کوئی دو چار دن ہم مسکرانا چھوڑ دیں گے
اسے دل سے لگا کے فاتحانہ چھوڑ دیں گے
کسی کے دیکھ لینے جاں بہ لب ہونے سے پہلے
پلٹ جائیں گے اور یہ شاخسانہ چھوڑ دیں گے
محبت عمر بھر تم سے کریں گے اور تم کو
بزرگوں کے کہے پر عاجزانہ چھوڑ دیں گے
صُراحی کا بَھرم کُھلتا نہ میری تَشنگی ہوتی،
ذَرا تُم نے ، نگاہِ ناز کو ، تکلیف دی ہوتی۔
تُمہاری آرزو کیوں دِل کے ویرانے میں آ پہنچی،
بہاروں میں پَلی ہوتی، ستاروں میں رَہی ہوتی۔
زَمانے کی شِکایت کیا ، زمانہ کِس کی سُنتا ہے،
مگر تُم نے تو ، آوازِ جنوں پہچان لی ہوتی۔