detention.
2️⃣ Allow Telegram to protect the freedom of expression and right to private life for its users.
The #DigitalResistance is now. #FREEDUROV.
🆓 𝐀𝐬 𝐚𝐥𝐰𝐚𝐲𝐬, 𝐬𝐡𝐚𝐫𝐞 𝐭𝐡𝐢𝐬 𝐩𝐨𝐬𝐭 𝐮𝐬𝐢𝐧𝐠 #FREEDUROV, 𝐚𝐧𝐝 𝐧𝐨𝐰 𝐬𝐢𝐠𝐧 𝐭𝐡𝐞 𝐎𝐩𝐞𝐧 𝐋𝐞𝐭𝐭𝐞𝐫 𝐢𝐧 𝐓𝐞𝐥𝐞𝐠𝐫𝐚𝐦: https://t.co/GRbGgGA8d8
🚨 #FREEDUROV WITH GOATS 🚨
Raise your flag, lock and load, and let’s defend our freedom—NO ONE can stand in our way! 🐐💣 The GOATS are charging full force, and we’re calling on the most savage warriors to join the fight!
🔥 Here’s the mission:
1⃣Retweet this post—blast it out there!
2⃣Join GOATS & complete #FREEDUROV mission: https://t.co/z7eS2b7s2h
💎 Rewards: 3 lucky winners will take home 5 $TON each!
"The last 1m signature shall be from GOATS!"
#FREEDUROV = #FREEDOM 🐐🚀
I'm in @ChakraChain and @Web3WithBinance's Bitcoin Pre-Staking campaign for @babylon_chain! 💎
Stake your BTCB on Chakra now to secure future Babylon Bitcoin staking rewards and Chakra Prana rewards! 🌟
💡 Join with my invite code:
https://t.co/7P4kOYeatz
جسٹس منیب اختر کا چھکا۔۔۔۔
قاضی فائز عیسیٰ نے پھر جھوٹ بولا کہ پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن نہیں کروائے تھے،
جس پر جسٹس منیب نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی الیکشن کرائے تھے لیکن الیکشن کمیشن نے کہا ٹھیک نہیں ہوئے،پشاور ہائی کورٹ نے کہا ٹھیک ہوئے لیکن سپریم کورٹ میں معاملہ آیا تو سپریم کورٹ نے کہا الیکشن کمیشن کا موقف درست ہے اور بلا چھین لیا