اسلام آباد تھانہ ہمک14سالہ بچی سے3بملزمان کی گن پوائنٹ پر زیادتی قرآن پر حلف دیتے ہیں جو کہ رہے ہیں سچ ہے ہماری کوئی نہیں سن رہاپولیس نے درخواست خود لکھی ہمیں کہا جاو اب انکو دیکھ لینگے🫲کیا IG اسلام آباد اس بچی کو انصاف دینگے
@AqdasBhatti7@abbasHQahmed@ia_rajpoot@ICT_Police
مریم نواز کی مثالی پنجاب پولیس اور سی سی ڈی!
بوریوالہ کے رہائشی ساجد علی، جو برسوں دیارِ غیر میں خون پسینہ ایک کر کے اپنے وطن واپس لوٹے تاکہ لاہور میں اپنا کاروبار کر کے ملک کی معیشت میں حصہ ڈال سکیں، انہیں وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کا اپنا ہی ملک ان کے لیے کسی عقوبت خانے سے کم ثابت نہ ہوگا۔ محض 'نام' کی مماثلت کو بنیاد بنا کر لاہور کی شاہدرہ پولیس نے گگو منڈی (367EB) سے انہیں ایک ایسی جعلی ایف آئی آر میں گرفتار کیا جس سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہ تھا۔ ظلم کی انتہا دیکھیے کہ جس تاریخ کو چوری کا وقوعہ دکھایا گیا، ساجد علی اس وقت سرے سے پاکستان میں موجود ہی نہیں تھے بلکہ دبئی میں مقیم تھے، جس کا ناقابلِ تردید ثبوت ان کے پاسپورٹ پر لگی انٹری اور ایگزٹ اسٹیمپس چیخ چیخ کر دے رہی تھیں۔
مگر قانون کے ان ٹھیکیداروں کو انصاف سے زیادہ اپنی جیبیں گرم کرنے کی فکر تھی۔ ثبوت سامنے ہونے کے باوجود ساجد علی کو دو دن تک تھانہ شاہدرہ کی عمارت میں غیر قانونی حراست یعنی حبسِ بے جا میں رکھا گیا، جہاں ان کی تذلیل کی تمام حدیں عبور کر دی گئیں۔ یہ محض ایک غلط فہمی پر مبنی گرفتاری نہیں تھی، بلکہ وردی کی آڑ میں کیا گیا 'اغوا برائے تاوان' کا ایک باقاعدہ منصوبہ تھا، جس کا اختتام اس وقت ہوا جب پولیس نے سی سی ڈی (CCD) کے ذریعے قتل کرنے کی دھمکی دے کر لواحقین کے دلوں میں خوف پیدا کیا اور بالاآخر پانچ لاکھ روپے کی بھاری رشوت لے کر انہیں رہا کیا۔ ایک معزز شہری کو اس کے اپنے گاؤں سے اٹھا کر تھانے میں قید رکھنا اور پھر جان بخشی کے عوض لاکھوں روپے بٹورنا اس بات کا ثبوت ہے کہ کچھ عناصر نے تھانوں کو عقوبت خانوں اور کاروبار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ یہ کیس اعلیٰ حکام کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے کہ وہ وردی میں چھپے ان لٹیروں کا محاسبہ کریں جنہوں نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک بے گناہ شہری کی زندگی اور عزت کو داؤ پر لگا دیا۔
میں ایک اوورسیز پاکستانی ھوں
پاکستان میں میرے 14 سالہ بیٹے کے ساتھ زیادتی ھوئی
پنجاب پولیس تھانہ ماچھیوال مرکزی کردار کو بچانا چاہتی ھے جو کہ ایک بدنام زمانہ کردار ھے
جسکا کام شراب نوشی،نشہ اور ڈکیٹیاں کرنا ھے
میری ارباب اختیار سے انصاف کی اپیل ھے
@PoliceVehari@OfficialDPRPP