ملتان کے شاہ رکنِ عالم علاقے میں 26 سالہ ساجد نے مبینہ طور پر تین سالہ بے روزگاری اور سماجی طعنوں سے تنگ آ کر اپنی ایم فل کی اسناد اور ڈگریاں چوراہے پر جلا دیں، اور خود کو پیٹرول سے آگ لگانے کی کوشش کی۔
عینی شاہدین کے مطابق وہ نوکری کی تلاش میں بار بار مسترد ہو چکا تھا، اور کئی جگہوں پر سفارش یا رشوت کا مطالبہ کیا گیا۔ موقع پر وہ چیخ رہا تھا کہ ان کاغذات کا کیا فائدہ جب یہ دو وقت کی روٹی بھی نہیں دے سکتے۔ ماچس جلانے ہی لگا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں اور راہگیروں نے اسے روک کر ماچس چھین لی۔ شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا نوجوان کو تھانے منتقل کیا گیا، جہاں اس کے غریب والدین بھی پہنچ گئے۔
یہ واقعہ تعلیمی اسناد اور روزگار کے درمیان بڑھتے ہوئے خلا، اور بے روزگاری سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کی ایک دردناک مثال ہے۔
الصلواۃ والسلام علیک یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم
سرکار کی آمد مرحبا دلدارکی مرحبا
جشن ولادت رو کائنات صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم مبارک
@irumrae مولوی کو خوامخواہ گھسیڑ دیا ہے آپ نے مولوی کسی کو پیسے دینے کے لیے مجبور نہیں کرتا،جو با شرع علماء ہیں ان کی قدر کریں سب کو ایک پلڑے میں نہ رکھیں
@paglii_dewanii تم بدل گئی ہو پہلے جیسی نہیں رہی پہلے جیسی تمھاری ٹویٹ نہیں ،اب فحشی پھیلا رہی ہو،یہ یہ جس کی بھی ویڈیو ہے اس کو تو گناہ ہوگا ساتھ میں آپ بھی برابر کی شریک ہیں
لیں جی نیا فتوی مارکیٹ میں آ گیا ہے۔
محترمہ کہتی ہیں کہ عید کی صبح بیوی کی 3 جگہوں پر بوسہ دیں ورنہ قربانی نہیں ہو گی۔
بندہ پوچھے جس کی بیوی نہ ہو وہ پھر قربانی کیسے کرے؟